گلی بوائے: زمین سے اٹھ کر خوابوں کا آسمان چھو لینے کی کہانی

’اینگری ینگ مین‘ ناانصافی کے بعد جرائم کی دنیا سے جڑ جاتا ہے، ’سلم ڈاگ ملینیئر‘ اپنے تجربہ اور اخلاقیات سے کامیاب ہوتا ہے لیکن ’گلی بوائے‘ غربت اور جد و جہد کے درمیان اپنے خوابوں کو حقیقت بنا دیتا ہے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

پرگتی سکسینہ

جاوید اختر اور امیتابھ بچن کا ’اینگری ینگ مین‘ والا روپ تو یاد ہی ہوگا۔ پھر ہمارے پاس ’سلم ڈاگ ملینیئر‘ بھی ہے جس میں دھاراوی کا ایک لڑکا کروڑوں روپے جیت جاتا ہے۔ اینگری ینگ مین سماج کے ظلم و ستم کو برداشت کر کے جہاں جرائم کی دنیا میں قدم رکھتا ہے وہین سلم ڈاگ ملینیئر میں یہی غریب اور بے بس نوجوان اپنے تجربہ اور اخلاقیات کو کامیابی کی چابی کی طرح استعمال کرتا ہے۔ لیکن گلی بوائے کا ’مراد‘ آج کا وہ نوجوان ہے جو اپنی مشکلات، غریبی اور جد و جہد کے درمیان اپنے خوابوں کی راہ اختیار کرتا ہے اور کامیاب رہتا ہے۔

فلم کافی متاثر کرتی ہے۔ زویا اکثر اس طرح کے موضوعات چنتی رہی ہیں جن میں کوئی شخص اپنی زندگی میں کیا کرنا چاہتا ہے، اس کے کیا خواب ہیں اور کس طرح وہ انہیں پورا کرنا چاہتا ہے، اس سب کا تذکرہ ہوتا ہے۔ گلی بوائے میں بھی یہی سب باتیں آپ کو نظر آئیں گی۔

گلی بوائے: زمین سے اٹھ کر خوابوں کا آسمان چھو لینے کی کہانی

گلی بوائے ایک غریب نوجوان کی کہانی ہے جو اپنے حالات اور والدین کی چاہتوں سے بالاتر ہو کر کچھ علیحدہ کرنے اور حاصل کرنے کا خواب آنکھوں میں سجاتا ہے۔ رفتہ رفتہ وہ ایک الگ طرح کی شاعری اور موسیقی کے ذریعے دل کی بات کہنے کی اپنی قابلیت کو ظاہر کرتا ہے اور تمام لوگوں کی حوصلہ شکنی کے باوجود کامیابی حاصل کرتا ہے۔

اچھی بات یہ ہے کہ فلم میں صرف ہیرو پر ہی نہیں بلکہ دیگر کرداروں پر بھی توجہ مرکوز رکھی گئی ہے، مثلاً مراد کی معشوقہ (عالیہ بھٹ)، مراد کا خیر خواہ اور مشیر (سدھانت چترویدی) بھی اپنے آپ میں دمدار کردار ہے، دونوں ہی اپنی موجودگی ظاہر کرنے میں کامیاب رہتے ہیں۔

ہندی فلم انڈسٹری میں غریب اور حاشیہ پر کھڑے اہم کرداروں پر کئی فلمیں آئی ہیں۔ اینگری ینگ مین کی شبیہ والے 70 اور 80 کے عشروں والے ہیرو یوں تو سماج کے چھپے رستم کو نمایاں کرتے تھے لیکن وہ تمام ہیرو سماج سے انتقام لینے کے جذبہ کے ساتھ جرائم سے وابستہ ہو جاتے تھے۔ سماج میں کامیابی، طاقت اور دولت حاصل کرنے کا یہ آسان طریقہ تھا۔

اس کے بعد موسیقی اور رقص کو مرکز میں رکھ کر ’عاشقی‘ اور ’اے بی سی ڈی‘ جیسی فلمیں آئی ہیں جو کامیاب تو رہیں لیکن جس طرح کے کردار اور مکالمے زویا اختر کی گلی بوائے پیش کرتی ہے وہ ان فلموں سے کہیں بہتر ہے۔

گلی بوائے: زمین سے اٹھ کر خوابوں کا آسمان چھو لینے کی کہانی

یہ فلم ہمارے سماج کے محروموں اور انڈر ڈاگ (چھپے رستموں) کی ایک الگ اور مثبت شبیہ پیش کرتی ہے۔ اچھی بات یہ ہے کہ اس کی کہانی اصل رَیپ آرٹسٹ ’ڈیوائن‘ اور ’نیزی‘ کی زندگی پر مبنی ہے۔ اس لئے فلم حقیقت کا فلمی اور خوابوں کی دنیا کے ساتھ ایک خوبصورت توازن بنا کر رکھتی ہے۔ واضح رہے کہ خاص طرح کی طرز پر گائے جانے والا ’ریپ سانگ‘ وہ ہوتا ہے جسے گلوکار تقریباً گفتگو کے انداز میں پیش کرتا ہے۔ فلم گلی بوائے کا ’اپنا ٹائم آئے گا‘ بھی ایک ریپ سانگ ہے جو نوجوانوں میں کافی مقبول ہو رہا ہے۔

فلم کے ریپ تو پہلی ہی کافی مشہور ہو گئے ہیں اور ایک مثال یہ ہے کہ کس طرح جدید اور کان پھوڑو موسیقی کے اس دور میں بہتر گیت بھی تخلیق کیے جا سکتے ہیں۔ امید ہے کہ ’گلی بوائے‘ بھی ’دل چاہتا ہے‘ کی طرح آج کے نوجوانوں کی پسند پر کھری اترے گی اور اس کے نغمے تو نوجوانوں کے ترانے بنتے جا رہے ہیں جنہیں وہ ہر کہیں گنگناتے نظر آ جاتے ہیں۔