نوٹ بندی کا مالی ترقی پر کوئی اثر نہیں، مرکزی وزیر کا رجیہ سبھا میں بیان

مرکزی وزیر نے راجہ سبھا میں کہا کہ مالی شرحِ ترقی کی گراوٹ کے لیے نوٹ بندی ذمہ دار نہیں ہے اور جی ڈی پی میں اضافے کے لیے طریقے ڈھونڈے گئے ہیں جن کا اثر جلد ہی نظر آئے گا

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

نئی دہلی: حکومت ہند نے رواں مالی برس کی دوسری سہ ماہی میں مالی شرحِ ترقی کم ہوکر مارچ 2013 سہ ماہی کی نچلی سطح 4.5 فیصد پر آنے کے لیے نوٹ بندی کو ذمہ دار ماننے سے انکار کرتے ہوئے جمعرات کو کہا کہ مجموعی گھریلو پیداوار (جی ڈی پی) میں اضافے کے لیے طریقے ڈھونڈے گئے ہیں جن کا اثر جلد ہی نظر آئے گا۔

شماریات اور پروگرام پر عمل درآمد کے مرکزی وزیر مملکت راؤ اندرجیت سنگھ نے راجیہ سبھا میں وقفہ سوال کے دوران ایک ضمنی سوال کے جواب میں مذکورہ اظہارِ خیال کیا۔

کانگریس کے سینئر رہنما دگوجے سنگھ نے پوچھا تھا کہ کیا نوٹ بندی کی وجہ سے جی ڈی پی تنزلی کا شکار ہوئی کیونکہ جب سنہ 2016 میں نوٹ بندی کی گئی تھی تب سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ نے اس کی وجہ سے جی ڈی پی میں دو فیصد تک کی کمی آنے کی بات کی تھی جبکہ رواں مالی برس کی دوسری سہ ماہی میں سنہ 2016۔17 کی دوسری سہ ماہی کے مقابلے میں نصف سے زیادہ کی گراوٹ درج کی گئی کیونکہ اس وقت شرحِ ترقی آٹھ فیصد سے زیادہ تھی رواں برس کی دوسری سہ ماہی میں کم ہوکر 4.5فیصد پر آگئی ہے۔ اس کا وزیر نے نو(نہیں) میں جواب دیا۔

ایک دوسرے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ سنہ 2012۔13 میں جی ڈی پی 5.5 فیصد، 2013۔14 میں 6.4 فیصد، 2014۔15 میں 7.4 فیصد، 2015۔16 میں 8.0 فیصد، 2016۔17 میں 8.2 فیصد، 2017۔18 میں 7.2 فیصد اور سنہ 2018۔19 میں 6.8 فیصد کی رفتار سے بڑھا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مالی سرگرمیوں میں تیزی لانے کے لیے منصوبے کیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ اور دیگر تنظیموں نے ہندوستان کے تئیں مثبت ظاہر کیا گیا ہے۔ حکومت کی جانب سے کیے گئے منصوبوں سے جلد ہی معیشت میں تیزی آنے کی امید ہے۔