ریزرو بینک کی بیلنس شیٹ میں حکومت کی دَخل اندازی اچھی بات نہیں، سابق گورنر

دنیا میں کہیں بھی اگر کوئی مرکزی حکومت بینک کی بیلینس شیٹ پر قبضہ کرنا چاہتی ہے تو یہ اچھی بات نہیں ہے، اس سے پتہ چلتا ہے کہ حکومت اس خزانے کو ہضم کرنے کے لئے کتنی بے چین ہے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

قومی آوازبیورو

ریزرو بینک آف انڈیا (آر بی آئی) کے سابق گونر ڈی سبا راؤ نے مرکز کی مودی حکومت پر سخت حملہ بولا ہے۔ سابق گورنر نے کہا ہے کہ ریزرو بینک کی بیلنس شیٹ میں حکومت کی دخل اندازی اچھی بات نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی بینک کے سر پلس کو ہضم کرنے کی کوششوں سے حکومت کی بیتابی کا اندازہ ہوتا ہے۔

سبا راؤ نے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ آر بی آئی کے سر پلس ذخیرہ کی قیمت طے کرتے وقت محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔ بیرونی بازاروں میں سرکاری بانڈ جاری کر کے خزانہ جمع کرنے کے سوال پر سبا راؤ نے کہا کہ اگر بازار کی گہرائی کا اندازہ لگانے کے لئے سرکاری بانڈ جاری کیا جاتا ہے تو انہیں دقت نہیں ہے لیکن بیرونی کرنسی مارکٹ میں مستقل طور پر خزانہ جمع کرنے کے حوالہ سے محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔

سبا راؤ سی ایف اے سوسائٹی آف انڈیا کی ایک تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔ سبا راؤ نے کہا کہ اگر کہیں بھی کوئی حکومت اگر وہاں کے مرکزی بینک کی بیلنس شیٹ کو ہضم کرنے کی فراق میں ہے تو یہ ٹھیک بات نہیں ہے۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ حکومت اس حزانہ کو لے کر کتنی بے تاب ہے۔

سبا راؤ نے کہا کہ مرکزی بینک کے سر پلس میں حصہ لینے کے لئے حکومت کی کوششوں پر اپنی مخالفت کا دفاع کرتے ہوئے سباراؤ نے کہا کہ ریزرو بینک کا خدشہ دیگر مرکزی بینکوں سے الگ ہے۔ اس کے لئے پوری طرح سے بین الاقوامی روایات اور ضوابط پر عمل کرنا پوری طرح سے فائندہ مند نہیں رہے گا۔

آر بی آئی کے سابق گورنر نے یہ بیان ایسے وقت میں دیا ہے جبکہ کہا جا رہا ہے کہ بمل جالان کمیٹی اپنی رپورٹ تیار کرنے کے آخری مرحلہ میں ہے۔ کمیٹی ریزرو بینک کی حسب ضرورت رقم کی شناخت کرنے اور اضافی رقم حکومت کو منتقل کرنے کے طور طریقہ کے حوالہ سے رپورٹ تیار کر رہی ہے۔

ریزرو بینک کے سابق گورنر ارجت پٹیل کے استعفی کے لئے مرکزی بینک کے سر پلس کے حوالہ سے حکومت اور ریزرو بینک کے درمیان کھینچ تان کو اہم وجوہات میں سے ایک مانا گیا ہے۔ سبا راؤ نے کہا کہ بین الاقوامی سرمایہ کار حکومت اور مرکزی بینک دونوں کی بیلنس شیٹ پر غور کرتے ہیں۔ بحران کے وقت قرض دینے کے لئے بین الاقوامی کرنسی فنڈ (آئی ایم ایف) بھی اسی طریقہ کو اختیار کرتا ہے۔

Published: 3 Aug 2019, 3:10 PM