فلم ریویو... خون خرابے سے بھری ہے اکشے کمار کی ’کیسری‘

’کیسری‘ دیکھتے ہوئے ہمیں پتہ ہونا چاہیے کہ ساراگڑھی کی لڑائی اس لیے ہوئی کیونکہ انگریز دراصل افغان قبائلیوں کی آزادی کے انقلاب کو کچلنا چاہتے تھے۔ سکھ ریجمنٹ کا اس لڑائی میں شامل ہونا حب الوطنی نہیں۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

پرگتی سکسینہ

ہدایت کار انوراگ سنگھ کے مطابق 36 سکھ ریجمنٹ کے 21 بہادر سکھ جوان دس ہزار نوجوان افغان سپاہیوں سے محض اس لیے لڑائی پر آمادہ ہو گئے تھے کیونکہ وہ انگریزوں کے سامنے یہ ثابت کرنا چاہتے تھے کہ ہندوستانی بہادر ہوتے ہیں۔ پتہ نہیں اکشے کمار کو یہ احساس کب ہوگا کہ ان کی فلموں میں ’راشٹروادی‘ وطن پرستی کی ڈوز کچھ زیادہ اور بے حد ابانے والی ہوتی جا رہی ہے۔ وہ اب تقریباً 80-70 کی دہائی کے منوج کمار عرف ’بھارت کمار‘ ہو چلے ہیں۔ لگاتار لاؤڈ اور نام نہاد حب الوطنی ظاہر کرتے ڈائیلاگ کو چیخنا عجیب ہے جن کی دراصل کوئی خاص اہمیت نہیں ہے۔ لیکن کیا کریں، پلوامہ کے تکلیف دہ واقعہ کے بعد لوگوں کی سیکورٹی اور خوف کو کٹر وطن پرستی سے بھرے ڈائیلاگ سے جوڑنا آسان ہو گیا ہے۔

اب آتے ہیں ’کیسری‘ کی تعریف یعنی تشریح پر۔ بالی ووڈ میں ’کیسریا‘ رنگ کے تئیں نیا نیا لگاؤ آج کل دیکھنے کو مل رہا ہے۔ آپ سمجھ ہی سکتے ہیں کہ ایسا کیوں ہے۔ لیکن جھلاہٹ اس رنگ کی غلط تشریح سے ہوتی ہے۔ ایک خاص سیاسی پارٹی برسوں سے سیاست میں اس رنگ کی غلط تشریح کرتی آئی ہے اور اب بالی ووڈ سستی تفریح کے ذریعہ ایسا کر رہا ہے۔ کیسریا رنگ حقیقی معنوں میں ہجر کی علامت ہے۔ یہ بہادری اور طاقت کا رنگ ہوتا ہے۔

اگر ذرا ٹھہر کر سوچیں تو ساراغرھی کی جنگ سکھ فوجیوں کی بہادری اور طاقت کی زبردست مثال ہے، لیکن وطن پرستی اور حب الوطنی سے اس کا کوئی سروکار نہیں ہے۔ یہ فلم بے وجہ خواتین کے ایشوز، نسل اور غلامی جیسے ایشوز پر بھی بات کرتی ہے جو بہت عجیب لگتا ہے۔ نتیجتاً فلم آخر تک آتے آتے کچھ زیادہ ہی کھنچ جاتی ہے۔

’کیسری‘ دیکھتے ہوئے ہمیں معلوم ہونا چاہیے کہ ساراگڑھی کی لڑائی دراصل اس لیے ہوئی تھی کیونکہ انگریز دراصل افغان قبائلیوں کے ذریعہ شروع تحریک آزادی کے خلاف تھے اور اس انقلاب پر لگام کسنا چاہتے تھے۔ ایسے وقت میں 36 سکھ ریجمنٹ نے ایک بڑی افغان فوج سے لڑنے کا فیصلہ لیا جو کہ فوج کی ڈسپلن کی بہترین مثال ہے، وطن پرستی کی نہیں۔ پھر لڑائی کے دوران ایک فوجی جذباتی نغمہ گانا بڑا عجیب اور ’آؤٹ آف پلیس‘ لگتا ہے۔ پھر لڑائی کے سیکوئنس پر کروڑوں خرچ کرنے والے ڈائریکٹر نے افغانی فوجیوں کو چپل اور سینڈل پہنے دکھایا ہے جو اپنے آپ میں مضحکہ خیز غلطی ہے۔

اکشے کمار اتنے برسوں سے اداکاری کرتے آ رہے ہیں، اب تو انھیں یہ احساس ہونا چاہیے کہ ان کی آواز کمزور ہے اور اب وہ چیخ کر ڈائیلاگ بولتے ہیں تو سمجھ ہی نہیں آتا کہ کیا کہہ رہے ہیں۔ انھیں اپنی آواز پر کچھ زیادہ محنت کرنی چاہیے۔ یہ فلم جنگ کی لایعنیت کو اثرانداز طریقے سے ظاہر کر سکتی تھی لیکن افسوس کہ ہماری اندھی وطن پرستی کے جذبات نے ایسا نہیں ہونے دیا۔ یہ جذبات ہمیں بے حد سطحی اور تباہ کن شورش پسندی سے اوپر جانے ہی نہیں دیتے۔

آخر میں اس قدر تشدد دیکھنے کو ملتا ہے کہ دل اچاٹ ہو جاتا ہے اور ان فوجیوں کی بہادری پر فخر ہونے کی جگہ آپ کو بے چینی ہونے لگتی ہے۔ بدقسمتی سے ان سکھ فوجیوں کی تعریف کرنے کی جگہ فلم تشدد کی تعریف کرتی ہوئی محسوس ہوتی ہے۔ مرد اور تشدد پر مبنی اس فلم میں پرینتی چوپڑا ایک چھوٹے سے کردار میں ہیں اور انھوں نے ٹھیک ٹھاک کام کیا ہے۔ مجموعی طور پر ’کیسری‘ آپ کو بہت زیادہ خون خرابے کے ساتھ ایک عجیب کیفیت سے بھر دیتی ہے۔ اگر آپ کو خون سے بھرے مناظر اور مار پیٹ دیکھنے کا شوق ہے اور اگر آپ ’وطن پرست‘ اکشے کمار کو پسند کرتے ہیں تو فلم دیکھیں، ورنہ اسے نہ دیکھنے میں ہی بہتری ہے۔ اس سے بہتر ہے کہ ساراگڑھی کی لڑائی کے بارے میں کچھ پڑھ لیں، وہ کہیں زیادہ ترغیب دینے والی ہے۔