شاندار اداکار کے ساتھ ساتھ لاجواب انسان تھے سنیل دَت... یومِ پیدائش پر خاص

مشہور و معروف اداکار و سماجی خدمت گار سنیل دَت

سنیل دَت کا شمار ایسے اداکاروں میں ہوتا ہے جنھوں نے جب بھی موقع ملا تو بامقصد فلمیں بنائیں۔ ’یادیں‘، ’مجھے جینے دو‘، ’درد کا رشتہ‘ جیسی فلموں سے سنیل دَت نے اپنی سوچ اور سماجی عزائم کا اظہار کیا۔

ریڈیو اینکر رہے، فلموں میں اداکاری کی، فلموں کی ہدایت کاری و فلمسازی کی، سماجی خدمت کی، ممبر پارلیمنٹ بنے، وزیر بنے اور آخر سانس تک ایک اچھے انسان ثابت ہوئے... ایسے تھے سنیل دَت۔

سنیل دَت کا اصل نام بلراج دَت تھا۔ ان کی پیدائش 6 جون 1928 کو جہلم ضلع کے خردی گاؤں میں ہوئی تھی جو اب پاکستان میں ہے۔ تقسیم کے بعد ان کی فیملی ہندوستان آ گئی۔ پہلے ہریانہ اور پھر لکھنؤ میں دن گزارنے کے بعد سنیل دَت نے آگے کی پڑھائی کے لیے ممبئی کا رخ کیا۔ ان کے والد کا انتقال اسی وقت ہو گیا تھا جب سنیل دَت محض 7 سال کے تھے۔

ممبئی میں کئی دن فٹ پاتھ پر گزارے، پھر بس ڈپو میں چیکنگ کلرک کا کام مل گیا۔ ان کی آواز اور لفظوں کی ادائیگی دونوں اثردار تھے، اسی کے سہارے انھیں ریڈیو سیلون میں کام مل گیا۔ وہاں فلمی ہستیوں سے انٹرویو لینا ان کی اہم ذمہ داری تھی۔ فلم والوں سے لگاتار رابطہ میں رہنے کے بعد سنیل کے من میں بھی فلموں میں ہاتھ آزمانے کا خیال آیا۔ کافی جدوجہد کے بعد 1955 میں انھیں فلم ’پلیٹ فارم‘ میں کام کرنے کا موقع ملا۔ یہ فلم فلاپ ہو گئی۔ فلمی دنیا میں اپنا وجود بنائے رکھنے کے لیے اگلے تین سال تک سنیل دَت کو جو بھی فلمیں ملیں، وہ اسے قبول کرتے چلے گئے۔ ’کندن‘، ’راجدھانی‘، ’قسمت کا کھیل‘ اور ’پایل‘ جیسی فلمیں اسی دور میں انھوں نے کیں، لیکن کوئی بھی فلم مشہور نہیں ہو سکی۔

پھر قسمت نے موقع دیا اور ان کے ہاتھ فلم ’مدر انڈیا‘ لگی۔ 1957 میں آئی اس فلم میں ان کا کردار اینٹی ہیرو کا تھا یعنی ایک ایسا شخص جو اپنی زندگی میں حالات کی وجہ سے بدل جاتا ہے۔ اسی فلم کی شوٹنگ کے دوران سیٹ پر آگ لگ گئی اور نرگس اس کے گھیرے میں پھنس گئیں۔ آگ تو سنیل دَت کے دل میں بھی لگی ہوئی تھی، وہ بھلا نرگس کو اپنے سامنے جلتا ہوا کیسے دیکھ لیتے۔ جان کی پروا کیے بغیر سنیل دَت نے نرگس کو بچا لیا، لیکن خود کافی جھلس گئے۔ اس فلم میں نرگس نے سنیل دَت کی ماں کا کردار نبھایا تھا، لیکن فلم ختم ہونے کے بعد سنیل دَت نے نرگس سے شادی کر لی۔

مزید کچھ فلموں میں کام کرنے کے بعد 1963 میں سنیل دَت نے خود فلمسازی کا فیصلہ لیا۔ انھوں نے فلم بنائی ’یہ راستے ہیں پیار کے‘۔ 1964 میں انھوں نے ایک تجربہ کے طور پر فلم ’یادیں‘ بنائی جس میں صرف انھوں نے ہی اداکاری کی۔ یہ فلم بھی باکس آفس پر کوئی کرشمہ نہیں دکھا سکی، لیکن سنیل دَت کو دوسری فلموں میں کام ملتا رہا۔ سال 1965 ان کے فلمی کیریر کا اہم وقت ثابت ہوا۔ اس سال ’وقت‘ اور ’خاندان‘ جیسی ان کی سپرہٹ فلمیں ریلیز ہوئیں۔ 1966 میں ’میرا سایہ‘ اور 1967 میں ’ہمراز‘ اور ’ملن‘ جیسی فلموں کے ذریعہ سنیل دَت اگلی صف کے اداکاروں میں شامل ہو گئے۔

سنیل دَت اداکاری تو کرتے ہی رہے، ساتھ ہی جب بھی موقع ملا، انھوں نے بامقصد فلمیں بھی بنائیں۔ ’یادیں‘، ’مجھے جینے دو‘، ’ریشما اور شیرا‘، ’درد کا رشتہ‘ جیسی فلموں سے سنیل دَت نے اپنی سوچ اور سماجی عزم کو ظاہر کیا۔ سنیل دَت نے اپنی زندگی میں تقریباً 100 سے بھی زیادہ فلموں میں کام کیا۔ انھوں نے کئی پنجابی فلموں میں بھی اپنی اداکاری کا جلوہ دکھایا۔ ان میں ’من جیت جگ جیت‘، ’دُکھ بھنجن تیرا نام‘ اور ’سَت شری اکال‘ اہم ہیں۔

فلمی کیریر کے دوران بھی سنیل دَت ملک کی خدمت کے مواقع سے ہمیشہ منسلک رہے۔ فوجی بھائیوں کے لیے سرحد پر جا کر پروگرام کرنا ہو یا خشک سالی اور سیلاب متاثرین کے لیے چندہ جمع کرنے جیسے کام ہوں، سنیل دَت ہمیشہ آگے رہے۔ پنجاب میں پھیلی دہشت گردی کے خلاف انھوں نے ممبئی سے امرتسر تک کی پیدل امن یاترا کی۔ پھر وہ سرگرم سیاست کے سہارے سماجی خدمت کے لیے میدان میں اترے۔ ممبئی سے وہ پانچ بار کانگریس کی ٹکٹ پر لوک سبھا انتخاب جیتے۔ 05-2004 میں وہ منموہن سنگھ حکومت میں یوتھ معاملوں اور کھیل محکمہ میں کابینہ وزیر بھی رہے۔

سنیل دَت کو دو بار بہترین اداکار کے فلم فیئر ایوارڈ سے نوازا گیا۔ پہلی بار 1964 میں فلم ’مجھے جینے دو‘ کے لیے اور پھر 1966 میں فلم ’خاندان‘ کے لیے۔ سال 2005 میں انھیں ہندوستانی سنیما کے سب سے بڑے خطاب ’دادا صاحب پھالکے‘ ایوارڈ س نوازا گیا۔

1993 کی جنوری میں ممبئی میں فسادات کے دوران مسلم طبقہ کا زوردار دفاع کرنے کے سلسلے میں انھیں کند ذہن لوگوں کی سیاست کا شکار بھی ہونا پڑا۔ ان کی باوقار زندگی میں اس وقت اتھل پتھل مچ گئی جب ممبئی فسادات کے دوران ان کے بیٹے سنجے دَت کو غیر قانونی اسلحہ رکھنے اور ملک کے غداروں کا ساتھ دینے کے جرم میں گرفتار کر لیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ سنجے بے وقوفی والا کام تو کر سکتا ہے، لیکن ملک کا غدار نہیں ہو سکتا۔ سنیل دَت پوری طاقت سے سنجے کے دفاع میں کھڑے رہے۔ سال 2003 میں سنجے دَت کے ساتھ ان کی مشہور فلم ’منّا بھائی ایم بی بی ایس‘ آئی جو ان کی آخری فلم ثابت ہوئی۔ 25 مئی 2005 کو ان کا انتقال ہو گیا۔

سب سے زیادہ مقبول