کورونا بحران: ملکی وسائل از سر نو جمع کرنا ہوں گے، آر بی آئی گورنر کا بیان

آر بی آئی گورنر نے کہا کہ ملک میں کورونا کی دوسری لہر تباہ کن نظر آ رہی ہے، ایسے حالات میں ملکئ وسائل کو از سر نو جمع کرنا ہوں گے

آر بی آئی گورنر شکتی کانت داس / تصویر یو این آئی
آر بی آئی گورنر شکتی کانت داس / تصویر یو این آئی
user

قومی آوازبیورو

نئی دہلی: کورونا کی دوسری لہر کے درمیان ریزرو بینک آف انڈیا (آر بی آئی) کے گورنر شکتی کانت داس نے بدھ کے روز میڈیا سے خطاب کیا۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں کورونا کی دوسری لہر نے قہر برپا کیا ہوا ہے، ایسے حالات میں ملک کے تمام وسائل کو از سر نو جمع کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ملک کو کورونا کے اس بحران کو پار کرنے کی کوششوں کے ساتھ آگے بڑھنا ہوگا۔

آر بی آئی گورنر نے کہا کہ کورونا کے پھیلاؤ کو روکنے کے لئے جامعہ اور تیز رفتار اقدام اٹھانے کی ضرورت ہے اور ریزر بین تیزی سے بدلتی صورت حال پر نظر بنائے ہوئے ہے۔ انہوں نے کہا کہ آر بی آئی کو نہیں لگتا کہ اپریل 2021 کے شرح نمو کے تخمینہ پر اس لہر سے کوئی فرق پڑے گا۔

کورونا سے متاثرہ کاروباروں کے حوالہ سے انہوں نے کہا کہ کاروباری مقامی اور کنٹنمنٹ کے اقدام کے ساتھ کام کرنا سیکھ رہے ہیں اور تعمیر کے عمل پر بہت کم اثر پڑا ہے۔ خریداروں کی طلب بھی بنی ہوئی ہے۔ انہوں بتایا کہ معمول پر رہنے والے مانسون کی پیش گوئی کے سبب دیہی طلب برقرار رہنے کی امید ہے۔

آر بی آئی نے طبی خدمات کے لئے فنڈ کی دستیابی میں اضافہ کے لئے 50 ہزار کروڑ کی رقومات مہیا کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔ بینک 31 مارچ 2022 تک میڈیکل سروس سیکٹروں کو زیادہ قرض فراہم کر سکتے ہیں۔

واضح رہے کہ حال ہی میں سینٹر فار مانیٹرنگ انڈین اکنامی (سی ایم آئی ای) کی رپورٹ آئی تھی کہ ملک میں کورونا کی دوسری لہر کے سبب 75 لاکھ لوگوں کو اپنی نوکریوں سے ہاتھ دھونا پڑا ہے اور بےروزگاری کی شرح چار مہینے کی بلند ترین سطح 8 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


Published: 05 May 2021, 11:08 AM