معروف اداکار منوج کمار نےتشدد کو کیوں ترک کر دیا تھا؟

منوج کمار کی فنکاری کاایک پہلو یہ بھی ہے کہ وہ اپنی فلموں کی کہانیاں خود اردو میں قلم بند کرتے ہیں اورساتھ ہی ساتھ وہ ایک اچھے شاعر بھی ہیں۔

تصویر ٹوئٹر @being_battalion
تصویر ٹوئٹر @being_battalion
user

یو این آئی

بالی ووڈفلم انڈسٹری میں منوج کمار کا نام ایسے عظیم فنکاروں کی فہرست میں شامل ہوتا ہے جنہوں نے اپنی بے مثال اداکارانہ صلاحیتوں سے ناظرین کے دلوں میں اپنا ایک مخصوص مقام بنایا ہے۔ منوج کمار،اصل نام ہر ی کرشن گوسوامی، وہ شخصیت ہے جس نے نہ صرف فلم سازی بلکہ ہدایت کاری،کہانی کار اور مکالمہ نگاری سے ناظرین کے دلوں میں اپنی ایک خاص شناخت بنائی۔ منوج کمار نے یوں تو 50 سے بھی کم فلموں میں اپنی اداکاری کے جوہر دکھائے۔ سال 1957سے 1962 تک منوج کمار فلم انڈسٹری میں اپنی جگہ بنانے کے لئے جدوجہد کرتے رہے اور آخر کار ان کی جدوجہد کام آئی اور فلم ’’فیشن‘‘ سے انھوں نے اپنے فلمی کریئر کا آغاز کیا۔اس کے بعد انہیں جو بھی کردار ملا اسے وہ ہاتھوں ہاتھ لیتے گئے۔ لیکن ان کی کچھ فلمیں ایسی بھی ہیں ،جس میں بحیثیت اداکار، ہدایت کار، پروڈیوسر، اسکرپٹ رائٹر کے طور پر نظر آئے ۔

منوج کمار کی پیدائش 24 جولائی 1937 کو پاکستان کے ایبٹ آباد شہر میں ہوئی تھی۔ ملک کی تقسیم کے بعد ان کا خاندان راجستھان کے ہنومان گڑھ ضلع میں بس گیا تھا۔ نہایت دشوار گزار وقت کا سامنا کرتے ہوئے گرتے پڑتے، بے سروسامانی کی حالت میں یہاں پہنچے؛ نہ گھر، نہ ٹھکانہ اور نہ ہی کوئی دوست۔ انہوں نے ایک مہاجر کیمپ میں قیام کیا۔ ان کی معصوم بہن، جو ان کا کھلونا بھی تھا، غذائی قلت اور غیر صحت مند ماحول کے باعث بیمار پڑگئی، ہسپتال پہنچے تو حالات بگڑے ہوئے تھے، ڈاکٹر کم مریض زیادہ، مسائل بے شمار تھے، ایسے میں مہاجر اور بے شناخت مریض کو کون پوچھتا۔ معصوم بہن کی چیخ و پکار نے انہیں ہلادیا۔ وہ آپے سے باہر ہوگئے۔ ڈنڈا اٹھاکر ڈاکٹر، نرس، پولیس اہلکار الغرض سب پر برس پڑے۔ یہ ان کی زندگی کا پہلا اور آخری تشدد ثابت ہوا۔ لیکن ان کے والد نے انہیں سمجھایا، کہ تشدد سے تشدد جنم لیتا ہے اور ہم تشدد کی ہی پیداوار ہیں، اس لیے وعدہ کرو کبھی بھی ہاتھ کا استعمال نہیں کروگے، ہمیشہ محبت اور نرمی کا مظاہرہ کروگے۔

منوج کمار نے وعدہ کرلیا اور ان کی پوری زندگی اس بات کی شاہد ہے کہ انہوں نے کبھی کسی سے اونچی آواز میں بات بھی نہیں کی ۔ہسپتال سے جب گھر پہنچے تو بہن اس دنیا میں نہیں رہیَ۔ بہن کا صدمہ نے انہیں توڑ کر رکھ دیا۔ بقول منوج کمار "جب میری بہن کو دفن کیا جارہا تھا تو مجھے ایسا لگا جیسے میری زندگی کا ایک بڑا حصہ دفن ہونے جارہا ہے، میرا وجود مجھے خود پر بوجھ سا لگنے لگا۔ منوج کمار کی طبیعت میں اس حادثہ کے بعد انکساری اور عاجزی آگئی تھی۔ ان کے اپنے رفقا کے ساتھ ہمدردی کا رویہ نہایت نرم ہوگیا۔ جس زمانے میں وہ فلم انڈسٹری میں اپنے قدم جمانے کی کوشش کررہے تھے اسی دوران ان کے دوست اور ساتھی دھرمیندر تقریباً مایوس ہوچکے تھے۔ ایک دن تو وہ بوریا بستر باندھ کر جانے کو تھے لیکن منوج کمار نے انہیں زبردستی روک کر امید برقرار رکھنے کی تلقین کی۔ ان کی یہ تلقین رنگ لائی اور ہندی سینما کو دھرمیندر جیسا سدابہار فن کار نصیب ہوا۔ اگر منوج کمار ان کو نہ روکتے تو "شعلے” ، "میرا گاؤں میرا دیش” اور "آنکھیں” جیسی فلمیں پردہ سیمیں کی رونق نہ بن پاتیں۔

ان کی متعدد فلموں کی فہرست ایسی ہے جس نے منوج کمار کو شہرت کی بلندیوں تک پہنچا دیا۔ ان فلموں میں اپکار، شور، روٹی کپڑااور مکان ،سنتوش ،پورب پچھم ،کلیگ اوررامائن ،کرانتی، جئے ہند،پینٹر بابو اورکلرک وغیرہ شامل ہیں۔ منوج کمار کی فنکاری کاایک پہلو یہ بھی ہے کہ وہ اپنی فلموں کی کہانیاں خود اردو میں قلم بند کرتے ہیں اورساتھ ہی ساتھ وہ ایک اچھے شاعر بھی ہیں۔کیونکہ ان کے والد پنڈت ہربنس لال گوسوامی اردو فارسی کے ایک نامور شاعر تھے۔ان کے کلام کا جلوہ اس وقت دیکھنے کو ملا جب وہ صرف پانچویں جماعت کے طالب علم تھے۔ اگر ان کے ماضی کی طرف نظر ڈالیں تو ہمیں اس بات کا احساس ہوگا کہ وہ کسی ہیرو کے نہ تو بیٹے تھے اور نہ ہی کسی ہدایت کار کے رشتہ دار ۔ فلم انڈسٹری کا قلعہ فتح کرنا ان کے لیے تقریباً تقریباً ناممکن تھا۔ پہاڑ جیسی ہمت رکھنے والے ان کے والدین نے انہیں تعلیم دے کر قابل بنایا۔

تعلیم سے فراغت پانے کے بعد وہ ممبئی آگئے۔ یہاں آکر مسلسل دوڑ دھوپ میں لگے رہے اس کے بعد 1957 میں انہیں فلم "فیشن” میں اداکاری دکھانے کا موقع ملا مگر اس فلم میں انہیں ایک ضعیف العمر شخص کا کردار دیا گیا تھا۔ دوسال تک دھکے کھانے، چھوٹے موٹے رول کرنے اور ایک آدھ نچلے درجے کی فلمیں کرنے کے بعد ان کو فلمی صنعت میں قدم رکھنے کی جگہ مل گئی۔ مگر تاحال کامیابی ان سے کوسوں دور تھی۔ سال 1961 میں ان کی یکے بعد دیگرے تین فلمیں آئیں: "ریشمی رومال” ، "کانچ کی گڑیا” اور "سہاگ سندور”…..ان فلموں میں ان کی چاکلیٹی اداکاری پُرکشش رہی مگر کمزور اسکرین پلے کے باعث ان فلموں کو کوئی خاص کامیابی نہ مل سکی۔

ان کی ہمت، ثابت قدمی اور شکست نہ ماننے کا ثمر ان کو 1962 میں ملا جب انہوں نے ایک نہیں، دو بہترین فلموں کے ساتھ خود کو بطور چاکلیٹی ہیرو کے طور پر منوایا "ہریالی اور راستہ” و "شادی” جیسی خوبصورت فلموں کے ذریعے انہوں نے بالآخر وہ مقام پالیا جس کا خواب انہوں نے دلیپ کمار کی "شبنم” دیکھنے کے بعد آنکھوں میں بُننا شروع کیا تھا۔ اس کے بعد انہوں نے پلٹ کر نہ دیکھا۔ ایک کے بعد ایک کامیاب فلمیں منظر عام پر آئیں۔ "نقلی نواب” ، "گھر بساکے دیکھو” ، "وہ کون تھی” اور سب سے بڑھ کر عظیم انقلابی رہنما کامریڈ بھگت سنگھ کی زندگی پر مبنی فلم "شہید۔ اس فلم میں انہوں نے حقیقی بھگت سنگھ بن کر دکھایا۔ اس وقت کے وزیر اعظم لال بہادر شاستری اس فلم سے بے انتہا متاثر ہوئے۔ انہوں نے "شہید” کی ٹیم سے دہلی میں ملاقات کرکے منوج کمار سے سرکاری نعرے "جے جوان، جے کسان” پر مبنی فلم بنانے کی خواہش ظاہر کی۔ منوج کمار نے ان کی اس خواہش کو چیلنج کے طور پر قبول کرلیا۔ بس پھر کیا تھا ، ممبئی پہنچتے پہنچتے ان کے ذہن میں فلم کا خاکہ بن چکا تھا۔ اس خاکے کو فلم کا روپ دینے میں انہیں مزید دو سال لگے۔ ان دوسالوں میں "ہمالیہ کی گود میں” ، "دوبدن” اور "پتھر کے صنم” جیسی سدا بہار فلموں کے ذریعے وہ فلم بینوں کے دل و دماغ میں جگہ بنا چکے تھے۔ جے جوان جے کسان ، فلم نے ہندی سینما کو ایک نیا رنگ دیا، ایک نئی راہ دکھائی۔اس کے بعدان کی معروف فلم اپکار نے خوبصورت ہدایت کاری، اداکاری، نغموں اور اسکرین پلے کے سبب ہندی سینما میں ایک مخصوص مقام بنایا جو بالی ووڈ کی تاحال پچاس بہترین فلموں میں سے ایک گنی جاتی ہے۔

فلم‘‘ اپکار” نے ایک نئے منوج کمار کو جنم دیا اور وہ تھے بھارت کمار”…..اس فلم میں منوج کمار کا نام بھارت کمار تھا اور اس کے بعد انہوں نے جتنی بھی فلمیں بنائیں ان میں انہوں نے اپنا نام "بھارت کمار” ہی رکھا جو بعد ازاں ان کی پہچان بن گیا۔ اس کے بعد انہوں نے جتنی بھی فلمیں ہدایت کیں ان میں حب الوطنی کا رنگ چھایا رہا "پورب پچھم” ، "روٹی کپڑا اور مکان” ، "کرانتی” ، "دیش واسی” اور "کلرک” وغیرہ۔ صرف فلم "شور” میں انہوں نے کچھ الگ کر دکھایا جس کے باعث فلم ہٹ رہی۔ ہدایت کاری، پروڈکشن اور اسکرپٹ رائٹر کی حیثیت سے گوکہ وہ چار لیکن بہترین فلموں سے آگے نہ بڑھ سکے، البتہ اداکاری کے شعبے میں انہوں نے اپنے اس مقام کو برقرار رکھا جو "ہریالی اور راستہ” سے انہیں ملا۔ انہوں نے بعض فلموں پر گہری چھاپ چھوڑی۔ دلیپ کمار اور وحیدہ رحمان کے ساتھ ٹرائنگل رومانٹک اور ٹریجڈی ڈرامہ "آدمی” ؛ وحیدہ رحمان، راجکمار اور بلراج ساہنی کے ساتھ "نیل کمل” علاوہ ازیں راج کپور، راجندر کمار اور دھرمیندر پر مشتمل کلاسیک "میرا نام جوکر” جیسی فلموں کو بجا طور پر شاہکار قرار دیا جاسکتا ہے۔ جن میں انہوں نے سینئر ترین اداکاروں بالخصوص اپنے گرو دلیپ کمار اور لیجنڈ راج کپور کے سامنے جم کر اداکاری کے جوہر دکھائے اور میلہ لوٹ لیا۔ آج منوج کمار فلمی دنیا سے کنارہ کش ہوکر ریٹائرمنٹ کی زندگی گزار رہے ہیں۔ گذشتہ سال فلمی صنعت نے ان کی لازوال خدمات کا اعتراف کر کے انہیں بھارت کی فلم انڈسٹری کے سب سے بڑے اعزاز "دادا صاحب پھالکے ایوارڈ” سے نوازا، جس کے وہ بجا طور پر مستحق ہیں۔

    next