شبھ منگل زیادہ ساودھان: آیوشمان ہی نہیں، معاون اداکاروں نے بھی جیتا دل- ویڈیو ریویو

فلم کا موضوع ہم جنس پرستی ہے۔ اس موضوع پر پہلے بھی فلمیں بنی ہیں جنھوں نے اس کے پیچھے کے سنجیدہ پہلو کو حساس طریقے سے لوگوں کے سامنے رکھا ہے۔ لیکن’شبھ منگل زیادہ ساودھان‘ الگ طرح کی فلم ہے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

پرگتی سکسینہ

فلم ’شبھ منگل زیادہ ساودھان‘ کے بارے میں اگر ایک جملہ میں کچھ کہنا ہو تو بس یہی کہا جائے گا کہ ’’فلم بہت دلچسپ ہے۔‘‘ اداکاروں نے بہترین کام کیا ہے اور اس فلم میں تقریباً وہی اداکار ہیں جنھوں نے ’بدھائی ہو‘ میں زبردست کام کیا تھا۔ ایوشمان کھرانہ کے بارے میں پہلے ہی بہت کچھ لکھا جا چکا ہے اور وہ اس فلم میں بھی مایوس نہیں کرتے۔ دراصل کیمرے کے سامنے وہ پہلے سے کہیں زیادہ سہل اور پراعتماد نظر آتے ہیں۔

فلم کا موضوع ہم جنس پرستی ہے۔ اس موضوع پر پہلے بھی فلمیں بنی ہیں جنھوں نے اس کے پیچھے کے سنجیدہ پہلو کو حساس طریقے سے لوگوں کے سامنے رکھا ہے۔ لیکن گزشتہ سال آئی ’اک لڑکی کو دیکھا تو ایسا لگا‘ اور ’شبھ منگل زیادہ ساودھان‘ ہم جنس پرستی پر مبنی دو ایسی فلمیں ہیں جو مزاحیہ انداز میں لیکن نرمی کے ساتھ بغیر کسی سماجی تانے بانے کو نقصان پہنچائے یہ بتاتی ہیں کہ ہم جنس پرستی پر مبنی رشتے بھی فطری ہوتے ہیں۔

ایوشمان کھرانہ ایسی فلموں میں کام کرنے کے لیے مشہور ہیں جو سماج کے حاشیے پر کھڑے ایشوز کی طرف توجہ مبذول کراتی ہیں۔ ایسے ایشوز جن سے اکثر ہم آنکھیں چراتے ہیں۔ اچھی بات یہ ہے کہ ایوشمان کی ان کوششوں کی لگاتار تعریفیں ہوئی ہیں، ان کی حوصلہ افزائی ہوئی ہے۔ ہم جنس پرستی بھی ایک ایسا ایشو ہے جس سے لوگ آنکھیں چراتے ہوئے محسوس ہوتے ہیں۔

فلم ’شبھ منگل زیادہ ساودھان‘ ہم جنس پرستی سے جڑے مظالم، ہم جنس پرستوں کے استحصال جیسے سنجیدہ پہلوؤں کو نہیں بلکہ پہلے سے ہی متعدد پابندیوں اور زنجیروں میں جکڑے سماج میں، اہل خانہ میں ہم جنس پرستی کی قبولیت جیسے ایک اہم پہلو پر فوکس کرتی ہے۔ دیکھا جائے تو یہ کوئی بہت بے مثال یا پیچیدہ فلم نہیں ہے بلکہ یہ دلچسپ اور لیک سے ہٹ کر ہے اور اس طرح کی فلمیں دیکھنا لوگ پسند کرتے ہیں۔ حساس ایشوز کو مزاحیہ و طنزیہ ڈائیلاگ اور حالات کے ذریعہ پردۂ سیمیں پر اتارنا ایوشمان کھرانہ کی فلموں کی خاصیت بن چکی ہے (فلم ’آرٹیکل 15‘ اس سے مستثنیٰ ہے)۔ ’شبھ منگل زیادہ ساودھنا‘ بھی کچھ ایسی ہی مزاحیہ و طنزیہ ڈائیلاگ و مناظر سے بھری ہوئی ہے۔

لیکن اس فلم کی سب سے دلچسپ بات ہے اس کے معاون اداکار۔ جتیندر کمار اور آیوشمان کھرانہ جیسے باصلاحیت اداکاروں کے ساتھ منو رشی، سنیتا راجوارے، مانوی گگرو اور پنکھری اوستھی جیسے محنتی اداکار فلم کو دلچسپ بنانے کے ساتھ ساتھ پُرمزاح بھی بناتے ہیں۔ اس کے علاوہ گجراج راؤ اور نینا گپتا جیسے سینئر اور اہل اداکار ہوں تو پھر کیا کہنے!

فلم میں دو چیزیں بہت اہم ہیں جو ناظرین کو باندھے رکھتی ہیں۔ سب سے پہلی چیز تو فلم کے ڈائیلاگ جو بہت ہنرمندی کے ساتھ آج کے سیاسی منظرنامے پر چٹکی لیتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ جی ایس ٹی، نوٹ بندی اور سپریم کورٹ... ان سب پر چٹکی لی گئی ہے جو فلم میں لوگوں کی دلچسپی برقرار رکھتے ہیں۔ دوسری بات ہے فلم کے کردار۔ اداکار کے والدین اپنی ہندی فلموں کے روایتی رول ماڈل والدین نہیں ہیں (’میرے پاس ماں ہے!‘ اس مشہور ڈائیلاگ کا بھی فلم میں بہترین استعمال ہوا ہے)، بلکہ انھیں ایک ایسے شادی شدہ جوڑے کے طو رپر بھی دکھایا گیا ہے جو سماجی دباؤ میں آ کر اپنے اپنے پیار کو چھوڑ کر ایک دوسرے سے شادی کرنے کے لیے مجبور ہو جاتے ہیں۔ حالانکہ وہ اپنے بیٹے کی ہم جنس پرستی کو قبول نہیں کرنا چاہتے، لیکن وہ یہ بھی نہیں چاہتے کہ ان کا بیٹا ان کی طرح ایک کسک برداشت کرتے ہوئے آدھی-ادھوری زندگی جیے۔

بے شمار تضادات اور نااتفاقیوں سے نبرد آزما ایک مشترکہ فیملی میں پیدا ہوتے مضحکہ خیز حالات اور شور و غل کو دیکھنے کا بھی اپنا ہی مزہ ہے۔ ایسا اس لیے کیونکہ واقعی ایک متوسط مشترکہ فیملی کے ادھیڑ بُن کو دیکھنا اچھا لگتا ہے، جہاں چغل خوری ہے، شکایتیں ہیں اور ڈھیر ساری چہل بازی بھی ہے۔ چمپا، گاگلس اور چمن جیسے کردار کہانی کی رفتار دھیمی ہونے پر بھی فلم سے توجہ نہیں ہٹنے دیتے۔

جہاں تک موسیقی کا سوال ہے، تو پنجابی پاپ اور ریمکس سے اب ہمارا من بھر چکا ہے۔ فلم ہدایت کار اور فلم ساز کو یہ احساس ہونا چاہیے کہ کچھ ’آریجنل‘ بھی بنا لیں۔ ہماری فلموں کی موسیقی اور گانے سے متعلق روایت بہت فخریہ اور عظیم الشان رہی ہے، اسے فراموش نہیں کیا جانا چاہیے۔ بہر حال، فلم کا اسکرین پلے بہت اچھا ہے اور کہانی سے زیادہ چٹخ دار ڈائیلاگ اور اس کے کردار ہیں۔ مجموعی طور پر یہ ایک مزیدار فلم ہے جس میں آپ کو مرکزی کردار ایوشمان کھرانہ اور جتیندر کمار سے زیادہ دلچسپ اور ہنسانے والے دیگر اداکار محسوس ہوں گے۔