دہاڑی مزدور کو انکم ٹیکس نے بھیجا ایک کروڑ کا نوٹس

نوٹ بندی کے دوران ایک دہاڑی مزدور کے بینک کھاتے میں کسی نے 58 لاکھ روپے جمع کیے اور اب اس کو انکم ٹیکس ڈیپارٹمنٹ نے ایک کروڑ روپے کا نوٹس بھیجا ہے

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

ممبئی کے تھانے علاقہ کی جھگی بستی میں رہنے والے بابو صاحب اہیر ایک دہاڑی مزدور ہیں اور وہ تین سو روپے یومیہ کی دہاڑی پر مزدوری کرتے ہیں۔ انکم ٹیکس ڈیپارٹمنٹ نے اس غریب کو 1.05 کروڑ روپے کا نوٹس بھیجا ہے۔ ذرائع کے مطابق نوٹ بندی کے دوران اہیر کے کھاتے میں 58 لاکھ روپے جمع کیے گئے تھے جس کی وجہ سے یہ نوٹس بھیجا گیا ہے۔

انکم ٹیکس ڈیپارٹمنٹ میں ملاقات کے بعد بابو صاحب اہیر نے تھانے پولیس میں اس معاملہ کی شکایت درج کی ہے۔ اہیر کا کہنا ہے کہ اسے معلوم ہی نہیں ہے کہ اس کے کھاتے میں کس نے اور کب یہ رقم جمع کرائی۔ اہیر کی حالت یہ ہے کہ وہ اپنے سسر کے ساتھ ان کی جھگی میں ہی رہتا ہے۔ بابو صاحب اہیر نے بتایا کہ ستمبر 2016 میں اس کو پہلا نوٹس ملا تھا جس کے ذریعہ اسے پہلی مرتبہ پتہ چلا تھا کہ ایک پرائیویٹ بینک میں ان کے نام سے کھلوائے گئے بینک اکاؤنٹ میں نوٹ بندی کے دوران 58 لاکھ روپے جمع کرائے گئے تھے۔

اہیر کو جیسے ہی پہلا نوٹس ملا تو اس نے بینک سے رابطہ کیا تھا اور رابطہ کرنے پر پتہ چلا کہ اس کا پین کارڈ استعمال کر کے بینک اکاؤنٹ کھلوایا گیا تھا۔ اس میں تصویر اور دستخظ غلط استعمال کیے گئے ہیں۔ اس سے یہ بات ثابت ہو گئی تھی کہ بینک اکاؤنٹ کھلوانے کے لئے اس کے پین کارڈ کا استعمال کیا گیا تھا۔ اس نے بتایا کہ ۷ جنوری کو اسے انکم ٹیکس ڈیپارٹمنٹ سے 1.05 کروڑ روپے کا نوٹس ملا ہے۔ اب اہیر کی شکایت پر پولیس نے پورے معاملہ کی جانچ کے حکم دے دیئے ہیں۔

اہیر کے لئے بینک کے چکر لگانا اور پولیس میں شکایت کرنا بھی ایک مسئلہ ہے کیونکہ وہ دہاڑی مزدور ہے اور جس دن اس کو بینک یا پولیس تھانہ جانا ہوتا ہے اس دن کی دہاڑی اس غریب کی ماری جاتی ہے۔ اب یہ ضروری ہے کہ پولیس یہ پتہ لگائے کہ کس شخص نے فرضی دستاویزات پر بینک اکاؤنٹ کھولا اور کس نے یہ بڑی رقم جمع کرائی اور یہ رقم بینک سے کب نکالی گئی۔