معاشی پیکیج پر پانچ دن تک اعلانات کی بارش، مزدور پھر بھی بے یار و مددگار کیوں؟

مودی حکومت نے ان مزدوروں کے لئے ہزاروں کروڑ کے پیکیج، راشن اور بہت ساری اسکیموں کا اعلان کیا ہے۔ تاہم مزدوروں کی ہجرت میں کمی نہیں آ رہی ہے۔ کیونکہ وہ لوگ کسی نہ کسی طرح اپنے گھر لوٹ جانا چاہتے ہیں۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

کورونا وائرس وبا کی روک تھام کے لئے ملک گیر لاک ڈاؤن جاری ہے اور دیگر ریاستوں میں پھنسے مہاجر مزدور اپنی آبائی ریاست میں واپس آنے کے لئے بے چین ہیں۔ یہ مزدور پا پیادہ، ٹرین اور ٹرکوں کے ذریعے اپنے گھروں کو لوٹ رہے ہیں۔ ملک بھر سے مہاجر مزدوروں کی تصاویر آ رہی ہیں۔ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی یہ تصاویر پریشان کن ہیں۔ یہ مزدور ابھی جا رہے ہیں۔ یہ مزدور سڑکوں پر حادثات کا شکار بھی ہو رہے ہیں۔

متعدد ریاستوں کی سرحدوں پر مزدوروں کا جم غفیر امنڈ پڑا ہے۔ مودی حکومت نے ان مزدوروں کے لئے ہزاروں کروڑ کے پیکیج، راشن اور بہت ساری اسکیموں کا اعلان کیا ہے۔ تاہم مزدوروں کی ہجرت میں کوئی کمی نہیں آ رہی ہے۔ کیونکہ وہ لوگ کسی نہ کسی طرح اپنے گھر لوٹ جانا چاہتے ہیں۔ ایسے میں سوال یہ کھڑا ہوتا ہے کہ کیا ان اعلانات کا مزدوروں کو کوئی فائدہ نہیں مل پائے گا؟ تو کیا پانچ دنوں تک ہونے والی پریس کانفرنس میں مزدورں کے لئے کچھ نہیں تھا یا یہ سب کچھ صرف اور صرف دکھاوا تھا؟ اگر مزدوروں کو کوئی بھی پریشانی نہیں ہے تو وہ اپنے گھر جانے پر کیوں مجبور ہو رہے ہیں۔

مزدور مجبوراً کسی بھی طرح اپنے گھر جانا چاہتے ہیں۔ ایسی صورتحال میں بہت سے مزدور حادثات کے شکار بھی ہو رہے ہیں۔ اتر پردیش کے ایودھیا ضلع میں پیر کی صبح ممبئی سے سدھارتھ نگر جا رہا ایک منی ٹرک ایک دوسرے ٹرک سے ٹکرا گیا۔ اس تصادم میں 20 مہاجر مزدور زخمی ہو گئے۔ ایودھیا کے ایس پی آشیش تیواری نے بتایا کہ سات افراد کو ضلع اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے، جبکہ باقی کو ابتدائی طبی امداد کے بعد فارغ کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا ’’دو افراد کے پیروں پر فریکچر ہے جبکہ ایک کی آنکھ میں چوٹ لگی ہے۔‘‘

ادھر، گجرات میں مسلسل 5 ویں مرتبہ مہاجر مزدوروں نے ہنگامہ کیا۔ یہاں احمد آباد میں ہجوم اس وقت مشتعل ہو گیا جب پولیس نے پیدل گھروں سے نکلے سیکڑوں مزدوروں کو روک لیا۔ اس کے بعد مزدروں نے پولیس پر پتھراؤ شروع کر دیا۔ گاڑیاں ٹوٹ گئیں اور پولیس پر پتھراؤ شروع کر دیا۔ مزدوروں نے پولیس کی دو گاڑیاں توڑ دیں۔ اس واقعہ میں پولیس والے زخمی بھی ہو گئے۔

مزدوروں کی نقل و حرکت کی وجہ سے دہلی-یوپی (غازی پور۔ غازی آباد) بارڈر پر جام جیسے حالات ہیں۔ سب سے زیادہ مشکل میں وہ لوگ ہیں جو دہلی سے غازی آباد میں داخل ہو رہے ہیں۔ کیوںکہ سیکڑوں کارکنان جو خصوصی ریل گاڑیوں کے ذریعہ ملک کے دور دراز علاقوں سے دہلی پہنچ چکے ہیں۔ یہ وہ مزدور ہیں جنہیں یا تو غازی آباد میں داخل ہونا ہے، یا پھر غازی آباد کے راستہ دوسری ریاستوں کو جانا ہے۔

یہ صورتحال پچھلے دو تین دن سے جاری ہے۔ غازی آباد پولیس کا کہنا ہے کہ ہم کسی کو بھی جانچ کیے بغیر اپنی سرحد میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دیں گے۔ تفتیش میں وقت لگتا ہے۔ اس ہجوم میں بہت سارے لوگ بھی شامل ہیں جن کو سرحد میں داخل ہونے کے لئے کوئی ویلڈ پہچان بھی نہیں ہے۔ سرحد پر اسی طرح کے لوگوں کی وجہ سے ہجوم بڑھ رہا ہے۔

غازی آباد پولیس کے مطابق دہلی انتظامیہ نے ٹرینوں کے ذریعے آنے والے کارکنوں کو براہ راست بسوں میں بھر کر سرحد پر بھیج دیا۔ ہم سبھی لوگوں کو براہ راست کیسے یو پی میں آنے دیں۔ ان کے پاس دہلی انتظامیہ اور پولیس کی تصدیق ہونی چاہیے۔

Published: 18 May 2020, 8:40 PM