کورونا وائرس: سیاحت انڈسٹری میں 3.8 کروڑ لوگوں کی ملازمت پر خطرہ

فیڈریشن آف ایسو سی ایشنز ان انڈین ٹورزم اینڈ ہاسپیٹلٹی کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس کی وجہ سے ملک کی معیشت کو 10 کھرب روپے کے نقصان کا اندیشہ ہے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

کورونا وائرس کی وجہ سے بازاروں کے بند ہونے اور لاک ڈاؤن جیسی حالت کے سبب لوگ گھروں میں ہی رہنا پسند کر رہے ہیں۔ اس وجہ سے ٹورزم انڈسٹری یعنی سیاحت کی صنعت پر زبردست منفی اثر پڑ رہا ہے۔ اس بحرانی دور میں ایک اندازے کے مطابق 70 فیصد یعنی 3.8 کروڑ لوگوں کی ملازمت خطرے میں ہے۔ اس مشکل حالت کو دیکھتے ہوئے فیڈریشن آف ایسو سی ایشنز ان انڈین ٹورزم اینڈ ہاسپیٹلٹی نے پی ایم نریندر مودی کو خط لکھ کر حالات کو سنبھالنے کے لیے مداخلت کی اپیل کی ہے۔ پی ایم مودی کو لکھے گئے خط میں فیڈریشن نے کہا ہے کہ "5 کھرب روپے کی اس صنعت کو نقصان سے بچانے کے لیے کوشش کیے جانے کی ضرورت ہے۔"

میڈیا ذرائع سے موصول ہو رہی خبروں کے مطابق فیڈریشن کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس کی وجہ سے ملک کی معیشت کو 10 کھرب روپے کے نقصان کا اندیشہ ہے۔ اس کی وجہ سے ہندوستانی ٹورزم انڈسٹری بری طرح متاثر ہو سکتی ہے اور بڑے پیمانے پر کمپنیوں کے دیوالیہ ہونے اور کاروباروں کے بند ہونے کا اندیشہ ہے۔ ٹورزم انڈسٹری کا کہنا ہے کہ سفر اور سیاحت سیکٹر سے جڑی کمپنیوں کو لیے گئے قرض کی قسطوں کی ادائیگی میں 12 مہینے کی چھوٹ دی جانی چاہیے۔ اس کے علاوہ ٹیکس میں راحت، کسٹم ڈیوٹی اور پروویڈنٹ فنڈ جیسی چیزوں پر بھی راحت دینی چاہیے۔

فیڈریشن نے پی ایم مودی کو جو خط لکھا ہے اس میں یہ بھی لکھا گیا ہے کہ وزیر اعظم دفتر کو ریاستی سطح پر وصولی جانے والی ایکسائز فیس، لیوی، ٹیکس، پاور اور پانی کے بلوں پر بھی چھوٹ کے لیے دخل دینا چاہیے۔ غور طلب ہے کہ کورونا وائرس کی وجہ سے اٹلی، چین، جاپان، جنوبی کوریا اور ایران سمیت کئی ممالک کے لیے پرواز خدمات بند ہیں۔ تاج محل سمیت کئی سیاحتی مقامات پر سفر کی روک ہے۔ ایسے میں سیاحوں کی تعداد میں زبردست کمی آئی ہے اور اس کا سیدھا اثر ٹریول اینڈ ٹورزم انڈسٹری پر پڑا ہے۔