کاجول: باصلاحیت اداکارہ جنہوں نے بالی ووڈ میں اپنی الگ پہچان بنائی
بالی ووڈ کی ممتاز اداکارہ کاجول نے اپنی جاندار اداکاری، جذباتی کرداروں اور فطری انداز سے سنیما میں منفرد مقام بنایا۔ متعدد سپر ہٹ فلموں، فلم فیئر اعزازات اور پدم شری نے ان کے کیریئر کو یادگار بنا دیا

ممبئی: بالی ووڈ فلموں کی معروف اداکارہ کاجول نے اپنی جاندار اداکاری، جذباتی کرداروں، بے ساختہ مزاح اور مضبوط اسکرین موجودگی کے ذریعے بالی ووڈ میں ایک منفرد شناخت قائم کی۔ انہوں نے ایسے وقت میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا جب فلموں میں ہیروئنوں کو اکثر محض دلکشی تک محدود سمجھا جاتا تھا۔ کاجول نے اپنے کرداروں سے یہ تصور بدلنے میں اہم کردار ادا کیا اور خود کو ہندی سنیما کی کامیاب ترین اداکاراؤں میں شامل کر لیا۔
5 اگست 1974 کو ممبئی میں پیدا ہونے والی کاجول کو اداکاری کا فن وراثت میں ملا۔ ان کے والد سومو مکھرجی فلم پروڈیوسر جبکہ والدہ تنوجا بالی ووڈ کی معروف اداکارہ تھیں۔ فلمی ماحول میں پرورش پانے کے باعث کاجول بچپن ہی سے شوٹنگ کے سیٹ پر جاتی رہیں اور اسی دوران ان کے دل میں اداکارہ بننے کی خواہش نے جنم لیا۔
کاجول نے اپنے فلمی سفر کا آغاز 1992 میں فلم ’بے خودی‘ سے کیا، جس میں ان کے مقابل کمل سدانا تھے۔ اگرچہ یہ فلم باکس آفس پر کامیاب نہ ہو سکی، تاہم کاجول کی صلاحیتوں نے فلم سازوں کی توجہ ضرور حاصل کر لی۔ ان کے کیریئر کا پہلا بڑا موڑ 1993 میں عباس-مستان کی تھرلر فلم ’بازیگر‘ ثابت ہوئی۔ شاہ رخ خان کے ساتھ ان کی جوڑی کو بے حد پسند کیا گیا اور فلم کی غیر معمولی کامیابی نے کاجول کو صفِ اول کی اداکاراؤں میں لا کھڑا کیا۔
کاجول کے لیے 1994 کا سال انتہائی اہم ثابت ہوا۔ اس دوران ان کی ’ادھار کی زندگی‘، ’یہ دل لگی‘ اور ’کرن ارجن‘ جیسی فلمیں ریلیز ہوئیں۔ ان فلموں میں ان کی پختہ اداکاری کو ناقدین اور شائقین دونوں نے سراہا۔ خصوصاً ’یہ دل لگی‘ میں اکشے کمار اور سیف علی خان کے ساتھ ان کی اداکاری نے انہیں پہلی بار بہترین اداکارہ کے فلم فیئر ایوارڈ کے لیے نامزد کرایا۔
یش راج فلمز کی 1995 میں ریلیز ہونے والی ’دل والے دلہنیا لے جائیں گے‘ نہ صرف کاجول بلکہ بالی ووڈ کی تاریخ کی یادگار فلموں میں شمار ہوتی ہے۔ شاہ رخ خان کے ساتھ ان کی کیمسٹری، رومانوی انداز اور جذباتی اداکاری نے اس فلم کو لازوال بنا دیا، جبکہ کاجول کے کیریئر کو نئی بلندیوں تک پہنچا دیا۔
1997 میں راجیو رائے کی فلم ’گپت‘ میں کاجول نے روایتی ہیروئن سے ہٹ کر منفی رنگ والا کردار ادا کیا، جسے ناقدین نے بے حد سراہا۔ اس کردار پر انہیں فلم فیئر کا بہترین وِلن ایوارڈ ملا۔ فلم فیئر کی تاریخ میں یہ پہلا موقع تھا جب کسی اداکارہ کو اس زمرے میں اعزاز سے نوازا گیا۔
1998 بھی ان کے لیے غیر معمولی کامیابیوں کا سال ثابت ہوا۔ فلم ’دشمن‘ میں انہوں نے پہلی بار دوہرا کردار ادا کیا اور اپنی اداکاری کی نئی جہتوں کا مظاہرہ کیا۔ اسی سال ’پیار تو ہونا ہی تھا‘ اور ’کچھ کچھ ہوتا ہے‘ بھی ریلیز ہوئیں، جنہوں نے باکس آفس پر زبردست کامیابی حاصل کی۔ یہ ان کے کیریئر کا پہلا موقع تھا جب ایک ہی سال میں انہیں تین مختلف فلموں کے لیے بہترین اداکارہ کے فلم فیئر ایوارڈ کی نامزدگی حاصل ہوئی۔
کاجول نے 1999 میں معروف اداکار اجے دیوگن سے شادی کر لی، جس کے بعد انہوں نے فلموں میں اپنی مصروفیات محدود کر دیں۔ 2001 میں ’کبھی خوشی کبھی غم‘ کی کامیابی کے بعد انہوں نے کچھ عرصے کے لیے فلمی دنیا سے فاصلہ اختیار کر لیا۔ 2006 میں کاجول نے فلم ’فنا‘ کے ذریعے شاندار واپسی کی۔ عامر خان کے ساتھ ان کی اداکاری کو ناقدین اور شائقین دونوں نے بھرپور پذیرائی دی اور ثابت کیا کہ وہ طویل وقفے کے بعد بھی اپنی صلاحیتوں سے ناظرین کو متاثر کرنے کی بھرپور اہلیت رکھتی ہیں۔
اس کے بعد بھی کاجول نے منتخب فلموں میں اپنی موجودگی برقرار رکھی۔ 2015 میں ریلیز ہونے والی روہت شیٹی کی فلم ’دل والے‘ میں ایک بار پھر شاہ رخ خان کے ساتھ ان کی جوڑی نے شائقین کو پرانی یادیں تازہ کر دیں۔
کاجول اپنے فلمی کیریئر میں متعدد فلم فیئر ایوارڈز جیت چکی ہیں، جبکہ 2011 میں انہیں ہندوستان کے چوتھے اعلیٰ شہری اعزاز پدم شری سے بھی نوازا گیا۔ آج بھی وہ بالی ووڈ کی ان چند اداکاراؤں میں شمار کی جاتی ہیں جنہوں نے مضبوط کرداروں، فطری اداکاری اور منفرد اسکرین موجودگی کے ذریعے کئی نسلوں کے ناظرین کے دلوں میں اپنی جگہ برقرار رکھی ہے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
