عالمی کشیدگی اور ڈالر کی کمزوری کے سائے میں سونا اور چاندی نئی ریکارڈ بلندیوں پر
عالمی کشیدگی، ڈالر کی کمزوری اور شرحِ سود میں نرمی کی توقعات کے باعث سونا اور چاندی ملکی و عالمی منڈیوں میں نئی ریکارڈ سطح پر پہنچ گئے، سرمایہ کار محفوظ سرمایہ کاری کی طرف بڑھ رہے ہیں

عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی کشیدگی، امریکی ڈالر کی مسلسل کمزوری اور امریکی فیڈرل ریزرو کی جانب سے آئندہ مہینوں میں شرحِ سود میں نرمی کی توقعات کے باعث منگل کے روز سونے اور چاندی کی قیمتیں تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں۔ ملکی اور بین الاقوامی دونوں منڈیوں میں قیمتی دھاتوں میں زبردست تیزی دیکھی گئی، جس نے سرمایہ کاروں کی توجہ ایک بار پھر محفوظ سرمایہ کاری کی جانب مبذول کرا دی ہے۔
ابتدائی کاروبار میں سونا 2.4 فیصد اضافے کے ساتھ ایک لاکھ 59 ہزار آٹھ سو بیس (159820) روپے فی دس گرام تک پہنچ گیا، جو تارخی بلند ترین سطح ہے۔ اگرچہ بعد میں منافع خوری کے سبب قیمتوں میں معمولی کمی آئی، تاہم مجموعی رجحان مضبوط ہی رہا۔ اسی طرح چاندی نے بھی تمام سابقہ ریکارڈ توڑتے ہوئے تین لاکھ انسٹھ ہزار آٹھ سو (359800) روپے فی کلوگرام کی سطح کو چھو لیا۔
خبر لکھے جانے تک ملٹی کموڈیٹی ایکسچینج میں فروری کنٹریکٹ والا سونا 1.45 فیصد اضافے کے ساتھ ایک لاکھ اٹھاون ہزار تین سو سات (158360) روپے فی دس گرام پر ٹریڈ کر رہا تھا، جبکہ مارچ کنٹریکٹ والی چاندی .84 فیصد اضافے کے ساتھ تین لاکھ پچاس ہزار آٹھ سو چھیانوے (360896) روپے فی کلوگرام تک پہنچ گئی۔
بین الاقوامی منڈیوں میں بھی سونا اور چاندی نئی بلندیوں پر رہے۔ دنیا کے مختلف خطوں میں سیاسی اور معاشی بے یقینی، امریکہ میں سرکاری کام کاج بند ہونے کے خدشات اور صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے نئے بھاری ٹیرف کی دھمکیوں نے عالمی بازاروں میں تشویش کو بڑھا دیا ہے۔ ان عوامل کے باعث سرمایہ کار تیزی سے سونے اور چاندی جیسے محفوظ اثاثوں کی طرف بڑھ رہے ہیں۔
امریکہ میں اپریل ڈیلیوری والے سونے کے فیوچر قریب ایک فیصد اضافے کے ساتھ پانچ ہزار ایک سو تیرہ ( 5113) ڈالر فی اونس تک پہنچ گئے۔ اس دوران ڈالر انڈیکس میں کمی آنے سے غیر ملکی سرمایہ کاروں کے لیے سونا نسبتاً سستا ہوا، جس سے مانگ کو مزید سہارا ملا۔
ماہرین کے مطابق مرکزی بینکوں کی جانب سے سونے کی مسلسل خریداری، نرم مالیاتی پالیسیوں کی امید اور محفوظ سرمایہ کاری کی بڑھتی ہوئی طلب نے قیمتوں کو مضبوط بنیاد فراہم کی ہے۔ اس ہفتے فیڈرل اوپن مارکیٹ کمیٹی کی دو روزہ میٹنگ متوقع ہے، جس میں اگرچہ فوری طور پر شرحِ سود میں تبدیلی کا امکان کم ہے، لیکن سال کے آخر تک متعدد بار کمی کی توقع کی جا رہی ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ آنے والے سیشنز میں بھی قیمتی دھاتوں میں اتار چڑھاؤ کے ساتھ مضبوطی کا رجحان برقرار رہ سکتا ہے۔