عام بجٹ سے دونوں تلگو ریاستوں تلنگانہ اور اے پی کو شدید مایوسی

مرکزی حکومت کی طرف سے سنیچر کے روز پیش کئے گئے عام بجٹ سے دونوں تلگو ریاستوں تلنگانہ اور اے پی کو شدید مایوسی ہوئی ہے

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

یو این آئی

حیدرآباد: مرکزی حکومت کی طرف سے سنیچر کے روز پیش کئے گئے عام بجٹ سے دونوں تلگو ریاستوں تلنگانہ اور اے پی کو شدید مایوسی ہوئی ہے۔ نئے بجٹ میں نہ تو کسی نئے پروجیکٹ کا اعلان نہیں کیا گیا اور یہ ہی جاریہ پروجیکٹس اور ریلوے لائنس کیلئے ہی رقم مختص کی گئی، جس کی وجہ سے ان ریاستوں کے عوام کو مایوسی ہوئی۔

ماہرین کا خیال ہے کہ دونوں ریاستوں میں عنقریب انتخابات نہیں ہونے اور نہ ہی کوئی مرکزی حکومت پر کوئی سیاسی دباؤ تھا، یہی وجہ ہے کہ ان ریاستوں کو اہمیت نہیں دی گئی۔ اے پی کے لئے وشاکھا ریلوے زون کے اعلان کے باوجود اس میں کوئی پیشرفت نہیں ہوپائی ہے۔ مرکزی بجٹ میں وشاکھاریلوے زون کے سلسلہ میں رقمی الاٹمنٹ کی توقع کی جارہی تھی تاہم کوئی رقمی الاٹمنٹ نہ ہوپانے پر وشاکھاپٹنم کے عوام کو مایوسی ہی ہاتھ لگی۔

وشاکھاریلوے زون کی حدود میں بنیادی سہولیات کیلئے ضروری رقمی الاٹمنٹ، زائد ٹریکس سمیت پلیٹ فارمس کی تعمیر کے لئے مرکز کو توجہ دلائی گئی تھی۔ ملک کی کئی ریاستوں کے لئے وشاکھاپٹنم سے نئی ٹرینوں کے آغاز کی یہاں کے شہری توقع کر رہے تھے تاہم ایسا نہیں ہو سکا۔

وشاکھاپٹنم، وجئے واڑہ میٹرو پروجیکٹ کے لئے مرکزی حکومت کے بجٹ میں اعلان نہیں کیا گیا ہے۔ وشاکھاپٹنم۔چنئی صنعتی راہداری کے قیام کے سلسلہ میں بی جے پی کے لیڈروں نے کئی بار یقین دہانی کروائی تھی، اس کا بھی مرکزی بجٹ میں کوئی اعلان نہیں کیا گیا۔سری کلاہستی۔نڈی کُڈی، بنگلورو۔کڑپہ، کوٹی پلی۔نرساپور لائن کے سلسلہ میں بجٹ میں کسی قسم کی وضاحت سامنے نہیں آئی ہے۔

اس مقصد کے لئے حصول اراضی کے فنڈس بھی منظور نہیں کئے گئے۔ گنٹور ریلوے ڈیویثرن کے حدود میں نڈی کُوڑی۔سری کلاہستی ریلوے لائن کے قیام کے لئے حصول اراضی کے لئے معاوضہ کا اعلان بھی نہیں کیاگیا۔ اے پی تنظیم نو قانون میں کہا گیا تھا کہ نو تشکیل شدہ ریاست اے پی کے دارالحکومت کی تعمیر کے لئے مالی مدد کی جائے گی۔ دارالحکومت کے طور پر امراوتی کے اعلان کے بعد زیر زمین ڈرینج کی تعمیر کے لئے 1500کروڑ روپئے ہی الاٹ کئے گئے۔ دارالحکومت کی تعمیر کے لئے فنڈس مختص کرنے کا بجٹ میں کہیں بھی اعلان نہیں کیاگیا ہے۔

متحدہ آندھراپردیش کی تقسیم کے ذریعہ تلنگانہ ریاست کی تشکیل کے موقع پر نئی وجود میں آنے والی ریاست سے کئے گئے وعدوں پر بھی یہ بجٹ خاموش رہا۔ مشن بھاگیرتا، کالیشورم پروجیکٹ، پالمور۔رنگاریڈی پروجیکٹ کی تعمیر کے لئے آنے والے پانچ برسوں میں درکار 52,941 کروڑ روپئے الاٹ کرنے کے لئے وزیر اعلی کے چندرشیکھر راؤ نے مرکزی حکومت سے خواہش کی تھی تاہم اس سلسلہ میں بجٹ میں کوئی بھی اعلان نہیں کیا گیا۔

علاوہ ازیں، قاضی پیٹ ریلوے ویگن کوچ فیکٹری کے قیام کیلئے بھی نمائندگی کے باوجود بھی مرکز نے اس کو بجٹ میں نظر انداز کردیا۔ثقافتی ورثہ کی حامل عمارتوں کے تحفظ کے لئے مرکز کی جانب سے شروع کردہ انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ہیرٹیج اینڈ کنزرویشن اسکیم میں تلگو ریاستوں تلنگانہ اور اے پی کے لئے کوئی رقمی الاٹمنٹ نہیں کی گئی۔ساتھ ہی مرکزی بجٹ میں دونوں ریاستوں کے اہم سیاحتی مقامات کے لئے بھی کوئی رقمی الاٹمنٹ نہیں کیا گیا ہے۔