تدبیر سے بگڑی ہوئی تقدیر بنا لے ... ساحر لدھیانوی

ساحر لدھیانوی ہندی سنیما کے ایک ایسے نغمہ نگار ہیں جن کی شعری اور ادبی صلاحیتوں سے انکار نہیں کیا جا سکتا، دنیائے سخن میں انہیں امتیازی مقام حاصل ہے

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

یو این آئی

(8 مارچ یوم پیدائش کے موقع پر)

ترقی پسند تحریک سے تعلق رکھنے والے مشہور شاعر ساحر لدھیانوی 8 مارچ 1921ء کو لدھیانہ (پنجاب) میں پیدا ہوئے۔ ان کا حقیقی نام عبدالحئی تھا۔ ابتدائی تعلیم خالصہ اسکول سےحاصل کی۔ اس کے بعد لاہور چلے گئے اور گورنمنٹ کالج میں داخلہ لے لیا۔انہوں نے کالج کے زمانے سے ہی شاعری کا آغاز کر دیا تھا اور وہ اپنی غزلیں اور نظمیں پڑھ کر سنایا کرتے تھے جس سے انہیں کافی شہرت ملی۔

ساحر لدھیانوی کے ساتھ کالج میں مشہور مصنفہ امریتا پریتم بھی پڑھتی تھیں، جو ان کی غزلوں اور نظموں کی مرید ہو گئیں اور ان سے محبت کرنے لگیں، لیکن کچھ وقت کے بعد ہی ساحر کو کالج سے نکال دیا گیاجس کی وجہ یہ سمجھی جاتی ہے کہ امریتا پریتم کے والد کو ساحر اور امریتاکے رشتے پر اعتراض تھا کیونکہ ساحر مسلمان تھے اور امریتا سکھ ۔ اس کے علاوہ ایک وجہ یہ بھی تھی کہ ان دنوں ساحرکی مالی حالت اچھی نہیں تھی۔

سال 1943 میں کالج سے نکالے جانے کے بعد ساحر لدھیانوی لاہور آگئے جہاں ان کا پہلا شعری مجموعہ تلخیاں شائع ہوا جس کی اشاعت نے دھوم مچا دی تھی۔سن 1949 میں وہ لاہور سے بمبئی گئے اور اسی سال ان کی پہلی فلم ‘آزادی کی راہ’ ریلیز ہوئی۔
ساحر کو اصل شہرت موسیقار ایس ڈی برمن کی 1950 میں ریلیز فلم نوجوان سے ملی جس میں ان کا نغمہ ’ٹھنڈی ہوائیں‘ کافی مقبول ہوا اور اس کی دھن ایسی ہٹ ہوئی کہ عرصے تک اس کی نقل ہوتی رہی۔ اس جوڑی نے یکے بعد دیگرے کئی فلموں میں کام کیا جو آج بھی یادگار ہے، ان فلموں میں بازی، جال، ٹیکسی ڈرائیور، ہاؤس نمبر 44، منیم جی اور پیاسا وغیرہ شامل ہیں۔

فلم ‘برسات کی رات’ میں ساحر کے نغموں نے کافی مقبولیت حاصل کی ۔ اس فلم کا نغمہ ’زندگی بھر نہیں بھولے گی وہ برسات کی رات‘ آج بھی ناظرین کے دلوں کو مسحور کردیتا ہے۔ اس کے علاوہ اسی فلم کی قوالی ’نہ تو کارواں کی تلاش ہے نہ تو ہمسفرکی تلاش ہے‘ آج بھی فلمی دنیا کی سب سے مقبول قوالی سمجھی جاتی ہے۔

ساحر نے کئی موسیقاروں کے ساتھ کام کیا۔ ’ملتی ہے زندگی میں محبت کبھی کبھی، نیلے گگن کے تلے، چھو لینے دو نازک ہونٹوں کو، میں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھی، میں جب بھی اکیلی ہوتی ہوں، دامن میں داغ لگا بیٹھے، ابھی نہ جاؤ چھوڑ کر کہ دل ابھی بھرا نہیں، میں زندگی کا ساتھ نبھاتا چلا گیا اور رات بھی ہے کچھ بھیگی بھیگی ‘ جیسے مقبول نغمات شامل ہیں۔

گرودت کی ‘پیاسا’ اور یش راج کی ‘کبھی کبھی’ کی کہانی ساحر کی اپنی زندگی سے ماخوذ تھی’کبھی کبھی میرے دل میں یہ خیال آتا ہے اور میں پل دو پل کا شاعر ہوں‘ جیسے نغمے بھلا کون بھلا سکتا ہے۔ انھوں نے اپنی فنی زندگی میں دو مرتبہ فلم فیئر ایوارڈ حاصل کئے، پہلا 1964 میں جو وعدہ کیا وہ بنھانا پڑے گا (فلم تاج محل) اور دوسرا 1977 میں ’ کبھی کبھی میرے دل میں خیال آتا ہے ‘ ( فلم کبھی کبھی) کے لئے۔

حسن پرست اور عاشق مزاج ساحر لدھیانوی نے شادی نہیں کی۔ اس کا اظہار ان کے گیتوں”جسے تو قبول کرلے، وہ ادا کہاں سے لاوٴں“، ”تم نہ جانے کس جہاں میں کھو گئے“ سے ہوتا ہے۔ ساحر اور امرتا پریتم نے ایک دوسرے کو جی جان سے چاہا لیکن ان کی شادی نہیں ہو سکی۔

لیکن وقت نے ثابت کیا کہ ساحر پل دو پل کے شاعر نہیں تھے اور انہوں نے جو کچھ کہا وہ کارِ زیاں نہیں تھا۔ تقریباً تین دہائیوں تک ہندی سنیما کو اپنے نغموں سےمسحور کرنے والے ساحر لدھیانوی 59 برس کی عمر میں 25 اکتوبر 1980 کو اس دنیا کو الوداع کہہ گئے۔

ساحر لدھیانوی کے لکھے ہوئے کچھ لافانی فلمی گیت:

تدبیر سے بگڑی ہوئی تقدیر بنا لے، یوں تو ہم نے لاکھ حسیں دیکھے ہیں، جو وعدہ کیا وہ نبہانا پڑے گا، تیری ہے زمین تیرا آسمان، ہم آپ کی آنکھوں میں، مانگ کے ساتھ تمہارا، جیون کے سفر میں راہی، پیار کر لیا تو کیا، یہ رات یہ چاندنی پھر کہاں، یہ دنیا اگر مل جائے تو کیا ہے، نیلے گگن کے تلے، جان من تم کمال کرتے ہو، تیرے چہرے سے نظر نہیں ہٹتی، اڑیں جب جب زلفیں تیری، محبت بڑے کام کی چیز ہے، جانے وہ کیسے لوگ تھے جن کے پیار کو پیار ملا، چھو لینے دو نازک ہوٹوں کو، لاگا چونری میں داغ، اے میری زہرہ جبیں، رنگ اور نور کی بارات کسے پیش کروں، میں زندگی کا ساتھ نبھاتا چلا گیا، آجا تجھ کو پکارے میرا پیار۔

    Published: 8 Mar 2020, 11:45 AM