یونین بجٹ 2020: سیتارامن نے دہائی کا پہلا ’دیوالیہ بجٹ‘ پیش کیا، اکھلیش یادو

اکھلیش یادو نے وزیرخزانہ نرملا سیتارمن پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ ’’انہوں نے دانشتہ طور پر لمبی بجٹ تقریر پیش کی تاکہ لوگوں کو اعداد و شمار میں الجھایا جا سکے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

نئی دہلی: سماجوادی پارٹی کے صدر اکھلیش یادو نے پارلیمنٹ میں پیش 21-2020 کے بجٹ کو ’دیوالیہ سرکار کا دیوالیہ بجٹ‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ گرتی معیشت، بے تحاشا بڑھتی ہوئی مہنگائی اور روزگار کے بارے میں کوئی ٹھوس قدم اٹھانے کی بات بجٹ میں نہیں کی گئی۔

اکھلیش یادو نے پارلیمنٹ کے احاطے میں بجٹ پر ردعمل پیش کرتے ہوئے کہا کہ ملک کی خستہ حال معیشت کو دیکھتے ہوئے ملک کے عوام کو بجٹ سے تمام امیدیں تھیں لیکن انہیں مایوسی ہی ہاتھ لگی ہے۔ نیز، اس بجٹ سے غریبوں، کسانوں اور نوجوانوں کی زندگی میں کوئی تبدیلی نہیں آنے والی ہے۔

انہوں نے وزیرخزانہ نرملا سیتارمن پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ ’’انہوں نے دانشتہ طور پر لمبی بجٹ تقریر پیش کی تاکہ لوگوں کو اعداد و شمار میں الجھایا جا سکے۔ مہنگائی کم کرنے اور روزگار دینے کا کوئی التزام نہیں کیا گیا ہے۔‘‘ اکھلیش یادو نے سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ جب لوگوں کی آمدنی ہی نہیں بڑھے گی تو وہ انکم ٹیکس کہاں سے ادا کر پائیں گے!

ایس پی کے سربراہ اکھلیش یادو نے کہا کہ جب ملک کے تاجر جی ایس ٹی کی وجہ سے مر گیا اور نوکریاں ہیں نہیں تو پھر انکم ٹیکس کی سہولت کیوں دی جارہی ہے؟ انہوں نے کہا کہ حکومت تمام اعداد و شمار کو اپنی سہولت کے مطابق تیار کرتی ہے، ہم چاہتے ہیں کہ حکومت ان اعداد و شمار کو پورے ملک کے سامنے پیش کرے۔

اکھلیش یادو نے عام بجٹ اتر پردیش کو نظر انداز کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ ریاست میں سرمایہ کاری کے لئے منعقدہ کانفرنس میں صدر جمہوریہ، وزیر اعظم اور وزیر اعلیٰ نے شرکت کی اس کے باوجود کوئی سرمایہ کاری کے لئے نہیں آیا۔