کورونا کی وبا میں لاکھوں ملازمین اپنی ملازمتوں سے محروم، 9 ماہ میں 71 لاکھ ای پی ایف کھاتے بند

کورونا کی وبا کے سبب پیدا ہونے والے معاشی چیلنجوں سے نمٹنے کے لئے تمام تر کوششوں کے باوجود، لوگوں کے روزگار کو اس بحران نے سخت متاثر کیا ہے، خاص طور پر تنخواہ دار ملازمین بری طرح متاثر ہوئے ہیں

ای پی ایف او دفتر / آئی اے این ایس
ای پی ایف او دفتر / آئی اے این ایس
user

قومی آوازبیورو

نئی دہلی: کورونا کی وبا کے سبب پیدا ہونے والے معاشی چیلنجوں سے نمٹنے کے لئے تمام تر کوششوں کے باوجود لوگوں کے روزگار کو اس بحران نے سخت متاثر کیا ہے، خاص طور پر تنخواہ دار ملازمین بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔ ایمپلائز پروویڈنٹ فنڈ آرگنائزیشن (ای پی ایف او) کے اعداد و شمار سے یہ بات ظاہر بھی ہوتی ہے۔

ای پی ایف او کے اعداد و شمار کے مطابق رواں مالی سال 2020-21 کے پہلے نو ماہ یعنی اپریل تا دسمبر 7101929 پروویڈنٹ فنڈ اکاؤنٹ بند کر دیئے گئے ہیں جو ایک سال قبل اسی عرصے کے دوران بند ہونے والے کھاتوں کی تعداد 6666563 سے 6.5 فیصد زیادہ ہیں۔ یہ معلومات وزیر مملکت (آزادانہ چارج) برائے محنت و روزگار سنتوش گنگوار نے لوک سبھا میں ایک سوال کے جواب میں تحریری جواب میں فراہم کی۔

لوک سبھا کے رکن عبد الخالق کے سوال کے جواب میں وزیر مملکت برائے محنت و روزگار نے ایوان کو بتایا کہ اپریل 2020 سے دسمبر 2020 تک ای پی ایف کے 7101929 کھاتے بند کر دیئے گئے۔

ایک دیگر سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اپریل 2020 سے دسمبر 2020 کے دوران ای پی ایف کھاتوں میں سے 73498 کروڑ روپئے کا اخراج کیا گیا جبکہ 2019 میں اسی مدت کے دوران 55125 کروڑ روپئے واپس لئے گئے تھے۔ مالی سال کے پہلے نو مہینوں کے اعدادوشمار کے مطابق، یہ بات واضح ہے کہ گزشتہ سال اکتوبر میں سب سے زیادہ 1118751 کھاتے بند کیے گئے، جبکہ اس سے قبل ستمبر کے مہینے میں 1118517 کھاتے بند کیے گئے تھے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ملازمین کے پی ایف کھاتے کئی وجوہات کی بناء پر بند ہوتے ہیں، مثلاً ملازمت کے ختم ہو جانے پر یا روزگار سے محروم ہو جانے پر، سبکدوش ہونے پر اور کھی ملازمت تبدیل کرنے پر بھی لوگ پی ایف کھاتوں کو بند کر دیتے ہیں۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


پسندیدہ ترین