کورونا کی مار: انڈیگو نے توڑی ملازمین کی کمر، سی ای او کا تنخواہوں میں کٹوتی کا اعلان

انڈیگو کے چیف ایگزیکٹو آفیسر رونجوئے دت نے کہا کہ صرف ملازمین کی تنخواہوں میں ہی کٹوتی نہیں کی جا رہی ہے بلکہ اب سے وہ خود بھی 25 فیصد کم تنخواہ لیں گے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

نئی دہلی: ہندوستان کی دو بڑی ایئر لائنز انڈیگو اور وستارا کے حالات لگاتار خراب ہو رہے ہیں اور یہ دونوں اپنی پروازوں کو مکمل بند کرنے پر غور کر رہی ہیں۔ لیکن اس سے پہلے ہی انڈیگو کے چیف ایگزیکٹو آفیسر (سی ای او) رونجوئے دت نے تنخواہوں میں کٹوتی کا اعلان کر کے گویا ملازمین کی کمر ہی توڑ دی ہے۔ سی ای او نے کہا کہ صرف ملازمین کی تنخواہوں میں ہی کٹوتی نہیں کی جا رہی ہے بلکہ اب سے وہ خود بھی 25 فیصد کم تنخواہ لیں گے۔

تنخواہوں میں کٹوتی کا اعلان کرتے ہوئے انڈیگو کے سی ای او نے کہا کہ کورونا وائرس کی وبا سے آمدنی میں خاطر خواہ کمی واقع ہوئی ہے، جس سے ایئر لائن انڈسٹری کا وجود خطرے میں پڑ گیا ہے۔ وہیں، انڈڈیگو کے فلائٹ آپریشن کے سربراہ اسیم میترا نے پائلٹوں کو جمعرات کی صبح بھیجے گئے ایک ای میل میں کہا ہے کہ ہوا بازی شعبے کی معاشی حالت نمایاں طور پر خراب ہو چکی ہے، لہذا آئندہ چند روز میں سخت اقدامات اٹھانے ضروری ہو گئے ہیں۔

واضح رہے کہ کورونا وائرس سے پھیلی عالمی وبا کے پیش نظر دنیا بھر کے ممالک کی سرحدوں کو جزوی طور پر یا مکمل طور پر سیل کرنے کے باعث ہوابازی شعبے کو خاطر خواہ نقصان پہنچا ہے۔ جس کے بعد دنیا بھر کی بیشتر ایئر لائنز نے اپنی پروازوں کی تعداد میں کمی کر دی ہے۔

اسی تناظر نے مترا نے اپنے ای میل میں کہا کہ معاشی صورتحال نمایاں طور پر خراب ہو رہی ہے اور کوئی بھی ایئر لائن اس سے محفوظ نہیں ہے۔ ایشیاء کی سب سے بڑی ایئر لائن انڈیگو نے اپنی پروازوں کی آمد و رفت کو 30 فیصد کم کر دیا ہے۔

دریں اثنا، یونائیٹڈ انک اور برٹش ایئرویز نے حال ہی میں اپنی پروازوں کی صلاحت میں کٹوتی کا اعلان کیا ہے۔ اس کے برعکس ہندوستانی کمپنوں نے تاحال پروازوں میں بڑی کمی سے گریز کیا ہے، تاہم دنیا کے دوسرے سب سے زیادہ آبادی والے ملک ہندوستان میں کورونا سے متاثرہ افراد کی تعداد میں اضافہ کے بعد ایئرلائنز یہ قدم اٹھانے پر مجبور ہوئی ہیں۔

ایئر انڈیا بھی کر سکتی ہے تنخواہوں میں کٹوتی

ادھر، مالی بحران سے دوچار سرکاری ایئرلائنز ایئر انڈیا بھی کورونا وائرس کے پھیلنے کی وجہ سے اپنے ملازمین کی تنخواہوں میں بھی 5 فیصد کمی کر سکتی ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ ایئر انڈیا نے اپنی تمام بین الاقوامی پروازوں کو بند کر دیا ہے اور تمام ملازمین کی تنخواہوں میں کٹوتی کا امکان ہے۔

ایئر انڈیا کے فروخت میں تاخیر کی وجہ سے حکومت کو اس کو چلانے کے لئے 3000 کروڑ روپئے خرچ کرنے کی ضرورت ہے۔ حکومت نے پہلے ہی ایئر انڈیا میں سو فیصد حصص کی خریداری کے لئے کاغذات جمع کروانے کی آخری تاریخ میں 17 مارچ سے 30 اپریل تک توسیع کر دی ہے۔ حکومت نے 2018 کے بعد جنوری 2020 سے ائیر انڈیا کی نجکاری کے لئے دوبارہ سے کوششیں شروع کر دی ہیں۔