بجٹ 2020: مودی حکومت نے ’ایل آئی سی‘ میں شراکت داری فروخت کرنے کا کیا اعلان

مرکزی وزیر مالیات نرملا سیتارمن نے عام بجٹ پیش کرےت ہوئے ایل آئی سی کے تعلق سے ایک بڑا اعلان کیا۔ انھوں نے کہا کہ حکومت ایل آئی سی کا ’آئی پی او‘ لائے گی اور اس کے ذریعہ اپنی شراکت داری بیچے گی۔

تصویر یو این آئی
تصویر یو این آئی
user

قومی آوازبیورو

مرکزی وزیر مالیات نرملا سیتارمن نے ہفتہ کے روز مودی حکومت کی دوسری مدت کار کا دوسرا بجٹ پیش کیا۔ اس دوران انھوں نے لائف انشورنس کارپوریشن یعنی ایل آئی سی کو برے دور سے نکالنے کے لیے نرملا سیتارمن نے پارلیمنٹ میں کہا کہ ایل آئی سی کا ’آئی پی او‘ لایا جائے گا۔ حکومت ایل آئی سی میں اپنی شراکت داری کو اس ’آئی پی او‘ کے ذریعہ فروخت کرے گی۔ اس کے علاوہ نرملا سیتارمن نے بجٹ میں کہا کہ حکومت آئی ڈی بی آئی بینک میں اپنی شیئر پونجی کا حصہ فروخت کرنے کی تجویز پیش کرتی ہے۔

گزشتہ کچھ وقت میں بینکوں کے دیوالیہ ہونے سے لوگوں کا پیسہ ڈوبنے کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔ اسی کو دیکھتے ہوئے بجٹ 2020 میں اس پر بڑا اعلان کیا گیا ہے۔ اب بینک میں آپ کی 5 لاکھ روپے تک کی پونجی محفوظ رہے گی۔ یعنی بینک کے ڈوبنے پر آپ کے 5 لاکھ روپے تک محفوظ رہیں گے۔ ابھی یہ حد 1 لاکھ روپے کی تھی، جسے بڑھا کر 5 لاکھ کیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ بجٹ سے پہلے اس رقم کو بڑھانے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

غور طلب ہے کہ حکومت کی ملکیت والی بیمہ کمپنی ایل آئی سی بھی برے دور سے گزر رہی ہے۔ ایل آئی سی پر این پی اے کا بوجھ زیادہ ہے۔ عالم یہ ہے کہ مودی حکومت کی پہلی مدت کار میں کمپنی کا این پی اے دوگنا ہو گیا ہے۔ گزشتہ دنوں ایل آئی سی نے اپنی رپورٹ میں کہا تھا کہ 30 ستمبر 2019 تک کل 30 ہزار کروڑ روپے کا مجموعی این پی اے ہے۔ رپورٹ کے مطابق ستمبر 2019 میں ایل آئی سی کا مجموعی این پی اے 6.10 فیصد رہا جو گزشتہ پانچ سالوں میں تقریباً دوگنا ہو گیا ہے۔ اس سے پہلے ایل آئی سی نے ہمیشہ 1.5 سے 2 فیصد کے درمیان ہی مجموعی این پی اے بنائے رکھا تھا۔

اتنا ہی نہیں، قرض کے بوجھ میں دبی ایل آئی سی سے کئی بڑی کمپنیوں نے پیسہ لیا ہوا ہے، لیکن اسے واپس نہیں کیا۔ جس کا نتیجہ یہ ہوا ہے کہ کمپنی کا این پی اے پانچ سال میں دوگنا ہو گیا۔ بقایہ دار کمپنیوں میں ڈکن کرونیکل، ایسار پورٹ، گیمن، آئی ایل اینڈ ایف ایس، بھوشن پاور، ویڈیو کون انڈسٹریز، آلوک انڈسٹریز، ایم ٹریک آٹو، اے بی جی شپیارڈ، یونی ٹیک، جی وی کے پاور اور جی ٹی ایل وغیرہ شامل ہیں۔ ایل آئی سی ان کمپنیوں میں ٹرم لون اور غیر متبادل ڈبنچر کے ذریعہ سرمایہ کاری کرتی تھی۔ ایل آئی سی کے پاس کل 36 لاکھ کروڑ روپے سے زیادہ کی کل ملکیت ہے اور کئی بڑی پرائیویٹ کمپنیوں میں اس کی شراکت داری ہے۔

ہمیشہ منافع میں رہنے والی اس کمپنی کو اب ان پیسوں کے ملنے کی امید بہت ہی کم رہ گئی ہے۔ ایل آئی سی نے اپنی رپورٹ میں صاف کیا تھا کہ ان ڈیفالٹ معاملوں میں سے کئی میں اسے بہت کچھ ملنے کی امید نہیں رہی ہے۔ بیڈ لون کا زیادہ حصہ روایتی بزنس سے جڑا ہے۔ ایل آئی سی کی کتاب کے مطابق 25 ہزار کروڑ روپے کا بیڈ لون انہی کمپنیوں پر ہے۔