اقتصادی پیکیج میں اندیکھی سے تاجر طبقہ بھی مرکزی حکومت سے ناراض!

کنفیڈریشن آف آل انڈیا ٹریڈرس نے ہندوستان کے ان 7 کروڑ تاجروں کی جانب سے حکومت کے خلاف گہری مایوسی اور اشتعال ظاہر کیا ہے، اقتصادی پیکیج کا اعلان کرتے وقت جن کی پوری طرح سے اندیکھی کی گئی ہے

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

یو این آئی

نئی دہلی: کنفیڈریشن آف آل انڈیا ٹریڈرس (کیٹ) کا کہنا ہے کہ وہ ہندوستان کے ان سات کروڑ تاجروں کی جانب سے حکومت کے خلاف گہری مایوسی اور اشتعال کا اظاہر کرتی ہے جنہیں اقتصادی پیکیج کا اعلان کرتے وقت پوری طرح سے نظر انداز کر دیا گیا ہے۔

کیٹ کے صدر بی سی بھارتیہ اور جنرل سکریٹری پروین کھنڈیلوال نے اتوار کو کہا کہ آج ملک کا پورا تاجر طبقہ حکومت کے نظر انداز کرنے پر بےحد ناراض ہے۔ وزیراعظم نریندرمودی نے کئی موقوں پر تاجروں کو معیشت کی ریڑھ کہا ہے اور یہاں تک کہ ان بےحد پریشان حالات میں بھی خوردہ تاجروں نے کورونا سپاہیوں کے طورپر ضروری اشیا کی فراہمی کو یقینی بنایا ہے۔

پھر بھی اقتصادی پیکیج کے سلسلے میں تاجروں کو ایک دم سے نکارے جانے سے ہر تاجر کو بےحد تکلیف ہے اور ملک بھر کا تاجر طبقہ حکومت کے اس امتیازی سلوک پر اپنا احتجاج ظاہرکرتا ہے۔طویل مدت سے زیر التوا اقتصادی پیکیج تیار کرتے وقت حکومت نے تاجروں کو پوری طرح سے درکنار کردیاہے۔کیا حکومت کی نگاہوں میں تاجروں کی یہی اہمیت ہے۔

دونوں نے پوری طرح سے مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کیٹ اس معاملے میں وزیراعظم مودی سے فوری طورپر مداخلت کرنے کا مطالبہ کرےگا۔

لاک ڈاؤن اٹھانے پر تاجر بڑے مالی بحران میں آجائیں گے کیونکہ انہین تنخواہ، سود،بینک قرض، ٹیکس اور مختلف مالی فرائض کی ادائیگی کرنی ہوگی اور اگر حکومت کے ذریعہ تاجروں کے کاروبار کی حفاظت نہیں کی گئی تو یہ امید کی جاتی ہے کہ تقریباً 20 فیصد کاروباریوں کو اپنا کاروبار بند کرنا ہوگا اور دیگر دس فیصد تاجر جو ان 20 فیصد تاجروں پر منحصر کرتے ہیں انہیں بھی اپنا کاروبار بند کرنا ہوگا۔ایسے خراب حالات کے تحت حکومت نے تاجروں کو مدد کرنے سے انکار کردیا ہے۔ یہ افسوس کی بات ہے کہ معیشت کے ایسے اہم شعبہ کی بہت زیادہ اندیکھی کی گئی ہے۔

    Published: 17 May 2020, 7:00 PM