’ہم تو جیسے ابھی بندر سے انسان بنے ہیں!‘ کنگنا نے بین الاقوامی میڈیا پر اتارا غصہ

بالی وڈ اداکارہ کنگنا رنوت نے ایک ویڈیو جاری کیا ہے جس میں انہوں نے ہندوستان کی شبیہ خراب کرنے کے لئے بین الاقوامی میڈیا اور دانشوروں کو ذمہ دار ٹھہرایا ہے ۔

فائل تصویر آئی اے این ایس
فائل تصویر آئی اے این ایس
user

قومی آوازبیورو

کنگنا رنوت ویسےتو سرخیوں میں رہتی ہیں اور اس وقت وہ خوب بھڑک جاتی ہیں جب کوئی موجودہ حکومت پر سوال اٹھائے یا موجودہ حکومت کی شبیہ خراب کرنےکی کوشش کرے۔حال ہی میں ملک میں بڑھ رہےکوروناوبا کے معاملوں ، حکومت کی جانب سےکوئی ٹھوس قدم نہ اٹھائے جانے اور مرنےوالوں کی آخری رسومات ادا کرنےمیں آرہی دشواریوں پر کئی بین الاقوامی معروف میڈیا گھرانوں نے خبریں شائع کی ہیں اور حکومت کی کارکردگی پر سوال اٹھائے ہیں ۔اس پر بالی وڈ کی اداکارہ کنگنا رنوت بھڑک گئی ہیں ۔

کنگنا رنوت نےاپنےفینس کےساتھ ایک ویڈیو شئیر کیا ہے اور اس ویڈیو میں انہوں نے بین الاقوامی میڈیا اور ہندوستانی دانشوروں پر نشانہ سادھاہے۔اس میں وہ کہہ رہی ہیں ’’کورونا کے علاوہ ایسی بہت ساری چیزیں ہیں جو پریشان کرنے والی ہیں ، جنہیں میں آ پ کےساتھ ڈسکس کرنا چاہتی ہوں۔ کبھی آپنے دیکھا ہے ہندوستان میں کوئی آفت آتی ہے، بحران آتا ہےتو بین الاقوامی ستح پر ایک مہم چلائی جاتی ہے اور سارےممالک ایک ساتھ ہو جاتے ہیں۔‘‘

کنگنا یہیں نہیں رکیں بلکہ انہو ں نے مزید کہا ’’ہندوستان کو ایسےدکھایا جاتاہے کہ جیسےتم (ہندوستانی) لوگ تو ابھی بندر سے انسان بنےہو۔ چار گورے آ کر غلام نہیں بنائیں گے ، جب تک تمہیں نہیں بتائیں گے کہ کیاکرنا ہے، کیسےاٹھنا ہے، بیٹھنا ہے ،کھانا ہے۔ تم کو پتہ ہی نہیں ہے کہ جمہوریت کیاہے، تمہیں کسےسننا چاہئے، تم کوعقل ہی نہیں ہےتو ہم تم کو بتائیں گےکہ کیا کرنا ہے اور ان کا چینل بنتے ہیں ارونا دھتی جیسے دانشور ۔‘‘

کنگنا نےٹائمس میگزین میں شائع خبر کابھی ذکر کیا ۔ انہوں نے بین الاقوامی میڈیا کو بہت برا کہا لیکن انہوں نےاس پر کچھ نہیں کہاکہ ہندوستان کو ان میڈیا گھرانوں کےممالک سےہندوستان کوکیسے رابطہ رکھنے چاہئے ۔ ہندوستان کو کیا ان ممالک کےذریعہ دی جانےوالی امداد لینی چاہئے یا نہیں ۔ انہوں نےاس پر بھی کوئی روشنی نہیں ڈالی کہ وبا کےموجودہ حالات کےلئے کون ذمہ دار ہے ، کیا کسے سےسوال پوچھے جانے چاہئے یا نہیں۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔