عالمی تناؤ کے درمیان سونا اور چاندی نئی بلندیوں پر، قیمتوں نے پھر قائم کیا ریکارڈ
عالمی سیاسی تناؤ، تجارتی ٹیکس کی دھمکیوں اور شرحِ سود میں کمی کی توقعات کے باعث سونا اور چاندی نئی ریکارڈ سطحوں پر پہنچ گئے۔ محفوظ سرمایہ کاری اور صنعتی طلب نے قیمتوں کو مزید سہارا دیا

بڑھتے عالمی تناؤ اور غیر یقینی سیاسی حالات کے درمیان سونے اور چاندی کی قیمتوں میں زبردست اضافہ دیکھنے میں آیا ہے اور دونوں قیمتی دھاتوں نے ایک بار پھر نئی ریکارڈ سطحیں قائم کر لی ہیں۔ گھریلو اور بین الاقوامی منڈیوں میں سرمایہ کاروں نے محفوظ سرمایہ کاری کی طرف تیزی سے رخ کیا، جس کے نتیجے میں قیمتوں کو مضبوط سہارا ملا۔ ممبئی کی کموڈٹی منڈی میں منگل کے کاروباری سیشن کے دوران قیمتی دھاتوں نے گزشتہ تمام ریکارڈ توڑ دیے۔
ایم سی ایکس پر فروری ڈیلیوری والے سونے کی قیمت بڑھ کر ایک لاکھ 47 ہزار 996 روپے فی دس گرام کی تاریخی سطح پر پہنچ گئی، جبکہ مارچ ڈیلیوری والی چاندی تین لاکھ 19 ہزار 949 روپے فی کلوگرام تک جا پہنچی۔ اس سے ایک دن قبل بھی سونے اور چاندی نے نئی بلندیوں کو چھوا تھا، تاہم تازہ سیشن میں دونوں دھاتوں نے ان سطحوں کو بھی پیچھے چھوڑ دیا۔
بین الاقوامی منڈی میں بھی قیمتی دھاتوں کا رجحان مضبوط رہا۔ عالمی ایکسچینج پر چاندی کی قیمت 94 ڈالر فی اونس سے تجاوز کر گئی، جبکہ سونا 4 ہزار 7 سو ڈالر فی اونس کے قریب ٹریڈ کرتا دیکھا گیا۔ عالمی سطح پر یہ اضافہ اس وقت سامنے آیا جب سیاسی بیانات، تجارتی محصولات کی دھمکیوں اور جغرافیائی کشیدگی نے سرمایہ کاروں میں تشویش بڑھا دی۔
ماہرین کے مطابق حالیہ تیزی کی ایک بڑی وجہ عالمی سطح پر بڑھتا ہوا سیاسی تناؤ ہے، جس نے سرمایہ کاروں کو خطرے سے بچنے کے لیے سونا اور چاندی خریدنے پر مجبور کیا۔ اس کے ساتھ ساتھ شرحِ سود میں ممکنہ کمی کی توقعات نے بھی ان دھاتوں کی کشش میں اضافہ کیا ہے، کیونکہ کم شرحِ سود کے ماحول میں غیر سودی اثاثے زیادہ فائدہ مند سمجھے جاتے ہیں۔
چاندی کی قیمتوں میں اضافے کے پیچھے صنعتی طلب بھی ایک اہم عنصر ہے۔ قابلِ تجدید توانائی، برقی گاڑیوں اور الیکٹرانکس کے شعبوں میں چاندی کے استعمال میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، جس سے طلب مضبوط بنی ہوئی ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگرچہ مختصر مدت میں منافع خوری کے باعث قیمتوں میں ہلکی سی اصلاح آ سکتی ہے، تاہم طویل مدت میں سونے اور چاندی کا رجحان مثبت رہنے کی توقع ہے۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔