نندیتا داس نے فلم ’منٹو‘ میں دکھایا کہ منٹو کا درد اب بھی موجود ہے

سچ کو صرف سچ کہنے والے افسانہ نگار سعادت حسن منٹو کے ساتھ نندیتا داس نے فلم ’منٹو‘ میں پورا انصاف کیا ہے، اور اس فلم کے ذریعہ اُس دور کے ہندوستان کو دکھاتے ہوئے سماج کے دوغلہ پن کو بھی ظاہر کیا ہے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

سید خرم رضا

نندیتا داس کی فلم ’منٹو‘ میں نواز الدین صدیقی کی لاجواب اداکاری نے فلم میں جان ڈالی ہے جس کی وجہ سے فلم کے دوران کسی بھی وقت یہ محسوس نہیں ہوتا کہ نوازالدین ایک اداکار ہیں اور سعادت حسن منٹو نہیں ہیں۔ فلم میں منٹو کی اہلیہ سفیہ کا کردار ادا کرنے والی راسیکا دگل نے بھی اپنی ادکاری کی زبردست چھاپ چھوڑی ہے۔ بھسین نے بھی اس وقت کے بالی وڈ اداکار شیام چڈھا کا کردار بخوبی نبھایا ہے۔

نندیتا داس نے جس شاندار انداز میں اس فلم کو ڈائریکٹ کیا ہے اس کو دیکھنے کے بعد یہ کہا جا سکتا ہے کہ انہوں نے منٹو کے ساتھ پورا انصاف کیا ہے۔ انہوں نے منٹو کی زندگی کے اہم مسائل کو پیش کرتے ہوئے اس دور کے مسائل منٹو کے افسانوں کے ذریعہ پیش کئے ہیں۔ پوری فلم میں کہیں بھی ایسا محسوس نہیں ہوتا کہ ہم منٹو کے دور میں نہیں ہیں ۔ لباس، سیٹس اور جو بھی چیزیں استعمال کی گئی ہیں ان کو دیکھ کرسامعین اسی دور میں پہنچ جاتے ہیں اور کہیں بھی کچھ بھی جھوٹ اور دکھاوٹی نہیں لگتا۔ دراصل یہی منٹو کی شخصیت بھی تھی۔ منٹو کی شخصیت جھوٹ اور دکھاوے سے کوسوں دور تھی۔ منٹو نے اگر شراب پینی ہے تو اس کے لئے یہ نہیں ہے کہ یہاں پینی ہے اور یہاں نہیں پینی۔ پوری دنیا منٹو کے ادب کو فحش کہتا رہے لیکن منٹو کو جو دکھتا تھا وہ ہی اپنے افسانہ میں تحریر کرتے تھے اور ان کو سچ کے علاوہ کچھ اور بولنا آتا ہی نہیں تھا۔

نندیتا داس نے اس فلم کے ذریعہ دراصل یہیں پیغام دیا ہے کہ منٹو ایک سچ کا نام تھا اورحالات کیسے بھی ہوں وہ سچ کے علاوہ کچھ اور نہیں تھا۔ نندیتا داس نے فلم میں فیض احمد فیض کے عدالت میں دئے گئے ایک بیان کے ذریعہ یہ دکھانے کی کوشش کی ہے کہ منٹو ترقی پسند مصنفوں سے خوش نہیں تھے۔ دراصل ٹھنڈا گوشت کے خلاف عدالتی کارروائی کے دوران فیض نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ یہ افسانہ فحش تو نہیں ہے لیکن ادب کے پیمانہ پورے نہیں کرتا۔

فلم ’منٹو‘ کے ذریعہ سامعین کو اس دور میں جھانکنے کا موقع ملاہے اور تقسیم وطن کے کرب کو محسوس کرنے کا موقع ملا ہے۔ اس فلم سے اس وقت کے دو بڑے شہر لاہور اور ممبئی کی زندگیوں کے بارے میں بھی جاننے کا موقع ملتا ہے۔

کسی بھی حالت میں اس فلم کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا اور صرف اس لئے نہیں کہ نندیتا داس کاڈاریکشن بہت اچھا ہے یا نوازالدین صدیقی کی ادکاری بہت لاجواب ہے بلکہ اس لئے بھی کہ جو مسائل تقسیم وطن کے وقت ملک کو درپیش تھے ویسے ہی حالات آج بھی موجود ہیں اور ایسا لگتا ہے کہ ملک کو جن مسائل کا سامنا آزادی وقت تھا ان مسائل کا سامنا آج بھی ہے۔ اس وقت بھی ہندو اور مسلم ٹوپی کی بات تھی ، اس وقت بھی ادب کو لے کر ایسے ہی سوال اٹھائے جاتے تھے جیسے آج ہمارا سنسکاری گروہ اٹھاتا ہے اور آج بھی ایک منٹو ک ضرورت ہے۔

منٹو کے الفاظ میں ’’دنیا کے درد کو شدت سے محسوس کرنے والے اور انسانیت کی بہتری کے لئے سوچنے والوں کی موت اس وقت نہیں ہوتی ہے جب ایسے لوگ اس دنیا سے چلے جاتے ہیں ، بلکہ ان کی موت اس وقت ہوتی ہے جب وہی سماج جسے وہ آئنہ دکھانے کی کوشش کر رہے ہوتے ہیں وہ ایسے جنونی لوگوں کو اہمیت دینا بند کر دیتا ہے اور ان کی سوچ کو سمجھنا چھوڑ دیتا ہے‘‘۔