ہمیں بیدار کرنے کے لئے جامعہ کے طلباء اور مظاہرین کا شکریہ: سورا بھاسکر

بالی ووڈ اداکارہ نے جامعہ کے طلباء کو شہریت ترمیمی قانون کے خلاف پورے ملک کو جگانے کے لئے ان کی تعریف کی اور کہا کہ اس قانون کا ہدف مسلمان ضرور ہیں لیکن اس کا حملہ ملک کے ہر شہری پر ہوگا

قومی آواز گرافکس
قومی آواز گرافکس
user

قومی آوازبیورو

نئی دہلی: جامعہ ملیہ اسلامیہ کے طلباء اور شاہین باغ میں چل رہے خواتین کے مظاہرہ کا بدھ کے روز 20واں دن تھا۔ دیر شام بالی ووڈ اداکارہ سورا بھاسکر اور ذیشان ایوب جامعہ کے گیٹ نمبر 7 پر پہنچے اور مظاہرین سے یکجہتی کا اظہار کیا۔

شہریت ترمیمی قانون اور این آر سی کے خلاف مظاہرہ کر رہے جامعہ کے طلباء نے بدھ کے روز سلسلہ وار بھوک ہڑتال شروع کر دی۔ طلباء نے شہریت ترمیمی قانون واپس لینے سمیت سات مطالبات رکھے ہیں۔

سوارا بھاسکر نے کہا کہ مودی حکومت ملک کی آواز کو دبا رہی ہے، اسے کسی قیمت پر برداشت نہیں کیا جائے گا۔ بھوک ہڑتال پر بیٹھے طلباء کے دیگر مطالبات میں ملک بھر میں احتجاجی مظاہروں کے دوران ہوئی اموات کی غیر جانب دارانہ جانچ کرانے، پولیس تحویل میں لئے گئے مظاہرین کو رہا کرنے، پُرامن احتجاج کرنے والوں کے خلاف درج ایف آئی آر واپس لینے، تشدد کے متاثرین کو معاوضہ دلانے اور انٹرنیٹ خدمات کو بحال کرنے جیسے مطالبات شامل ہیں۔

سالِ نو کی مبارک باد پیش کرتے ہوئے سورا بھاسکر نے جامعہ کے طلباء اور دیگر عوام کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ ’’آپ نے اور آپ کے اس پُرامن احتجاج نے اس ملک کے ایمان کو دوبارہ سے جگایا ہے۔ آج ملک کے ہر شہر میں جو جم غفیر امنڈ رہا ہے اسے صرف احتجاج کی نظر سے ہی نہیں دیکھا جانا چاہیے بلکہ اسے اتحاد کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔‘‘

انہوں نے کہا، ’’جو آج ہو رہا ہے وہ پہلے ہو جانا چاہیے تھا، یہ اس وقت ہونا چاہیے تھے جب دادری میں اخلاق کی جان گئی تھی۔ لیکن اب ہم جاگ گئے ہیں اور اس کا کریڈیٹ جامعہ، اے ایم یو اور دیگر طلباء کو جاتا ہے۔ ہم یہاں صرف آج آپ لوگوں سے یکجہتی کا اظہار کرنے آئے ہیں۔‘‘‘

انہوں نے کہا، ’’سیاسی چال چل کر ملک میں نفرت کو قانونی شکل دینے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ کبھی اینٹی نیشنل ہوتا ہے، کبھی ٹکڑے ٹکڑے گینگ ہوتا ہے، کبھی تین طلاق ہوتا ہے اور کبھی سی اے اے ہوتا ہے۔ اب ہم سب سمجھ گئے ہیں کہ کھیل کیا ہے اور ہم انہیں یہ کھیل نہیں کھیلنے دیں گے۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں ہے کہ سی اے اے اور این آر سی کا ایک ہدف ہے اور وہ ہدف مسلمان ہیں۔ لیکن اس ہدف سے صرف مسلمانوں پر ہی حملہ نہیں ہوگا بلکہ اس سے ہر غریب اور ہر شہری متاثر ہوگا۔‘‘

ہمیں ہندوستان کے مسلمانوں سے کسی طرح کا امتحان لینے کا حق نہیں ہے۔ مسلمانوں کو کسی طرح کی وفاداری ثابت کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ انہوں نے 1947 میں سب سے بڑا امتحان دے دیا ہے۔ جو لوگ یہ نیا قانون مانگ رہے ہیں وہ اس ملک کے سب سے بڑے غدار ہیں کیوں کہ وہ صرف اور صرف جناح کا خواب پورا کر رہے ہیں اور ہم جو لوگ یہاں کھڑے ہیں وہ گاندھی جی کا خواب پورا کر رہے ہیں۔‘‘

آخر میں سورا بھاسکر نے جامعہ، اے ایم یو، جے این یو اور بی ایچ یو کے طلباء کے ساتھ ساتھ مظفرنگر، بجنور، ممبئی، لکھنؤ اور بھوپال کے نام سے نعرے لگوائے اور ان سب کی ہمت کو سلام پیش کیا۔

Published: 2 Jan 2020, 4:45 PM