کنگنا کو تھپڑ مارنے کا معاملہ: اداکارہ نے خاتون کانسٹیبل کے خلاف ایف آئی آر درج نہیں کرائی

خاتون سی آئی ایس ایف اہلکار نے کنگنا کو چنڈی گڑھ ہوائی اڈے پر تھپڑ مارا۔ اس معاملے میں ابھی تحقیقات جاری ہے مگر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کرائی گئی ہے

<div class="paragraphs"><p>تصویر سوشل میڈیا</p></div>

تصویر سوشل میڈیا

user

قومی آوازبیورو

نئی دہلی: حال ہی میں ہماچل کی منڈی لوک سبھا سیٹ سے الیکشن جیتنے والی بالی ووڈ اداکارہ کنگنا رناوت کو چندی گڑھ ہوائی اڈے پر ایک خاتون سی آئی ایس ایف اہلکار نے مبینہ طور پر تھپڑ مار دیا۔ واقعہ کے بعد سامنے آنے والی معلومات کے مطابق خاتون سی آئی ایس ایف اہلکار کو فوری طور پر حراست میں لے لیا گیا اور اسے معطل کر دیا گیا۔

رپورٹ کے مطابق ملزم کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کی تیاریاں کی جا رہی ہیں لیکن تازہ ترین معلومات کے مطابق اس معاملے میں ابھی تک کوئی ایف آئی آر درج نہیں ہوئی ہے۔ تاہم تحقیقات جاری ہیں۔ ڈی ایس پی ایئرپورٹ نے جانکاری دیتے ہوئے کہا کہ کنگنا نے اس معاملے میں کوئی شکایت درج نہیں کرائی ہے۔


چنڈی گڑھ ایئرپورٹ پر کنگنا کے ساتھ پیش آنے والے واقعے نے انہیں ہلچل مچا دی تھی۔ اس سے متعلق کچھ ویڈیوز بھی سوشل میڈیا پر وائرل ہوئیں۔ ان میں سے ایک ویڈیو میں سی آئی ایس ایف اہلکار مشتعل نظر آ رہی ہیں اور وہاں موجود لوگوں کے سامنے کسانوں کی تحریک پر کنگنا کے بیان پر بات کر رہی ہیں۔

رپورٹ کے مطابق کنگنا رناوت کو تھپڑ مارنے والی سی آئی ایس ایف کی اہلکار کا نام کلووند کور ہے۔ 35 سالہ کلوندر 15 سال سے سی آئی ایس ایف میں کام کر رہی ہیں اور ان کا ماضی کا ریکارڈ بے داغ ہے۔ کپورتھلا، پنجاب کی رہائشی کلوندر کے شوہر بھی سی آئی ایس ایف کے اہلکار ہے۔ کلوندر کور کے 2 بچے ہیں اور ان کے بھائی شیر سنگھ ایک کسان رہنما ہے اور کسان مزدور سنگھرش کمیٹی میں تنظیمی سکریٹری ہیں۔


چنڈی گڑھ میں پیش آنے والے واقعے کے بعد کنگنا نے دہلی پہنچ کر ایک ویڈیو شیئر کی اور بتایا کہ وہ بالکل ٹھیک ہیں۔ کنگنا نے کہا، ’’میں بالکل محفوظ ہوں۔ میں ٹھیک ہوں۔’’ ان کا مزید کہنا تھا، ’’میں سیکورٹی چیک کے بعد جیسے ہی باہر آئی تو دوسرے کیبن میں موجود خاتون نے میرے کراس کرنے کا انتظار کیا اور سائیڈ سے آ کر میرے منہ پر تھپڑ مارا اور گالیاں دینے لگی۔ جب میں نے اس سے پوچھا کہ اس نے ایسا کیوں کیا تو وہ کہنے لگی کہ وہ کسانوں کی تحریک کی حمایت کرتی ہے۔ لیکن میری تشویش یہ ہے کہ پنجاب میں بڑھتی ہوئی دہشت گردی اور انتہا پسندی کو ہم کیسے سنبھالیں گے؟‘‘

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔