کورونا وائرس: ’مشکل پسندی کو دین نہ سمجھیں، نمازیں گھروں پر پڑھیں‘

مفتی اطہر شمسی نے کہا کہ سورۃ بقرہ آیت 185 میں کہا گیا ہے کہ اللہ تمہارے ساتھ مشکل نہیں چاہتا وہ تمہارے ساتھ آسانی چاہتا ہے۔ مسلمانوں کو چاہیے کہ اس آیت پر غور کریں اور نمازیں گھروں پر ہی ادا کریں۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

یو این آئی

کیرانہ: القرآن اکیڈمی کے ڈائریکٹر مفتی اطہر شمسی نے ملت پر زور دیا ہے کہ وہ کورونا قہر کے پیش نظر عین قرآنی تعلیم کی روشنی میں عافیت پسندانہ قدم اٹھاتے ہوئے نمازیں اپنے گھروں پر ہی ادا کریں۔ انہوں نے آج یہاں کہا کہ قرآن کی سورۃ بقرہ آیت 185 میں کہا گیا ہے کہ اللہ تمہارے ساتھ مشکل نہیں چاہتا وہ تمہارے ساتھ آسانی چاہتا ہے۔ مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ اس آیت پر غور کریں اور نمازیں اپنے گھروں پر ہی ادا کریں۔

مولانا نے کہا کہ مساجد کو آباد رکھنے کی اس وقت بہتر صورت یہ ہو گی کہ امام اور مؤذن مسجدوں میں جماعت کے ساتھ نماز ادا کرتے رہیں۔ باقی لوگ اپنے گھروں میں نماز پڑھیں۔ اُنہوں نے مشکل پسندی کو ہی دین تصور کر لینے کی سوچ سے باہر نکلنے کی تلقین کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک خود ساختہ تصور ہے جس سے ملت کو فوری طور پر باہر نکلنا چاہیے اور دین کی اصل حقیقت کو سمجھنا چاہیے جو فطرت پر مبنی ہے۔

مفتی اطہر شمسی نے بتایا کہ ایک بار پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں جذام کا ایک مریض بیعت کرنے کے لئے حاضر ہوا۔ آنحضور نے اس سے ہاتھ نہیں ملایا اور فاصلے سے ہی بیعت قبول کر لی۔ یہ کراہیت ہرگز نہیں بلکہ احتیاط ہے جو عین فطری ہے۔ مفتی شمسی نے بتایا کہ ان تعلیمات سے واضح ہو گیا کہ لوگوں کو متعدی امراض سے بچاؤ کی تمام تدابیر اختیار کرنی چاہئیں اور احتیاطی تدابیر کو دین کے خلاف نہیں سمجھنا چاہیے۔