جو بھی ہو تم خدا کی قسم لاجواب ہو: شکیل بدایونی

شکیل بدایونی کا محض 53 برس کی عمر میں 20 اپریل 1971 کو ممبئی میں انتقال ہوا۔ قبرستان کی انتظامیہ نے اور دوسری بہت سی مشہور شخصیات کی طرح 2010 میں ان کی قبر کا نام و نشان تک مٹا دیا۔

<div class="paragraphs"><p>تصویر بشکریہ یو این آئی</p></div>

تصویر بشکریہ یو این آئی

user

یو این آئی

مشہور شاعر اور نغمہ نگار شکیل بدایونی کا اپنی زندگی کے تئیں نظریہ ان کے اس شعر میں پنہاں ہے ’میں شکیل دل کا ہوں ترجماں کہ محبتوں کا ہوں رازداں -مجھے فخر ہے مری شاعری مری زندگی سے جدا نہیں –‘ شکیل احمد ،تین اگست 1916 کو اتر پردیش کے بدایوں قصبے میں پیدا ہوئے ۔ ان کا تعلق ایک مذہبی گھرانے سے تھا۔ والد جمیل احمد سوختہ قادری بدایونی ممبئی کی مسجد میں خطیب او رپیش امام تھے اس لیے شکیل کی ابتدائی تعلیم اسلامی مکتب میں ہوئی۔

اردو، فارسی اور عربی کی تعلیم کے بعد مسٹن اسلامیہ ہائی اسکول بدایوں سے ڈگری حاصل کرنے کے بعد اعلیٰ تعلیم کے لیے شکیل 1932 میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں داخل ہوئے۔شکیل نے علی مسلم یونیورسٹی میں داخلہ لیا تو انہوں نے انٹر کالج ، انٹر یونیورسٹی کے مشاعروں میں حصہ لینا شروع کیا اور مسلسل ان مشاعروں کو اپنے نام کیا۔


شکیل احمد علی گڑھ سے بی۔ اے کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد 1942 میں دہلی میں سینٹرل گورنمنٹ میں محکمۂ سپلائی میں کلرک کی حیثیت سے نوکری کی۔ شکیل دہلی میں تقریباً 1946 ء تک مقیم رہے۔ اس کے بعد وہ فروری1946 میں ایک مشاعرے کے سلسلے میں بمبئی گئے جہاں ان کی ملاقات مشہور فلم ساز کاردار سے ہوئی۔ اس دوران انہوں نے مختلف مشاعروں میں حصہ لیا جہاں ان کے کلام کی عزت افزائی کی گئی ۔ اے آر کاردار کے اصرارپر شکیل نے مستقل طور پر بمبئی کو ہی اپنی رہائش گاہ بنالیا۔ انہوں نے 1940 میں سلمی سے شادی کی جو ان کی دور کی رشتہ دار تھیں جو ان کے ساتھ بچپن سے ہی جوائنٹ فیملی میں رہتی تھیں۔

شکیل نے سو سے زیادہ فلموں کے اردو ، ہندی اور پوربی زبانوں میں گیت لکھے علی گڑھ میں قیام کے دوران جگر مراد آبادی سے ملاقات ہوئی۔ ان کی وساطت سے فلمی دنیا میں داخل ہوئے اور سو سے زائد فلموں کے لیے گیت لکھے، جو بہت زیادہ مقبول ہوئے۔ جس میں مغل اعظم کے گیت سر فہرست ہیں۔
نوشاد کے کہنے پر شکیل نے ’ہم درد کا افسانہ دنیا کو سنا دیں گے، ہر دل میں محبت کی آگ لگا دیں گے‘ گیت لکھا۔ یہ گیت نوشاد کو کافی پسند آیا جس کے بعد انہیں فوراً کاردار صاحب کی ’درد‘ کے لیے سائن کر لیا گیا۔ سال 1947 میں اپنی پہلی ہی فلم ’درد‘ کے گیت ’افسانہ لکھ رہی ہوں‘ کی بے پناہ کامیابی سے شکیل بدایونی کامیابی کی چوٹی پر جا بیٹھے۔


شکیل بدایونی نے نوشاد، روی، ہیمنت کمار، ایس ڈی برمن اور سی رام چندر جیسے ممتاز موسیقاروں کی دھُنوں پر دو سو سے زائد نغمے لکھے۔ ان کے گیتوں کو محمد رفیع، لتا منگیشکر، آشا بھوسلے، مکیش، شمشاد بیگم، ثریا، مہندر کپور، طلعت محمود، روی شنکر شرما، گیتا دت اور ہردئے ناتھ منگیشکر جیسے صفِ اول کے گلوکاروں نے اپنی آواز میں پیش کیا۔

شکیل بدایونی نے دلاری (1949)، دیدار (1951)، مدر انڈیا (1957)، چودہویں کا چاند (1960)، مغلِ اعظم ( 1960)، گنگا جمنا (1961) صاحب بی بی اور غلام ( 1962)، میرے محبوب ( 1963) دو بدن ( 1966) جیسی سپر ہٹ فلموں میں اپنے نغموں سے دھوم مچا دی۔


شکیل بدایوں کو 1961 میں ریلیز ہوئی فلم چودھویں کا چاند کے نغمے’چودھویں کا چاند ہو یا آفتاب ہو’ کے لئے فلم فیئر ایوارڈ سے نوازا گیا ۔ اس کے بعد 1962 میں فلم گھرانہ کے گانے حسن والے تیرا جوا ب نہیں کے لئے پھر بہترین نغمہ نگار کا ایوارڈ دیا گیا۔ 1963 میں سسپینس سے بھرپور فلم بیس سال بعد کے نغمہ کہیں دیپ جلے کہیں دل کے لئے انہیں ایک مرتبہ پھر بہترین نغمہ نگار کے طور پر منتخب کیا گیا۔
شکیل کو شاعری کے علاوہ بیڈمنٹن کھیلنا بہت پسند تھا۔ وہ اپنے دوست احباب کے ساتھ جب بھی پکنک پر جاتے تو وہ بیڈمنٹن کے ساتھ ساتھ پتنگ بازی بھی کرتے تھے۔ نوشاد، محمد رفیع اور کبھی کبھار جانی واکر بھی ان کے ساتھ پتنگ بازی کے مقابلے میں حصہ لیا کرتے تھے۔

فلمی گیتوں کے علاوہ شاعری کے پانچ مجموعے غم فردوس، صنم و حرم، رعنائیاں، رنگینیاں، شبستاں کے نام سے شائع ہوئے۔ اس کے علاوہ ان کی کلیات بھی ان کی زندگی میں ہی شائع ہو گئی تھی، تاہم 1969 میں لکھی گئی آپ بیتی 2014 میں شائع ہوئی۔


شکیل بدایوں کا محض 53 برس کی عمر میں 20 اپریل 1971 کو ممبئی میں انتقال ہوا۔ اور وہیں دفن ہوئے۔ مگر قبرستان کی انتظامیہ نے اور دوسری بہت سی مشہور شخصیات کی طرح 2010 میں ان کی قبر کا نام و نشان تک مٹا دیا۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔