اوم پوری: اداکاری کے فن کو وقار اور بلندی دینے والا نام
اوم پوری نے اپنی بے ساختہ اداکاری، گمبھیر آواز اور سچائی سے بھرپور کرداروں کے ذریعے ہندوستانی اور عالمی سنیما میں چار دہائیوں تک انمٹ نقوش چھوڑے۔

ہندوستانی سنیما میں کچھ اداکار ایسے ہوتے ہیں جو صرف کردار ادا نہیں کرتے بلکہ اپنے وجود سے انہیں زندہ کر دیتے ہیں۔ اوم پوری انہی میں سے ایک تھے۔ اپنی گمبھیر آواز، بے ساختہ مکالمہ اداکاری اور غیر معمولی کردار نگاری کے ذریعے انہوں نے تقریباً تین دہائیوں تک فلمی ناظرین کے دلوں پر حکمرانی کی۔ اوم پوری کی اداکاری میں بناوٹ نہیں بلکہ زندگی کی کڑواہٹ، تلخی اور سچائی جھلکتی تھی۔
اوم پوری 18 اکتوبر 1950 کو ہریانہ کے انبالہ میں پیدا ہوئے۔ ان کا بچپن معاشی دشواریوں اور عدم استحکام میں گزرا۔ خاندان کی کفالت کے لیے کم عمری میں ہی انہیں ایک ڈھابے میں کام کرنا پڑا، جہاں بعد میں چوری کے الزام کے تحت انہیں نکال دیا گیا۔ یہ واقعات ان کے دل میں محرومی کا ایسا احساس چھوڑ گئے جو بعد میں ان کی اداکاری کی گہرائی میں ڈھلتا چلا گیا۔ بچپن کے دنوں میں وہ جس مکان میں رہتے تھے، اس کے عقب میں ریلوے یارڈ تھا۔ راتوں کو گھر سے نکل کر کسی کھڑی ٹرین میں سو جانا اور مستقبل میں ریلوے ڈرائیور بننے کے خواب دیکھنا، یہ سب ان کی ابتدائی زندگی کے انوکھے مگر کٹھن تجربات تھے۔
کچھ عرصے بعد اوم پوری اپنے ننہال، پنجاب کے شہر پٹیالہ چلے آئے، جہاں انہوں نے ابتدائی تعلیم مکمل کی۔ یہیں ان کے اندر اداکاری کا شوق پروان چڑھا اور وہ اسٹیج ڈراموں میں حصہ لینے لگے۔ خالصہ کالج میں تعلیم کے دوران وہ ایک وکیل کے یہاں بطور منشی کام کرتے رہے، مگر ڈرامے میں شرکت کے باعث غیر حاضری پر نوکری سے محروم ہو گئے۔ کالج کے پرنسپل نے ان کی صلاحیت کو پہچانا اور کیمسٹری لیب میں اسسٹنٹ کی ذمہ داری دے دی، جس کے ساتھ ساتھ وہ تھیٹر سے وابستہ رہے۔ اسی عرصے میں ہرپال اور نینا توانا جیسے تھیٹر سے جڑے افراد سے ملاقات نے انہیں پنجاب اسٹیج تھیٹر تک پہنچایا۔
تھیٹر کے میدان میں مضبوط بنیاد رکھنے کے بعد اوم پوری نے دہلی کے نیشنل تھیٹر اسکول میں داخلہ لیا۔ یہاں سے عملی تربیت حاصل کرنے کے بعد انہوں نے پونے کے فلم اینڈ ٹیلی ویژن انسٹی ٹیوٹ میں اداکاری کی باقاعدہ تعلیم حاصل کی۔ 1976 میں تربیت مکمل کرنے کے بعد وہ کچھ عرصہ ایک اسٹوڈیو میں اداکاری کا درس بھی دیتے رہے اور بعد ازاں اپنا تھیٹر گروپ ’مجمع‘ قائم کیا، جو ان کے تھیٹر سے لگاؤ کا ثبوت تھا۔
فلمی دنیا میں اوم پوری کا آغاز 1976 میں مراٹھی ڈرامے پر مبنی فلم ’گھاسی رام کوتوال‘ سے ہوا، جس میں انہوں نے مرکزی کردار ادا کیا۔ اس کے بعد گودھولی، بھومیکا، بھوک، شاید اور دیگر آرٹ فلموں میں نظر آئے، مگر بڑی کامیابی ابھی دور تھی۔ 1980 میں گووند نہلانی کی فلم ’آکروش‘ نے ان کے کیریئر کا رخ بدل دیا۔ ایک ایسے شخص کا کردار، جس پر بیوی کے قتل کا الزام ہے، اوم پوری نے اس قدر شدت اور سچائی سے نبھایا کہ انہیں فلم فیئر ایوارڈ (بہترین معاون اداکار) ملا۔
1983 میں فلم ’اردھ ستیہ‘ نے اوم پوری کو فن کی نئی بلندیوں پر پہنچا دیا۔ ایک باغی مزاج پولیس افسر کے کردار میں ان کی اداکاری آج بھی مثال سمجھی جاتی ہے۔ اسی فلم پر انہیں بہترین اداکار کا قومی ایوارڈ ملا، اور وہ سنجیدہ اداکاری کے استعارے کے طور پر پہچانے جانے لگے۔ اسی دہائی میں انہوں نے متوازی سنیما کے ساتھ ساتھ کمرشیل فلموں کا رخ بھی کیا، جہاں انہوں نے ہر طرح کے کرداروں میں خود کو ثابت کیا۔
نوے کی دہائی میں اوم پوری نے ٹیلی ویژن کی دنیا میں قدم رکھا۔ سیریل ’ککاجی کہن‘ میں ان کی مزاحیہ اداکاری نے ثابت کر دیا کہ وہ صرف سنجیدہ کرداروں تک محدود نہیں۔ ہندی اور پنجابی فلموں کے ساتھ ساتھ انہوں نے بین الاقوامی سنیما میں بھی اپنی صلاحیت کا لوہا منوایا۔ ایسٹ از ایسٹ، سٹی آف جوائے، دی گھوسٹ اینڈ دی ڈارکنیس اور چارلی ولسنز وار جیسی ہالی ووڈ فلموں میں ان کی موجودگی نے ہندوستانی اداکاروں کی عالمی شناخت کو مضبوط کیا۔
ہندوستانی سنیما میں ان کی گراں قدر خدمات کے اعتراف میں 1990 میں انہیں پدم شری سے نوازا گیا۔ چار دہائیوں پر محیط کیریئر میں انہوں نے تقریباً 200 فلموں میں اداکاری کی، جن میں اسپرش، مرچ مسالا، منڈی، ماچس، گھاتک، گپت، چاچی 420، چائنا گیٹ، دیو، یووا، ہنگامہ اور مالا مال ویکلی جیسی یادگار فلمیں شامل ہیں۔ آخری برسوں میں بجرنگی بھائی جان اور گھائل ونس اگین میں بھی ان کی موجودگی ناظرین کو متاثر کر گئی۔
اوم پوری 6 جنوری 2017 کو 66 برس کی عمر میں اس دنیا سے رخصت ہو گئے مگر ان کی آواز، ان کے مکالمے اور ان کے کردار آج بھی زندہ ہیں۔ وہ محض ایک اداکار نہیں، بلکہ ہندوستانی سنیما کا وہ باب ہیں جسے وقت کبھی مٹا نہیں سکتا۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔