ای سگریٹ اور ا ی حقہ پر مکمل پابندی، خلاف ورزی کرنے پر پانچ لاکھ تک کا جرمانہ

حکومت نے ای سگریٹ اور ای حقہ پر مکمل پابندی عائد کرنے کے لئے آرڈی ننس لانے کا فیصلہ کیا ہے جس میں اس کی مینوفیکچرنگ، ایکسپورٹ امپورٹ، نقل و حمل اور تقسیم کرنے پر سزا اور جرمانے کا التزام ہے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

یو این آئی

نئی دہلی: حکومت نے ای سگریٹ اور ای حقہ پر مکمل پابندی عائد کرنے کے لئے آرڈی ننس لانے کا فیصلہ کیا ہے جس میں اس کی مینوفیکچرنگ‘ ایکسپورٹ امپورٹ‘ نقل و حمل اور تقسیم کرنے پر سزا اور جرمانے کا التزام ہے۔

وزیر اعظم نریندرمودی کی صدارت میں مرکزی کابینہ کی آج یہاں ہوئی میٹنگ میں اس آرڈی ننس کو منظوری دی گئی۔ میٹنگ کے بعد وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن اور اطلاعات و نشریات کے وزیر پرکاش جاوڈیکر نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ ای سگریٹ کی مینوفیکچرنگ‘ ایکسپورٹ امپورٹ‘ نقل و حمل اور تقسیم کرنے پر فوری طور پر پابندی عائد کرنے کے لئے آرڈ ی ننس لایا جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ پارلیمنٹ کے اگلے اجلاس میں اس سلسلے میں بل پیش کیا جائے گا۔

تصویر یو این آئی
تصویر یو این آئی

سیتارمن نے بتایا کہ ملک میں ای سگریٹ کی مینوفیکچرنگ نہیں ہوتی اور یہاں فروخت ہونے والی تمام ای سگریٹ درآمد کی جاتی ہے۔ اس وقت ملک میں 150 سے زیادہ فلیور میں 400سے زیادہ برانڈ کے ای سگریٹ فروخت ہورہے ہیں۔ یہ بے بوہوتے ہیں اور اس لئے،پیسیو اسموکر‘ کو پتہ بھی نہیں چلتا اور اس کے جسم میں بھی بڑی مقدار میں نکوٹین پہنچتا رہتا ہے۔

جاوڈیکر نے بتایا کہ ای سگریٹ اور ای حقہ سے متعلق ضابطوں کی پہلی مرتبہ خلاف ورزی کرنے پر ایک سال تک کی سزا اور ایک لاکھ روپے تک کا جرمانہ ہوگا۔ جرم کا اعادہ کرنے پر تین سال تک کی سزا اور پانچ لاکھ روپے تک کے جرمانے کا التزام کیا گیا ہے۔ صرف ذخیرہ اندوزی ہی جرم نہیں ہوگا بلکہ ای سگریٹ سے متعلق تمام سرگرمیاں جرم کے دائرے میں شامل ہوں گی۔

سیتارمن نے اعدادو شمار کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ امریکہ میں ای سگریٹ کے بالواسطہ اثر سے سات لوگوں کے موت کی تصدیق ہوئی ہے۔ وہاں اسکولی طلبہ میں اس کی لت 77.8 فیصد کی شرح سے بڑھ رہی ہے۔ سیکنڈری اسکولوں کے طلبہ میں بھی اس کی لت 48.5فیصد کی شرح سے بڑھ رہی ہے۔امریکہ میں تین کروڑ لوگ اس کے عادی ہوچکے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ نوجوان طبقہ اسے ’کول‘ سمجھتا ہے اور اس لئے اس کی زد میں بہت جلد آجاتا ہے۔ ابتدا میں اس کی تشہیر یہ کہہ کر کی جاتی تھی کہ یہ سگریٹ کی عادت چھڑانے میں مدد کرتا ہے لیکن یہ دیکھا گیا ہے کہ لوگ سگریٹ کے ساتھ ہی ای سگریٹ بھی پیتے ہیں۔

اس سوال پر کہ سگریٹ پر پابندی عائد کرنے کے بجائے صرف ای سگریٹ پر کیوں پابندی لگائی جارہی ہے جب کہ روایتی سگریٹ سے صحت کو زیادہ نقصان ہوتا ہے جاوڈیکر نے کہاکہ سوال کم یا زیادہ نقصان کا نہیں ہے۔ لوگوں میں ایک نئی لت پڑ رہی ہے جسے بروقت روکنا ضروری ہے۔ نوجوانوں کی صحت کے سلسلے میں کوئی خطر ہ نہیں لیا جاسکتا۔

وزیر خزانہ نے پریس کانفرنس میں ای سگریٹ دکھاتے ہوئے کہا کہ اس میں ایک بیٹری ہوتی ہے جسے چارج کیا جاتا ہے۔ اس میں ری فل کارٹیج کا استعمال کیا جاتا ہے۔ اس کی بیٹری کو لیپ ٹاپ یا پاور بینک سے بھی چارج کیا جاسکتا ہے۔ اس میں تمباکو والی سگریٹ کی طرح بو نہیں ہوتی ہے۔

سیتا رمن نے کہا کہ ایمس‘ ٹاٹا میموریل ہاسپیٹل’راجیو گاندھی کینسر اسپتال اور کئی دیگر تنظیموں کی رپورٹ کی بنیاد پر حکومت نے یہ فیصلہ کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ ای سگریٹ سے صحت پر پڑنے والے اثرات کے سلسلے میں پختہ ثبوت نہیں ہیں لیکن کسی نئی چیز کی لت کے لگنے سے پہلے ہی سے روکنا زیادہ بہتر ہوتا ہے۔

next