بحرین کے سابق وزیر عبدالنبی الشعلہ کی شاہکار کتاب ’گاندھی اور عرب و مسلم دنیا کے مسائل‘: ایک جائزہ

عبدالنبی الشعلہ نے مہاتما گاندھی کے بارے میں لکھا ہے کہ ’’گاندھی جی جدید تاریخ کے وہ نمایاں مفکر اور پہلے قائد ہیں جنھوں نے دہشت گردی اور تشدد کی خطرناکی کو سب سے پہلے بے نقاب اور واضح کیا۔‘‘

تصویر قومی آواز
تصویر قومی آواز
user

تنویر احمد

موہن داس کرم چند گاندھی یعنی مہاتما گاندھی کی شخصیت اور ان کی سوانح پر لاتعداد کتابیں اب تک منظر عام پر آ چکی ہیں۔ دنیا کی تقریباً ہر زبان میں عدم تشدد کا پرچم بلند کرنے والے اس مہاتما کی زندگی سے جڑے کم و بیش ہر پہلو کو تحریری جامہ عطا کیا جا چکا ہے، اس کے باوجود وقتاً فوقتاً کچھ ایسی کتاب نظر سے گزرتی ہے جو نہ صرف آپ کو پڑھنے کے لیے مجبور کرتی ہے، بلکہ اپنے اندر معلومات کا ایک خزانہ بھرے ہوئی ہوتی ہے۔ ایسی ہی ایک کتاب ہے ’گاندھی اور عرب و مسلم دنیا کے مسائل‘۔ کتاب کے مصنف عبدالنبی الشعلہ ہیں جنھوں نے اولاً عربی زبان میں یہ کتاب لکھی جس کا اردو ایڈیشن 2020 میں شائع ہوا ہے۔

کتاب کے نام سے ظاہر ہے کہ اس میں گاندھی جی کو عرب و مسلم دنیا کے مسائل سے جوڑ کر دیکھنے کی کوشش کی گئی ہے، جو اپنے آپ میں ایک اچھوتا موضوع ہے۔ کتاب کی اہمیت و افادیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ مصنف عبدالنبی الشعلہ بحرین کے وزیر رہ چکے ہیں اور اس سے پہلے انھوں نے ہندوستان میں کافی وقت گزارا۔ وہ 1969 میں ہندوستان آئے جب مہاتما گاندھی کا 100واں یوم پیدائش کا جشن منایا جا رہا تھا۔ پھر چار سال ہندوستان میں رہ کر ممبئی یونیورسٹی سے پالیٹکل سائنس اور پبلک ایڈمنسٹریشن میں اپنی پڑھائی مکمل کی۔ بحرین واپسی کے بعد عبدالنبی الشعلہ نے تحریر و تصنیف کا سلسلہ جاری رکھا جس کا ایک بہترین نمونہ ’گاندھی اور عرب و مسلم دنیا کے مسائل‘ کی شکل میں آپ کے سامنے ہے۔

اس کتاب کی فہرست سے پہلے ہی مہاتما گاندھی کے کچھ اقوال پیش کیے گئے ہیں جن میں سے ایک یہ ہے کہ ’’مجھے اس بات پر مکمل طور پر شرح صدر حاصل ہو گیا ہے کہ اسلام نے تلوار کے بل پر یہ مقام و مرتبہ نہیں حاصل کیا ہے بلکہ یہ رسول کی سادگی، ان کا ایفائے عہد، اپنے صحابہ و متبعین کے لیے ان کا اخلاص اور قربانی، اور اپنے رب اور اپنی رسالت پر کامل یقین کے ساتھ ساتھ ان کی شجاعت، یہ وہ صفات تھیں جنھوں نے راستے کو آسان کیا اور دشواریوں کو ہموار کیا، اس میں تلوار کا کوئی کردار نہیں تھا۔‘‘ (مہاتما گاندھی، 1921)

اس قول سے مذہب اسلام کے بارے میں مہاتما گاندھی کا نظریہ ابھر کر سامنے آتا ہے اور آگے کئی مقامات پر مصنف نے اسلام اور مسلمانوں کے تعلق سے ان کی سوچ ظاہر کی ہے۔ لیکن ایک بڑی بات جو مصنف نے لکھی، وہ یہ ہے کہ عرب دنیا کو گاندھی جی کے دکھائے راستے پر چلنا ہوگا۔ اپنے مقدمہ میں عبدالنبی الشعلہ لکھتے ہیں کہ ’’جس امن، رواداری، محبت اور باہمی میل جول کی مہاتما گاندھی نے دعوت دی اور جس کی عملی مثال انھوں نے قائم کی، اس کی دوسری اقوام اور خطوں سے زیادہ ہم کو یعنی ہماری عرب اقوام، عرب امت اور عرب سرزمین کو ضرورت ہے۔ اسی طرح ہماری شدید ضرورت ہے کہ ہم آپسی جنگ و قتال اور فتنوں کی لپیٹ سے باہر نکلیں، اور اس کے لیے دہشت گردی، تشدد اور خون خرابے کے خلاف گاندھی کی طرح بار بار پوری قوت کے ساتھ آواز اٹھانی ہوگی۔‘‘

دراصل مصنف نے اس کے کتاب کے ذریعہ مہاتما گاندھی کے دکھائے ہوئے راستے اور ان کے اصولوں کو عرب عوام تک پہنچانے کی کوشش کی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ واضح لفظوں میں لکھتے ہیں ’’عرب دنیا کافی عرصے سے دہشت گردی، تشدد اور خون خرابے کے سنگین اور بدترین حالات کا سامنا کر رہی ہے، اور ان حالات کو دین کے نام دیے جانے والے وہ مقالات اور خطابات تقویت پہنچانے اور خوراک دینے کا کام کر رہے ہیں، جو نفرت، دشمنی اور سماجی انتشار کے لیے بھڑکاتے ہیں، جو خون خرابے اور قتل و غارت گری پر ابھارتے ہیں، جو قتل و خون کے لیے جواز فراہم کرتے ہیں اور انہیں فخر، شجاعت اور اطمینان کے ساتھ انجام دینے پر اکساتے ہیں اور انھیں خوب خوب اجر کا جھانسہ دلاتے ہیں۔‘‘ پھر وہ کہتے ہیں ’’ان سخت اور بدترین حالات میں بہت ہی ضروری ہے کہ آسمانی پیغام کو بلند آواز سے سامنے لایا جائے، عقلا اور حکماء کے حکیمانہ پیغام کو عام کیا جائے۔ یقیناً اس میں سرفہرست مہاتما گاندھی اور ان کا ٹھوس فکری سرمایہ بھی ہے۔‘‘

عبدالنبی الشعلہ
عبدالنبی الشعلہ

عبدالنبی الشعلہ گاندھی جی کے عدم تشدد سے بہت متاثر نظر آتے ہیں۔ کتاب میں جگہ جگہ وہ ایسے واقعات اور حوالے پیش کرتے ہیں جس سے تشدد اور دہشت گردی کے تئیں ان کی نفرت عیاں ہوتی ہے۔ ایک جگہ لکھتے ہیں ’’گاندھی جی جدید تاریخ کے وہ نمایاں مفکر اور پہلے قائد ہیں جنھوں نے دہشت گردی اور تشدد کی خطرناکی کو سب سے پہلے بے نقاب اور واضح کیا، جب کہ صورت حال یہ ہے کہ یہ دونوں الفاظ ہمارے زمانے میں عالمی سیاسی رہنماؤں اور خطیبوں کے لیے ایک مستقل اور آسان موضوع گفتگو بن گئے ہیں۔ گاندھی جی نے تشدد کو اصول اور طریقہ کار دونوں سطح پر اول دن سے رد کیا، حتیٰ کہ مبنی بر انصاف مطالبات کے حصول کے لیے بھی اس کے استعمال کو رد کیا۔‘‘

میان تعلقات اور اس میل کو رد کیا۔اے براکساتے ہی وہ واین کو ۔ اپنے مقدمہ مییہ وہ ’ہند و عرب تعلقات کی بنیادیں‘ عنوان سے مصنف نے ایک باب قائم کیا ہے جس میں عرب ممالک سے تعلق رکھنے والے سیاسی قائدین و مفکرین مہاتما گاندھی سے بے انتہا متاثر نظر آتے ہیں۔ ایک واقعہ کا تذکرہ کرتے ہوئے مصنف نے لکھا ہے کہ ’’جب گاندھی جی 1931 میں سمندر کے راستے گول میز کانفرنس میں شرکت کرنے اور ہندوستان کی آزادی کے مسئلہ پر گفتگو کرنے کے لیے لندن جا رہے تھے، تو راستے میں نہر سوئز سے گزرتے ہوئے ان کا جہاز ’بور سعید بندرگاہ‘ پر لنگر انداز ہوا۔ اس موقع پر مصر کے ادبا، مفکرین، سیاسی رہنماؤں اور قائدین نے گاندھی جی کا پرتپاک استقبال کیا، اس وقت ان لوگوں نے گاندھی جی کو جس طرح ہاتھوں ہاتھ لیا اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ ان اصولوں سے کس قدر لگاؤ رکھتے تھے جن پر گاندھی جی کو یقین بھی حاصل تھا اور جن کی گاندھی جی تبلیغ بھی کرتے تھے۔‘‘

اس سچائی سے انکار ممکن نہیں کہ گاندھی جی کو صرف ہندوستان کے مسلمان ہی نہیں، پوری دنیا کے مسلمان عزت کی نگاہ سے دیکھتے تھے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہندوستان میں کئی مواقع پر گاندھی جی نے مسلمانوں کی آواز بلند کی۔ خلافت تحریک جب 1919 میں شروع ہوئی تو، اس وقت بھی مہاتما گاندھی ہندوستانی مسلمانوں کے ہمدرد ثابت ہوئے۔ ’ہندو اور مسلم اختلاف اور تصادم‘ عنوان کے تحت صفحہ 278 پر لکھا گیا ہے کہ ’’گاندھی جی کی خواہش تھی کہ تحریک خلافت کے سلسلے میں ملک کے مختلف شہروں میں مسلمان جو بھی سرگرمیاں یا اجتماعات منعقد کر رہے ہیں، ان میں وہ بھی شریک ہوں۔ چنانچہ گاندھی جی ان پروگراموں میں شریک ہوئے اور وہاں انھوں نے خطاب کیا، اور اس بات کو علی الاعلان کہا کہ خلافت عثمانیہ کے سقوط کے بعد سرزمین عرب کی تقسیم در تقسیم کے سلسلے میں جو منصوبہ بنایا گیا ہے وہ دنیا بھر کے مسلمانوں کی عظمت پر تھپڑ رسید کرنے جیسا ہے۔ اسی طرح گاندھی جی نے ہندوستانی ائسرائے کو خط میں لکھا کہ ایک ہندو ہوتے ہوئے میں ان کے (مسلمانوں کے) کاز کا انکار نہیں کر سکتا۔ آگے اسی خط میں لکھا کہ ’’ان کے غم ہمارے غم ہیں۔‘‘

بہر حال، گاندھی جی کا قتل تاریخ میں ایک اندوہناک واقعہ کی شکل میں درج ہے، اس قتل کو مصنف نے دردناک اور تکلیف دہ قرار دیا اور قتل کی وجہ مسلمانوں سے ان کی انسیت کو ٹھہرایا۔ ’گاندھی جی کا قتل‘ عنوان کے تحت عبدالنبی الشعلہ نے قاتل ناتھو رام گوڈسے کا اقبالیہ جرم تحریر کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ’’میں نے انھیں مسلمانوں کے ساتھ مستقل مراعات کی وجہ سے قتل کیا۔‘‘

’گاندھی اور عرب و مسلم دنیا کے مسائل‘ بھلے ہی عرب عوام کو پیش نظر رکھتے ہوئے لکھی گئی ہو، لیکن رشیدہ ظفر کی مرتبہ اور عاکف بک کارنر (نئی دہلی) سے شائع یہ کتاب دنیا کے ہر خطے میں عدم تشدد کا پیغام پہنچانے کی دعوت دیتی ہے اور اس کا مطالعہ ہر انسان کے لیے علم میں اضافے کا سبب بنے گا۔ خصوصی طور پر اس کتاب کا آخری پیراگراف معنی خیز اور فکر انگیز ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ’’گاندھی جی مرے نہیں، اور قاتل کی گولیاں ان کے اصول اور اقدار کو اُچکنے میں ہرگز ہرگز کامیاب نہیں ہو سکیں۔ ان کا قاتل بھی نہیں مرا، پھانسی کا پھندا اس کے افکار و خیالات کو بھی ختم نہیں کر سکا، گاندھی جی کا قاتل ان بڑے مجرموں اور قاتلوں میں شامل ہو گیا جو دین کے نام پر اور الٰہی احکام کے نفاذ پر آج بھی قتل کر رہے ہیں اور پہلے بھی کرتے رہے ہیں۔‘‘

پسندیدہ ترین
next