وجینتی مالا 93 برس کی ہوئیں، اداکاری، رقص اور سیاست میں بنائی منفرد پہچان
ہندوستانی سنیما کی اولین خاتون سپر اسٹارز میں شامل وجینتی مالا آج 93 برس کی ہو گئیں۔ اداکاری، بھرت ناٹیم اور سیاست میں نمایاں مقام بنانے والی وجینتی مالا کو پدم شری اور پدم وبھوشن سے نوازا جا چکا ہے

ہندوستانی سنیما کی اولین خاتون سپر اسٹارز میں شمار ہونے والی معروف اداکارہ اور کلاسیکی رقاصہ وجینتی مالا آج 93 برس کی ہو گئیں۔ اداکاری، بھرت ناٹیم، رقص اور بعد ازاں سیاست کے میدان میں اپنی منفرد شناخت بنانے والی وجینتی مالا کا شمار ان فن کاروں میں ہوتا ہے جنہوں نے ہندوستانی سنیما کے ایک پورے دور پر گہرا اثر چھوڑا۔ ان کی سب سے بڑی خصوصیت یہ رہی کہ انہوں نے فلمی اداکاری اور کلاسیکی رقص کو ایک دوسرے سے جوڑ کر دونوں کو نئی مقبولیت عطا کی۔
جنوبی ہندوستان میں 13 اگست 1933 کو پیدا ہونے والی وجینتی مالا کو بچپن ہی سے فنون لطیفہ کا ماحول ملا۔ ان کی والدہ وسندھرا دیوی خود اداکارہ اور معروف رقاصہ تھیں۔ وجینتی مالا نے کم عمری میں ہی بھرت ناٹیم کی تربیت حاصل کی اور رقص میں غیر معمولی صلاحیت کا مظاہرہ کیا۔ انہوں نے محض پانچ برس کی عمر میں پوپ کے سامنے رقص پیش کیا تھا۔ ان کی رقص کی تربیت اور اسٹیج پرفارمنس نے آگے چل کر ان کے فلمی سفر کی بنیاد مضبوط کی۔
وجینتی مالا نے کم عمری میں ہی فلمی دنیا میں قدم رکھا۔ 1949 میں تمل فلم ’واژکائی‘ سے ان کے فلمی کیریئر کا آغاز ہوا۔ اس کے بعد 1951 میں ’بہار‘ کے ذریعے انہوں نے ہندی فلمی صنعت میں قدم رکھا۔ 1954 میں ریلیز ہونے والی ’ناگن‘ نے انہیں ملک گیر شہرت عطا کی۔ فلم میں ان کے رقص اور اداکاری نے ناظرین کو بے حد متاثر کیا اور وہ جلد ہی ہندی سنیما کی صف اول کی اداکاراؤں میں شامل ہوگئیں۔
1955 کی ’دیوداس‘ ان کے کیریئر کی اہم ترین فلموں میں شمار ہوتی ہے۔ بمل رائے کی ہدایت کاری میں شرت چندر چٹوپادھیائے کے ناول پر بننے والی اس فلم میں انہوں نے چندرمکھی کا کردار ادا کیا۔ وجینتی مالا کی اداکاری کو بے حد سراہا گیا اور انہیں فلم فیئر کی بہترین معاون اداکارہ کا ایوارڈ دیا گیا، تاہم انہوں نے یہ ایوارڈ قبول نہیں کیا۔ ان کا مؤقف تھا کہ چندرمکھی کا کردار محض معاون نہیں بلکہ فلم کے مرکزی کرداروں میں شامل تھا۔ یہ واقعہ بھی ان کے فن اور اپنے کردار کی اہمیت کے بارے میں ان کے مضبوط مؤقف کی مثال بن گیا۔
1958 وجینتی مالا کے کیریئر کا ایک یادگار سال ثابت ہوا۔ ’سادھنا‘ میں ان کی اداکاری نے انہیں پہلی مرتبہ فلم فیئر کا بہترین اداکارہ کا ایوارڈ دلایا، جبکہ اسی سال بمل رائے کی ’مدھومتی‘ میں انہوں نے دوہرا کردار ادا کرکے اپنی غیر معمولی اداکاری کا مظاہرہ کیا۔ ’مدھومتی‘ میں ان کی کارکردگی کو بھی فلم فیئر کی بہترین اداکارہ کی نامزدگی حاصل ہوئی۔
اس کے بعد ’گنگا جمنا‘ اور ’سنگم‘ جیسی فلموں نے ان کی مقبولیت کو مزید مستحکم کیا۔ ’سنگم‘ 1964 کی بڑی کامیاب فلموں میں شامل تھی، جس میں راج کپور اور راجندر کمار کے ساتھ وجینتی مالا نے مرکزی کردار ادا کیا۔ فلم میں ان کی اداکاری کے لیے انہیں فلم فیئر بہترین اداکارہ کا اعزاز بھی ملا۔ ’گنگا جمنا‘ کے لیے بھی وہ بہترین اداکارہ کا فلم فیئر ایوارڈ حاصل کر چکی تھیں۔ ’امرپالی‘، ’جیول تھیف‘ اور دیگر فلموں میں بھی ان کے کردار اور رقص آج تک یاد کیے جاتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں : وحیدہ رحمن: حسن، وقار اور قدرتی اداکاری کی لازوال مثال
وجینتی مالا نے اپنے فلمی سفر میں دلیپ کمار، راج کپور، دیو آنند، راجندر کمار اور سنیل دت سمیت اپنے عہد کے بڑے اداکاروں کے ساتھ کام کیا۔ دلیپ کمار کے ساتھ ان کی جوڑی خاص طور پر مقبول رہی، جبکہ راجندر کمار کے ساتھ بھی ان کی اسکرین جوڑی کو ناظرین نے پسند کیا۔ انہوں نے ہندی کے علاوہ تمل، تلگو اور بنگالی فلموں میں بھی کام کیا۔
1968 میں ڈاکٹر چمن لال بالی سے شادی کے بعد وجینتی مالا نے فلمی سرگرمیوں سے بتدریج دوری اختیار کرلی۔ ان کی آخری فلم ’گنوار‘ تھی، جو 1970 میں ریلیز ہوئی۔ تاہم فلموں سے دوری کا مطلب فن سے دوری نہیں تھا۔ انہوں نے بھرت ناٹیم کو جاری رکھا اور ہندوستانی کلاسیکی رقص کے فروغ میں اہم کردار ادا کیا۔ 1969 میں وہ اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی 20ویں سالگرہ کے موقع پر جنرل اسمبلی میں رقص پیش کرنے والی پہلی ہندوستانی رقاصہ بھی بنیں۔
یہ بھی پڑھیں : شبانہ اعظمی: ہندوستانی سنیما اور سماجی جدوجہد کا معتبر نام
فلمی دنیا کے بعد وجینتی مالا نے سیاست میں بھی قدم رکھا۔ انہوں نے 1984 اور 1989 میں جنوبی مدراس حلقے سے لوک سبھا کا انتخاب جیت کر دو مرتبہ رکن پارلیمنٹ کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔ 1993 میں انہیں راجیہ سبھا کے لیے نامزد کیا گیا۔
وجینتی مالا کو ہندوستانی سنیما اور کلاسیکی رقص میں ان کی طویل خدمات کے اعتراف میں 1968 میں پدم شری سے نوازا گیا، جبکہ 2024 میں انہیں پدم وبھوشن سے سرفراز کیا گیا۔ اس طرح ان کا سفر صرف ایک کامیاب اداکارہ کا سفر نہیں بلکہ ہندوستانی فنون کی ایک ایسی شخصیت کی داستان ہے جس نے پردۂ سیمیں، کلاسیکی رقص اور عوامی زندگی، تینوں میدانوں میں اپنی الگ شناخت قائم کی۔
(ان پٹ: یو این آئی)
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
