فلم ’مدر انڈیا‘ نے فلمی کیریئر کے ساتھ نرگس کی ذاتی زندگی کو بھی بدل دیا

نرگس نے تقریباً 55 فلموں میں کام کیا۔ انہیں اپنے فلمی کیریئر میں بہت عزت ملی، وہ ایسی اداکارہ تھیں جنہیں پدمشری ایوارڈ سے بھی نوازا گیا اور انہیں راجیہ سبھا کا رکن بھی منتخب کیا گیا۔

نرگس، تصویر یو این آئی
نرگس، تصویر یو این آئی
user

یو این آئی

یکم جون یوم پیدائش کے خاص موقع پر

ممبئی: ہندی فلموں کی مشہور اداکارہ نرگس نے تقریباً چار دہائی تک اپنی متاثر کن اداکاری سے ناظرین کومسحور کیے رکھا بچپن میں وہ اداکارہ نہیں بلکہ ڈاکٹر بننا چاہتی تھیں کنیز فاطمہ راشد عرف نرگس کی پیدائش یکم جون 1929 کو کلکتہ شہر میں ہوئی۔ ان کی ماں جدن بائی کے اداکارہ اور فلم ساز ہونے کی وجہ سے گھر میں فلمی ماحول تھا۔ اس کے باوجود بچپن میں نرگس کی اداکاری میں کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ ان کی تمنا ڈاکٹر بننے کی تھی جبکہ ان کی ماں چاہتی تھیں کہ وہ اداکارہ بنے۔

ایک دن نرگس کی ماں نے ان سے اسکرین ٹیسٹ کے لئے فلم ساز اور ڈائریکٹر محبوب خان کے پاس جانے کو کہا۔ چونکہ نرگس فلموں میں جانے کی خواہش مند نہیں تھیں اس لئے انہوں نے سوچا کہ اگر وہ اسکرین ٹیسٹ میں فیل ہو جاتی ہیں تو انہیں اداکاری نہیں کرنی پڑے گی۔ اسکرین ٹیسٹ کے دوران نرگس نے غیرارادی طور پر ڈائیلاگ کی ادائیگی کی اور سوچا کہ محبوب خان انہیں اسکرین ٹیسٹ میں فیل کر دیں گے لیکن ان کا یہ خیال غلط نکلا اور محبوب خان نے 1943 میں اپنی فلم ’تقدیر‘ کے لئے بطور اداکارہ انہیں منتخب کرلیا۔

اس کے بعد 1945 میں نرگس کو محبوب خان کی فلم ’ہمایوں‘ میں کام کرنے کا موقع ملا۔ 1949 میں ان کی برسات اور انداز جیسی کامیاب فلمیں منظرعام پر آئیں۔ فلم انداز میں ان کے ساتھ دلیپ کمار اور راج کپور جیسے نامور اداکار تھے اس کے باوجود بھی نرگس شائقین کو اپنی طرف متوجہ کرنے میں کامیاب رہیں۔ سال 1950 سے 1954 کے دوران ان کی شیشہ، بے وفا، آشیانہ، عنبر، انہونی، شکست، پاپی، دھن، انگارے جیسی کئی فلمیں منظرعام پر آئیں لیکن باکس آفس پر ناکام رہیں جو ان کے فلمی کیرئیر کے لئے برا ثابت ہوا، لیکن 1955 میں راج کپور کے ساتھ فلم ’شری 420‘ ریلیز ہوئی جس کی کامیابی کے بعد وہ ایک مرتبہ پھر سے شہرت کی بلنديو ں پر جا پہنچیں۔

پردہ سمیں پر نرگس اورراج کپور کی جوڑی کو کافی پسند کیا گیا۔ ان دونوں نے سب سے پہلے 1948 میں ریلیز فلم آگ میں ایک ساتھ کام کیا تھا۔ اس کے بعد ان کی برسات، انداز، جان پہچان، پیار، آوارہ، انہونی، آشیانہ، آہ، دھن، پاپی، شری 420، جاگتے رہو، چوری چوری جیسی کئی فلمیں پردہ سمیں کی زینت بنیں۔ سال 1956 میں فلم چوری چوری نرگس اور راج کپور کی جوڑی والی آخری فلم تھی۔ حالانکہ راج کپور کی فلم ’جاگتے رہو‘ میں بھی نرگس نے مہمان اداکارہ کے طور پر کام کیا تھا اس فلم کے آخر میں لتا منگیشکر کی آواز میں نرگس پر ’جاگو موہن پیارے ‘ نغمہ فلمایا گیا تھا۔

سال 1957 میں محبوب خان کی فلم ’مدر انڈیا‘ نے نرگس کے فلمی کیریئر کے ساتھ ہی ان کی ذاتی زندگی میں بھی بہت اہم کردار ادا کیا۔ فلم کی شوٹنگ کے دوران نرگس کو سنیل دت نے آگ سے بچایا تھا۔ اس واقعہ کے بعد انہوں نے کہا تھا کہ پرانی نرگس کی موت ہو گئی ہے اور اب نئی نرگس کی پیدائش ہوئی ہے اور انہوں نے اپنی عمر اور حیثیت کی پرواہ کیے بغیر سنیل دت سے شادی کرلی تھی۔ شادی کے بعد نرگس نے فلموں میں کام کرنا کچھ کم کر دیا تھا۔ تقریباً دس سال بعد اپنے بھائی انور حسین اور اختر حسین کے کہنے پر نرگس 1967 میں فلم’ رات اور دن‘ میں کام کیا۔ اس فلم کے لیے انہیں نیشنل ایوارڈ سے نوازا گیا۔ یہ پہلا موقع تھا جب کسی اداکارہ کو یہ ایوارڈ دیا گیا تھا۔

نرگس نے اپنے فلمی کیریئر میں تقریبا 55 فلموں میں کا م کیا۔ انہیں اپنے فلمی کیریئر میں بہت عزت ملی۔ وہ ایسی اداکارہ تھیں جنہیں پدمشری ایوارڈ سے بھی نوازا گیا اور انہیں راجیہ سبھا کا رکن بھی منتخب کیا گیا۔ اپنی سنجیدہ اداکاری سے ناظرین کو مسحور کرنے والی نرگس 3 مئی 1981 کو ہمیشہ کے لئے اس دنیا سے رخصت ہوگیئں۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔