لَو سونیا... ایک ناخوشگوار فلم جسے ضرور دیکھنا چاہیے

فلم ’لو سونیا‘ کو دیکھتے ہوئے ایک عجیب سی خلش آپ کو گھیر لیتی ہے، ایک خاص طرح کا گھناؤنا سا احساس پریشان کرنے لگتا ہے کیونکہ یہ فلم ریڈ لائٹ علاقے کی حقیقت کو آپ کے سامنے جوں کا توں رکھ دیتی ہے

اس فلم کا آغاز ہوتا ہے ایک بے حد نازک اور خوبصورت سیکوئنس کے ساتھ جب ایک نوعمر لڑکا ایک تتلی پکڑتا ہے اور پھر اپنے ساتھی بچوں کو دکھاتا ہے کہ بوتل میں بند تتلی کس طرح پنکھ پھڑپھڑاتے ہوئے گال پر بوسہ کا احساس دیتی ہے...، اور نہ جانے کیسے یہ سیکوئنس آپ کو اس مایوسی اور پریشانی کا احساس دلا جاتی ہے جو اس فلم میں موجود ہے۔ ’لَو سونیا‘ سیکس ٹرافکنگ پر مرکوز فلم ہے۔ خاص طور پر یہ فلم چھوٹی لڑکیوں کو جنسی کاروبار کی دنیا میں جھونک دیے جانے پر مبنی ہے۔ عام طور پر ہندی فلموں میں کال گرلس یا طوائفوں کا گلیمرائزڈ ایڈیشن پیش کیا جاتا ہے جن کے ذریعہ چند ایک آئٹم سانگ کو فلم میں رکھ کر باکس آفس پر پیسہ کمایا جاتا ہے اور نتیجتاً ہم سال بھر کسی نہ کسی تہوار یا شادی کے موقع پر لاؤڈ اسپیکروں سے گونجتے ان گانوں کو سننے کے لیے مجبور ہو جاتے ہیں۔

لیکن ’لو سونیا‘ الگ فلم ہے۔ یہ فلم کہیں کہیں آپ کو 1984 میں آئی فلم ’گدھ‘ کی یاد دلا جاتی ہے۔ اس فلم کو دیکھتے ہوئے ایک عجیب سی خلش آپ کو گھیر لیتی ہے، ایک خاص طرح کا گھناؤنا سا احساس پریشان کرنے لگتا ہے کیونکہ یہ فلم ریڈ لائٹ علاقے کی حقیقت کو آپ کے سامنے جوں کا توں رکھ دیتی ہے، اور وہ بھی اسے ظاہری طور پر خوبصورت بنانے کی کوئی بھی کوشش کیے بغیر۔

اس علاقے کے کردار بھی زندہ لاشوں کی مانند گھومتے پھرتے محسوس ہوتے ہیں۔ انسانی جسم کا احساس اتنا حاوی ہونے لگتا ہے کہ جی مچلانے لگے۔ کہانی سادہ سی ہے، بلکہ گھسی پٹی سی۔ لیکن چونکہ اصل میں ہوتا یہی ہے اس لیے اس کا گھسا پٹا لگنا لازمی ہی ہے۔ ایک غریب کسان اپنی گوری اور خوبصورت لڑکی پریتی کو مجبوراً امیر زمیندار کے ہاتھوں فروخت کر دیتا ہے اور اپنی دوسری سانولی اور مضبوط جسم والی بیٹی سونیا کو کھیتوں میں کام کرنے کے لیے رکھ لیتا ہے۔

سونیا کو اپنی بہن کی بہت یاد آتی ہے اور اس لیے وہ فیصلہ کرتی ہے کہ وہ گھر سے بھاگ جائے گی۔ گھر سے بھاگ کر وہ بھی اس زمیندار کے دلال کے ساتھ ممبئی چلی آتی ہے جہاں اسے ممبئی کے ریڈ لائٹ ایریا میں فروخت کر دیا جاتا ہے۔ اب شروع ہوتا ہے جسم کے کاروبار کا خوفناک سلسلہ جسے برداشت کرتے ہوئے سونیا آخر کار پریتی سے ملتی ہے لیکن تب تک اس کی پیاری بہن نشے کی عادی ہو جاتی ہے اور ایک طوائف بن چکی ہوتی ہے۔ لیکن سونیا کے اندر ایک عزم ہے کہ ایک نہ ایک دن سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا۔

ریڈ لائٹ علاقے کے ڈان فیضل کے کردار میں منوج واجپئی اثر انداز ثابت ہوتے ہیں۔ اگر ہم اداکاروں کے لحاظ سے دیکھیں تو تقریباً سبھی نے قابل تعریف کام کیا ہے سوائے فریڈا پنٹو کے، جو اتنا متاثر نہیں کرتیں۔ حالانکہ ان کے کردار کو ایک زبردست کہانی اور پس منظر دیا گیا ہے۔ ’مادھوری‘ کے کردار میں رِچا چڈھا نے اس سیکس ورکر کے کردار کو بے حد حساس طریقے سے نبھایا ہے جو یہ سوچتی ہے کہ ریڈ لائٹ ایریا کے ظالمانہ نظام کا ایک حصہ بن کر ہی اس سے بچا جا سکتا ہے۔

لیکن اس پوری فلم کے اثردار ہونے کا اصل سہرا ہدایت کار تبریز نورانی کو جاتا ہے۔ تبریز نورانی نے تین سال سے بھی زیادہ اس فلم کے اسکرپٹ پر کام کیا اور پوری فلم کو نہ صرف حساسیت کے ساتھ بلکہ ایمانداری سے بھی پردے پر اتارا ہے۔ جسم کے کاروبار کی دنیا جو ہمارے سماج کے حاشیے پر پھلتی پھولتی رہتی ہے، اسے پوری حقیقت کے ساتھ پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے... اندھیری، گندگی سے بھری، مایوس کن اور خوفناک۔

ممبئی کے ریڈ لائٹ علاقے کا سیٹ بنانے میں آرٹ ڈائریکٹر کی محنت بھی دکھائی پڑتی ہے۔ لیکن اس فلم کی اگر کوئی کمزوری ہے تو وہ ہے اس میں علاقائی تیور کی کمی۔ مہاراشٹر کے ایک دور دراز گاؤں کے کردار شہری ہندی میں بولتے ہوئے کچھ عجیب معلوم پڑتے ہیں۔ یہ فلم کے پورے موڈ کے بھی برعکس ہے۔ لیکن شاید بین الاقوامی سطح پر فلم بنانے کی یہ ایک بڑی خامی ہے جسے برداشت کرنا ہی پڑتا ہے۔ حالانکہ میرا ماننا ہے کہ ڈائیلاگ کو علاقائی انداز دے کر فلم کو مزید اثردار بنایا جا سکتا تھا۔ فلم کی رفتار بھی دھیمی ہے جو شاید باکس آفس کے مطابق نہیں، خاص طور پر انٹرول کے بعد فلم بہت سرسری انداز میں چلتی ہوئی نظر آتی ہے۔

یہ ایک فیل گُڈ فلم نہیں ہے جسے ہفتے کے آخر میں تفریح کے طور پر دیکھا جائے۔ لیکن یہ ایسی فلم ہے جسے دیکھا جانا چاہیے تاکہ اپنے سماج تاریک اور ظالم گوشوں سے سامنا ہو سکے، تاکہ ہم سمجھ سکیں کہ ایک سماج کے طور پر ہم اپنے کسانوں، اپنی خواتین اور لڑکیوں سے کس طرح پیش آتے ہیں۔

آج کے دور میں جب ایک طرف عصمت دری، قتل، جبراً سیکس کے معاملے لگاتار بڑھ رہے ہیں، اور دوسری طرف چمک دمک کے ساتھ خواتین کو بطور مادہ پیش کیا جا رہا ہے، یہ فلم چاہے کتنی ہی مایوسی سے کیوں نہ بھر دے... ضرور دیکھی جانی چاہیے۔

سب سے زیادہ مقبول