نوجوان نسل کو اپنی زندگی میں سوشل میڈیا کا رول کم کرنا چاہیے، یہ ایک نقلی دنیا ہے: وامیکا گبی

بالی ووڈ اداکارہ وامیکا گبی کا کہنا ہے کہ ’’نوجوانوں کو اپنی زندگی میں سوشل میڈیا کا رول کم کرنا چاہیے کیونکہ یہ ایک نقلی دنیا ہے اور لوگ اس میں پھنس جاتے ہیں۔‘‘

وامیکا گبی
وامیکا گبی
user

کمار روی راج سنہا

’ماڈرن لو‘ میں اپنی اداکاری سے لوگوں کا دل جیتنے والی اداکارہ وامیکا گبی نے روی راج کے ساتھ خصوصی انٹرویو میں کئی اہم موضوعات پر اپنے نظریات سامنے رکھے۔ انھوں نے موجودہ دور میں محبت کی اہمیت اور نوجوان نسل کی سوشل میڈیا سے بے پناہ انسیت جیسے ایشوز پر کھل کر باتیں کیں۔ یہاں پیش ہیں اس بات چیت کے اہم اقتباسات...

’ماڈرن لو‘ میں کام کرنے کا آپ کا تجربہ کیسا رہا؟

بہت اچھا لگا۔ مجھے لگتا ہے کہ وشال بھاردواج کے ساتھ کام کرنا ہر اداکار کا خواب ہوتا ہے، اور مجھے ان کے ساتھ دو بار کام کرنے کا موقع ملا۔ یہ اپنے آپ میں خوش قسمتی ہے۔


آپ کے مطابق اس نسل کے لیے ’محبت‘ کے کیا معنی ہیں؟

محبت کا مطلب ہر نسل کے لیے محبت ہی ہوتی ہے۔ میرا مطلب ہے کہ تکنیک بدل گئی ہے، لیکن محبت کا احساس ویسا ہی ہوتا ہے۔ اپنوں کے ساتھ رہ کر جو سکون ملتا ہے وہ بالکل ویسا ہی ہوتا ہے جیسے کہ پہلے تھا۔ اس لیے مجھے لگتا ہے کہ محبت نہیں بدلی ہے، لیکن ہاں، مجھے لگتا ہے کہ لوگوں نے چیزوں کو پیچیدہ بنا دیا ہے۔

محبت میں جس پیچیدگی کی آپ بات کر رہی ہیں، اس کی کچھ وضاحت کیجیے۔

مجھے لگتا ہے کہ زندگی میں جو کچھ بھی آپ چاہتے ہیں، اسے کرنے کے لیے ایک رشتے میں ہمیشہ آزادی ہونی چاہیے۔ آپ کو یہ محسوس نہیں ہونا چاہیے کہ آپ کا ساتھی اسے قبول نہیں کرے گا۔ اس لیے میرا ماننا ہے کہ پارٹنر کے طور پر ہمیں ہر اس چیز کی حمایت کرنی چاہیے جو ہمارا ساتھی اپنی زندگی میں کرتا ہے۔ ہمیں اسے ہر طرح سے قبول کرنا چاہیے۔ اپنی زندگی میں اس کی پسند، ناپسند میں، اس کے غم میں ساتھ ہونا چاہیے۔ اس لیے ایک رشتے میں قبولیت بہت اہم ہے اور یہ سب سے اہم چیزوں میں سے ایک ہے۔ اگر ایسا نہیں ہے تو مجھے لگتا ہے کہ رشتے میں پیچیدگی پیدا ہو جائے گی جو کہ نہیں ہونی چاہیے۔


کہا جاتا ہے کہ وقت کے ساتھ محبت بدل جاتی ہے، اس سلسلے میں آپ کا کیا نظریہ ہے؟

نہیں، اگر ایسا ہوتا ہے تو وہ محبت نہیں رہتی۔ اگر وقت کے ساتھ محبت میں تبدیلی آ گئی تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ محبت نہیں۔

’ماڈرن لو‘ میں آپ ایک گجراتی لڑکی کا کردار نبھا رہی ہیں۔ کیا پہلی بار پردے پر گجراتی کردار نبھانا اور گجراتی ڈائیلاگ بولنا آپ کے لیے مشکل تھا؟

مجھے بہت خوشی ہے کہ میں اس کردار کو اطمینان بخش طریقے سے نبھا سکی۔ مجھے شبہ تھا کہ میں اپنے کردار میں اس گجراتی پن کو لا پاؤں گی یا نہیں، لیکن میں اسے کرنے میں کامیاب رہی۔ وشال بھاردواج اور پوری ٹیم کو اس کے لیے شکریہ جنھوں نے مجھے اس کردار کو نبھانے میں مدد کی۔ لوگوں نے مجھے ہمیشہ ایک پنجابی اداکارہ کی شکل میں دیکھا ہے، حالانکہ میں نے جنوب ہندوستانی فلموں میں بھی کام کیا ہے۔ اس لیے میں بہت خوش تھی کہ وشال سر مجھے گجراتی کردار دے رہے تھے۔


جیسا کہ ہم جانتے ہیں کہ کئی جگہ ایسی بھی ہیں جہاں لڑکیوں کو وہ کرنے کی آزادی نہیں ہوتی جو وہ چاہتی ہیں۔ کیا آپ کو لگتا ہے کہ ’ماڈرن لو‘ لوگوں کے نظریے کو بدلنے میں مدد کرے گا؟

دراصل بدلاؤ ہونا چاہیے، اس لیے ہم اداکار یہ کام کر رہے ہیں تاکہ لوگ مثبت طریقے اختیار کر سکیں۔ اس لیے ہم ان فلموں کی تنقید کرتے ہیں جو منفی عناصر کی نمائندگی کرتی ہیں اور ہمارے سماج پر منفی اثر ڈال سکتی ہیں۔ یہ کوئی نئی بات نہیں ہے۔ پوری دنیا میں خواتین کو دوسرا درجہ دیا جاتا ہے، اس لیے ہم ایک فنکار کی شکل میں ہم الگ الگ کہانیوں کے ذریعہ سے اس پیغام کو لوگوں تک پہنچانے کی پوری کوشش کرتے ہیں، ہو سکتا ہے کہ یہ کسی کی مدد کر سکے کیونکہ فلموں نے واقعی میری زندگی میں کئی طرح سے میری مدد کی۔

آپ نوجوان نسل کو محبت سے متعلق کیا مشورہ دیں گی؟

مجھے لگتا ہے کہ یہ انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کا دور ہے اور نوجوان نسل اس میں بہت زیادہ شامل ہے۔ میرے خیال سے انھیں اپنی زندگی میں سوشل میڈیا کا رول کم کرنا چاہیے کیونکہ یہ ایک نقلی دنیا ہے اور لوگ اس میں پھنس جاتے ہیں۔ اس سے دور رہ کر ہی دل کو سکون حاصل ہو سکتا ہے اور زندگی بہتر ہو سکتی ہے۔


کیا آپ کو لگتا ہے کہ فون آج کی نسل پر منفی اثر ڈال رہا ہے؟

مجھے لگتا ہے کہ لوگ اپنے فون پر بہت زیادہ مصروف ہیں۔ ایسے میں انھیں پیار و محبت کے لیے وقت کیسے ملے گا! اگر آپ عوامی طور پر دیکھیں تو بھی بیشتر لوگ اپنے فون پر مصروف رہتے ہیں جس کا ہماری زندگی پر بہت اثر پڑتا ہے۔ اس لیے مجھے لگتا ہے کہ ہمیں اسے مینیج کرنا چاہیے۔

’جبلی‘ کا ٹیزر دیکھا... پروجیکٹ میں آپ کا بہت ہی ونٹیج لُک نظر آ رہا ہے۔ اس کے بارے میں کچھ بتائیں۔

شکریہ، میرا اس شو میں ایک ونٹیج لُک ہے کیونکہ یہ 1940 کی دہائی کی فلموں کے بارے میں ہے، اور یہ وکرمادتیہ کی ہدایت کاری میں بنا ہے۔ مجھے ان کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملا اس کی مجھے بہت خوشی ہے۔ مجھے اس کی ریلیز کی تاریخ سے متعلق فی الحال کوئی جانکاری نہیں ہے، لیکن یہ شو ایمیزون پر ریلیز ہوگا۔


آپ کے آنے والے پروجیکٹس کے بارے میں کچھ بتائیں۔

ایک تو ’جبلی‘ ہے، اور دوسری ’خفیہ‘ ہے جس کی ہدایت کاری وشال بھاردواج کر رہے ہیں۔ یہ ایک تھرلر فلم ہے جس میں تبو اور علی فضل بھی ہیں۔ اس کی شوٹنگ حقیقت میں بہت اچھے ماحول میں ہوئی اور میں بے قرار ہوں یہ دیکھنے کے لیے کہ لوگوں کا رِسپانس کیسا رہے گا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔