پٹرول-ڈیزل کو جی ایس ٹی کے دائرے میں لائے حکومت، 77 فیصد شہریوں کی خواہش

جی ایس ٹی کونسل کی 17 ستمبر کو ہونے جا رہی میٹنگ سے قبل لوکل سرکل نے ایک سروے کیا، جس میں لوگوں سے پوچھا گیا کہ کیا وہ چاہتے ہیں کہ پٹرول-ڈیزل کو جی ایس ٹی کے دائرے میں لایا جائے؟

پٹرول ڈیزل / یو این آئی
پٹرول ڈیزل / یو این آئی
user

قومی آوازبیورو

نئی دہلی: پٹرول اور ڈیزل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں سے ہر کوئی پریشان ہے اور سروے کرنے والی کمپنی ’لوکل سرکل‘ کے سروے میں 50 فیصد لوگوں نے کہا ہے کہ مہنگے پٹرول اور ڈیزل کی وجہ سے انہیں اخراجات میں کمی کرنا پڑ رہی ہے۔ ساتھ ہی 77 فیصد شہری چاہتے ہیں کہ حکومت پٹرول اور ڈیزل کو جی ایس ٹی کے دائرے میں لائے، کیونکہ اس سے شہریوں کے معاش زندگی پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔ غورطلب ہے کہ اگر پٹرول اور ڈیزل پر 28 فیصد جی ایس ٹی کی شرح بھی عائد کر دی جائے تو بھی پٹرول کی قیمت 75 روپے فی لیٹر اور ڈیزل کی قیمت 70 روپے فی لیٹر رہ جائے گی۔

سروے کے مطابق 2021 میں پٹرول اور ڈیزل کی بلند ترین قیمتوں کی وجہ سے 2 میں سے ایک کنبہ نے اخراجات میں کمی کی ہے اور 5 میں سے ایک کنبہ نے ضروری اخراجات میں کمی کی ہے۔ پٹرول اور ڈیزل کی بلند ترین قیمتوں سے نمٹنے کے لیے 51 فیصد لوگ اخراجات میں کمی کر رہے ہیں۔ لوک سرکل کے اس سروے میں ملک کے 379 اضلاع سے 7500 سے زائد افراد نے حصہ لیا۔ شرکاء میں 61 فیصد مرد جبکہ 39 فیصد خواتین شامل ہیں۔ 44 فیصد جواب دہندگان کا تعلق اول درجہ کے اضلاع سے، 29 فیصد کا تعلق درجہ دوم سے اور 27 فیصد کا تعلق 3، 4 اور دیہی اضلاع سے تھا۔


خیال رہے کہ جی ایس ٹی کونسل کی میٹنگ 17 ستمبر کو ہونی ہے۔ اگر کونسل کی طرف سے لوگوں کی رائے کے مطابق فیصلہ لیا جاتا ہے تو لوگوں کو پٹرول ڈیزل کی بے تحاشہ قیمتوں سے راحت مل سکتی ہے۔ جی ایس ٹی کا زیادہ سے زیادہ سلیب 28 فیصد ہے اور اس وقت پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں پر تقریبا 55 فیصد ٹیکس عائد کیا جا رہا ہے۔ یکم جولائی 2017 کو جی ایس ٹی کو مرکزی ٹیکسوں میں شامل کیا گیا جیسے کہ ویٹ، ایکسائز ڈیوٹی اور اسٹیٹ ڈیوٹی، جبکہ پانچ پٹرولیم مصنوعات (پٹرول، ڈیزل، اے ٹی ایف، قدرتی گیس اور خام تیل) کو اس کے دائرے سے باہر رکھا گیا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔