یورپی گاڑیوں پر درآمدی ڈیوٹی میں کٹوتی کی تیاری، فاکس ویگن، بی ایم ڈبلیو اور مرسڈیز سستی ہونے کا امکان

ہندوستان یورپی یونین کے ساتھ آزاد تجارتی معاہدے کے تحت یورپی کاروں پر درآمدی ڈیوٹی کم کرنے کی تیاری کر رہا ہے، جس سے فاکس ویگن، بی ایم ڈبلیو اور مرسڈیز کی قیمتیں گھٹ سکتی ہیں

<div class="paragraphs"><p>تصویر اے آئی</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

ہندوستان یورپی یونین کے ساتھ مجوزہ آزاد تجارتی معاہدے کے تحت یورپ سے درآمد ہونے والی مسافر گاڑیوں پر بھاری درآمدی ڈیوٹی میں نمایاں کمی کی تیاری کر رہا ہے، جس کے نتیجے میں ووکس ویگن، مرسڈیز بینز اور بی ایم ڈبلیو جیسی معروف یورپی کمپنیوں کی گاڑیاں ہندوستانی صارفین کے لیے نسبتاً سستی ہو سکتی ہیں۔ خبر رساں ایجنسی کے مطابق یہ اعلان آئندہ چند دنوں میں متوقع ہے، تاہم مذاکرات ابھی خفیہ مرحلے میں ہیں اور آخری لمحات میں تبدیلی کا امکان بھی موجود ہے۔

مجوزہ منصوبے کے تحت 15 ہزار یورو سے زائد قیمت والی محدود تعداد میں یورپی مسافر گاڑیوں پر درآمدی ڈیوٹی موجودہ بلند ترین سطح، جو بعض ماڈلز پر ایک سو دس فیصد تک ہے، کم کر کے ابتدائی طور پر چالیس فیصد تک لانے کی تجویز ہے۔ بعد ازاں چند برسوں میں اس ڈیوٹی کو مزید کم کر کے تقریباً دس فیصد تک لایا جا سکتا ہے، جس سے یورپی گاڑی ساز اداروں کو ہندوستانی منڈی تک رسائی میں آسانی ہوگی۔

ہندوستان اور یورپی یونین کے درمیان یہ تجارتی معاہدہ کئی برسوں سے زیرِ بحث ہے اور دونوں فریق اسے ایک اہم پیش رفت کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ حکام کے مطابق اس معاہدے سے دو طرفہ تجارت میں اضافہ ہوگا اور ہندوستانی برآمدات، خصوصاً ٹیکسٹائل اور زیورات کو فائدہ پہنچے گا، جنہیں حالیہ عرصے میں امریکی محصولات کا سامنا رہا ہے۔


فی الحال ہندوستان مکمل تیار شدہ گاڑیوں پر ستر سے ایک سو دس فیصد تک درآمدی ڈیوٹی عائد کرتا ہے، جس کی وجہ سے یہ دنیا کی سب سے زیادہ محفوظ بڑی آٹو منڈیوں میں شمار ہوتا ہے۔ اگرچہ حجم کے اعتبار سے ہندوستان امریکہ اور چین کے بعد تیسری بڑی کار منڈی بن چکا ہے، غیر ملکی کمپنیوں کا کہنا ہے کہ زیادہ ڈیوٹی نئی گاڑیوں کی دستیابی محدود کرتی ہے اور سرمایہ کاری کے فیصلوں میں تاخیر کا سبب بنتی ہے۔

اطلاعات کے مطابق حکومت نے یورپی یونین کے ساتھ معاہدے کے تحت سالانہ دو لاکھ تک اندرونی دہن انجن والی گاڑیوں پر فوری طور پر چالیس فیصد ڈیوٹی عائد کرنے کی تجویز رکھی ہے، تاہم حتمی کوٹہ طے ہونا ابھی باقی ہے۔ بیٹری سے چلنے والی برقی گاڑیوں کو ابتدائی پانچ برس اس رعایت سے باہر رکھا جائے گا تاکہ مقامی کمپنیوں کی حالیہ سرمایہ کاری محفوظ رہ سکے اور مقامی برقی گاڑیوں کا ماحولیاتی نظام مضبوط ہو۔

اس وقت یورپی برانڈز ہندوستانی کار منڈی میں چار فیصد سے بھی کم حصہ رکھتے ہیں، جبکہ سوزوکی موٹر اور ہندوستانی ادارے ٹاٹا موٹرز اور مہندرا اینڈ مہندرا مجموعی فروخت کا بڑا حصہ سنبھالے ہوئے ہیں۔ ماہرین کے مطابق ڈیوٹی میں کمی سے یورپی کمپنیوں کو مسابقتی قیمتوں پر گاڑیاں متعارف کرانے اور مستقبل میں مقامی پیداوار پر غور کرنے کا موقع ملے گا، خاص طور پر ایسے وقت میں جب 2030 تک ہندوستانی منڈی کے سالانہ چھ ملین گاڑیوں تک پہنچنے کی توقع کی جا رہی ہے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔