ایک ہی دن میں چاندی 17 ہزار روپے مہنگی، سونا بھی بے قابو، آخر اتنی تیزی کیوں؟

سونا اور چاندی مسلسل نئی بلندیاں چھو رہے ہیں اور چاندی ایک ہی دن میں 17 ہزار روپے مہنگی ہو گئی؟ کیا یہ تیزی برقرار رہے گی یا اب گراوٹ آئے گی؟ سرمایہ کاروں کو اس صورتحال میں کیا کرنا چاہیے؟

<div class="paragraphs"><p>علامتی تصویر / اے آئی</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

ہندوستان میں سونے اور چاندی کی قیمتیں بے قابو ہوتی دکھائی دے رہی ہیں۔ ہر گزرتے دن کے ساتھ قیمتی دھاتیں نئی بلندیاں قائم کر رہی ہیں اور رٹیل سرمایہ کاروں سے لے کر بڑے ادارہ جاتی سرمایہ کار تک اس تیزی میں کھل کر حصہ لے رہے ہیں۔ ماہرین کی اکثریت کا ماننا ہے کہ طویل مدت میں سونے اور چاندی کی سمت اوپر ہی رہے گی، اگرچہ قلیل مدت میں منافع خوری کے باعث اتار چڑھاؤ ممکن ہے۔

جمعہ کو کموڈیٹی بازار میں چاندی کی قیمتوں میں غیر معمولی تیزی دیکھی گئی۔ ملٹی کموڈیٹی ایکسچینج آف انڈیا پر 5 مارچ کے وعدہ سودوں میں ایک کلو چاندی 17145 روپے بڑھ کر 240935 روپے پر بند ہوئی۔ دن کے دوران چاندی نے 19 ہزار روپے کی چھلانگ لگا کر 2 لاکھ 42 ہزار روپے فی کلو کی سطح چھو لی، جو اس کی اب تک کی بلند ترین قیمت ہے۔

اسی طرح سونے کے دام بھی مضبوط رہے۔ ایم سی ایکس پر 5 فروری وعدے کے لیے 10 گرام سونا 70 روپے بڑھ کر 139940 روپے پر بند ہوا، جبکہ کاروبار کے دوران قیمت میں تقریباً 1200 روپے کا اضافہ دیکھا گیا۔ سونے نے بھی اسی روز اپنا آل ٹائم ہائی درج کرایا۔


اگر گزشتہ ایک ہفتے پر نظر ڈالی جائے تو قیمتوں میں اضافہ اور بھی نمایاں دکھائی دیتا ہے۔ 19 دسمبر کو 10 گرام سونا 134196 روپے تھا، جو اب تقریباً 1.40 لاکھ روپے کے قریب پہنچ چکا ہے۔ یعنی محض ایک ہفتے میں سونے میں قریب 6 ہزار روپے کی تیزی آئی۔ چاندی میں یہ رفتار کہیں زیادہ رہی، 19 دسمبر کو 2 لاکھ 8 ہزار روپے فی کلو سے بڑھ کر اب 2 لاکھ 40 ہزار روپے تک، یعنی ایک ہفتے میں تقریباً 32 ہزار روپے کا اضافہ۔

ماہرین کے مطابق اس تیزی کے پیچھے کئی عالمی اور مقامی عوامل کارفرما ہیں۔ بین الاقوامی بازار میں سونا اور چاندی ریکارڈ سطحوں پر ہیں، جس کا اثر گھریلو قیمتوں پر بھی پڑ رہا ہے۔ گولڈ اور سلور ای ٹی ایف میں سرمایہ کاروں کی تعداد تیزی سے بڑھی ہے، کیونکہ حصص بازار میں غیر یقینی کے ماحول میں سرمایہ کار محفوظ متبادل تلاش کر رہے ہیں۔ ڈالر کی کمزوری اور فیڈرل ریزرو کی جانب سے شرحِ سود میں ممکنہ کٹوتی کی توقعات نے بھی مانگ کو تقویت دی ہے۔

چاندی کی صنعتی مانگ، خصوصاً الیکٹرانکس اور گرین ٹیکنالوجی جیسے شعبوں میں، تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ اس کے علاوہ جغرافیائی کشیدگی، تیل بازار میں اتار چڑھاؤ اور عالمی تنازعات کے سبب سرمایہ کار خطرات سے بچاؤ کے لیے سونا اور چاندی خرید رہے ہیں۔ مرکزی بینکوں کی جانب سے قیمتی دھاتوں کی بڑھتی خریداری بھی قیمتوں کو سہارا دے رہی ہے۔

کیا کرنا چاہیے؟ ماہرین کا کہنا ہے کہ طویل مدت میں امکانات مضبوط ہیں مگر قلیل مدت میں منافع خوری سے عارضی گراوٹ آ سکتی ہے۔ اس لیے سرمایہ کاروں کو احتیاط برتنی چاہیے اور فزیکل خریداری کے بجائے ای ٹی ایف کے ذریعے مرحلہ وار سرمایہ کاری کو ترجیح دینی چاہیے، تاکہ خطرات کم رہیں اور طویل مدت میں بہتر منافع حاصل ہو سکے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔