ششی کپور، جنیفر اور شیکسپیئر
ششی کپور اور جنیفر ہندی سنیما کا مثالی جوڑا تھا ، ان کے رشتوںکا عکس ہندوستان کے ہندی -انگریزی تھیٹر کے تئیں ان کی دلچسپی، تعاون اور پرتھویتھیٹر کے قیام کے وقت بخوبی ظاہر ہوا۔

میں تمہاری ہی بیوی رہوں گی سدا، تم میرے سنگ شادی کرو ہم نوا۔
نام پر بس تمہارے کروں گی بسر ، میرا سوچا ہوا گر نہیں ہو سکا۔
میں کنواری رہوں پر تمہاری رہوں ، میں نے اب خود سے یہ وعدہ لیا۔
تم کوحق ہے کرو چاہے انکار تم ، زرہ زروہ میرا پر تمہارا پیا۔
(مرانڈہ، شیکسپیئر کے ڈرامے ’دی ٹیمپیسٹ ‘ سے)
ششی کپور نے جنیفر کینڈل کو پہلی بار مرانڈہ کے کردار میں ہی دیکھا تھا اور ان کے اہل خانہ کے بقول وہ پہلی نظر میں ہی جنیفر کو دل دے بیٹھے۔
ان کی داستانِ محبت کوئی آسان نہ تھی۔ جنیفر کے والد ایک تھیٹر کمپنی چلاتے تھے جس کا نام شیکسپیئرانا پروڈکشن تھا اور جو ان دنوں کافی مشہورکمپنی ہوا کرتی تھی۔ ششی کپور ٹھہرے ایک فلمی شخص ، حالانکہ تھیٹر میں ان کی بہت دلچسپی تھی اور اس وقت وہ اپنے والد پرتھوی راج کپور کی تھیٹر کمپنی میں کام بھی کر رہے تھے۔ وہ 1956 میں ملے، جنیفر کے والد کو یہ رشتہ منظور نہیں تھا، اس کے باوجود دونوں نے 1958 میں شادی کر لی۔
ان کی داستانِ محبت کافی مشہور ہے۔ محبت کی زیادہ تر داستانوں کا اختتام اکثر ’اور وہ خوشی خوشی رہنے لگے ‘ پر ہو جاتا تھا۔ لیکن در اصل یہی وہ مقام ہوتا ہے جہاں سے اصل داستانِ محبت کا آغاز ہوتا ہے۔ یہ وقت اپنے خاندان کو خوشحال بنانے اور ان خوابوں کو شرمندہ تعبیر تک پہنچانے کا ہوتا ہے جو وہ اپنی آنکھوں میں سجا کر رکھتے ہیں۔ ہم میں سے زیادہ تر لوگ اپنے تعلقات میں الجھ کر ’خوابوں ‘ کو بھلا دیتے ہیں لیکن یہی خواب ششی کپور اور جنیفر کے تعلق کی اصل طاقت ثابت ہوئے۔
جنیفر نے ششی کپور کو زمینی حقیقت سے دور نہیں ہونے دیا اور ان کے کھانے پینے سے لے کر دوسری تمام ضروریات کا خیال خود رکھا اور ایسے وقت میں جب کہ ششی کپور بین الاقوامی سنیما میں اپنا مقام بنا رہے تھے وہ ان کی معاونت بھی کرتی رہیں۔ بچوں کی پرورش کے ساتھ ساتھ جنیفر ششی کپور کی زندگی کا اہم سہارا بھی بنی رہیں۔
بدلے میں ششی کپور بھی اپنی زندگی میں ان کی دخل اور ہدایات کا احترام کرتے رہے۔ پردے پر وہ اپنے وقت کی سب سے خوبصورت اداکاراؤں کے ساتھ رومانس کرتے رہے لیکن پردے سے الگ ان کا نام کسی اداکارہ کے ساتھ کبھی نہیں جڑا۔ دونوں ساتھ ساتھ ایک ٹیم کی طرح رہے اور دونوں کا اکلوتا جنون تھیٹر تھا۔ تھیٹر اور اداکاری۔
ششی کپور ایک کامیاب فلمی ستارے بن گئے اس کے باوجود انہوں نے ’جنون‘، ’کل یُگ‘ اور ’اُتسو‘ جیسی فلموں کے ذریعے کئی تجربے کرتے رہے۔ جنیفر بھی تھیٹر اور سنیما کے نئے تجربات اور تبدیلیوں کے دور میں نئے پلاٹوں پر کام کرتی رہیں۔ ’36 چورنگی لین‘ میں ایک غیر محفوظ اور تنہا عمر رسیدہ خاتون کے کردار میں جنیفر کی اداکاری کو فراموش نہیں کیا جا سکتا۔
دونوں اپنے آپ میں قابل شخصیت تھے اور کامیاب بھی لیکن کبھی ایک دوسرے کے کام میں دخل اندازی نہیں کی بلکہ ایک دوسرے کو ہر طرح تقویت فراہم کی۔ ایک ایسے پیشے میں جہاں تعلقات کام کے تناؤ اور تحفظات کی نذر ہو جاتے ہیں ، جہاں اداکاری کی شدید مصروفیات اکثر ٹکراؤ میں تبدیل ہو جاتی ہے وہاں جنیفر کینڈل اور ششی کپور کا باہمی رشتہ ایک مثال ثابت ہوا۔ جنیفر کے انتقال کے بعد ششی کپور نے کہا تھا کہ ’’ میں اکثر ان کی موجودگی محسوس کرتا ہوں اور یہ گھر، اس میں رکھی ہر چیز بالکل ویسی ہی ہے جیسی یہ اس وقت تھیں جب وہ زندہ تھیں۔‘‘
ایک شخص کو انہی تعلقات کی روشنی میں یاد کیا جاتا ہے جو وہ اپنے آس پاس کے لوگوں سے قائم کرتا ہے۔ ششی کپور اور جنیفر کینڈل دونوں اب نہیں رہے لیکن ان کے رشتے کی خوشبو ابھی تک فضاؤں میں ہے۔ یہ وہ رشتہ ہے جو تھیٹر اور سنیما میں ان کے تعاون کاآئینہ دار ہے ۔ شیکسپیئر کے اسی ڈرامہ کی کچھ لائنیں جس کے ذریعے دو خوبصورت شخصیات کا ملن ہوا پیش خدمت ہیں۔
ہماری موج مستی اب ختم ہوئی۔ یہ تھے ہمارے اداکار،
جیسا کہ میں نے پہلے تمہیں بتایا،
سب روحیں تھیں اور اب ہوا میں گھل چکی ہیں۔
اور اس خواب کے بے بنیاد سوت کی طرح
یہ بادلوں کو چھوتے قلعے، عالیشان محلات اور شاندار مندر
یہ وسیع دنیا خود گھل جائے گی اور ایک خیالی تماشہ ختم ہو جائے گا،
بغیر کوئی نشاں چھوٹے۔ ہم اسی چیز سے بنے ہیں جس سے سب بنتے ہیں
خواب اور ہماری چھوٹی سی زندگی کو گھیرے ہے ایک نیند۔
(دی ٹیمپیسٹ )
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔