جیا خان خودکشی معاملہ: سی بی آئی کی خصوصی عدالت نے سورج پنچولی کو کیا بری

سی بی آئی کے خصوصی منصف اے ایس سید نے معاملہ میں دونوں فریقین کے آخری دلائل سننے کے بعد گزشتہ ہفتہ اپنا فیصلہ 28 اپریل تک محفوظ رکھا تھا

<div class="paragraphs"><p>جیا خان / Getty Images</p></div>

جیا خان / Getty Images

user

قومی آوازبیورو

ممبئی: اداکار سورج پنچولی کو اداکارہ جیا خان کی خودکشی کے مقدمے میں بری کر دیا گیا ہے۔ امریکی شہری جیا خان 3 جون 2013 کو ممبئی میں اپنے گھر میں مردہ پائی گئی تھیں۔ اس معاملہ میں جیا کے بوائے فرینڈ سورج پنچولی کو گرفتار کیا گیا تھا اور ان پر مبینہ طور پر چھ صفحات پر مشتمل سوسائڈ نوٹ کی بنیاد پر اداکارہ کو خودکشی کے لیے اکسانے کا الزام لگایا گیا تھا۔

خیال رہے کہ 3 جون 2013 کو جیا خان کی لاش جوہو میں واقع اپنے گھر میں پنکھے پر لٹکی ہوئی ملی تھی۔ 7 جون 2013 کو اداکارہ کے گھر سے 6 صفحات کا لکھا سوسائڈ نوٹ برآمد ہوا تھا۔

قبل ازیں، گزشتہ روز جیا خان کی والدہ رابعہ خان نے اپنے بیان میں کہا ’’دیکھئے، تقریباً 10 سال بعد عدالت کا کیا فیصلہ آتا ہے۔ میں چاہتی ہوں کہ حقیقت سامنے آئے۔ جیا خان نے اپنی جان نہیں لی، ہم نے حقائق پر مبنی ثبوتوں کی بنیاد پر حقیقت سامنے لانے میں 10 سال لگا دئے۔ اب یہ عدالت پر منحصر ہے ہے کہ وہ صحیح نتیجہ نکالے۔‘‘


جیا خان کی جانب سے مبینہ طور پر لکھے گئے 6 صفحات پر مشتمل خط کی بنیاد پر سورج کو ملزم بنایا گیا ہے۔ سی بی آئی نے دعویٰ کیا ہے کہ خط میں سورج کے ساتھ جیاں کے تعلقات کے علاوہ مبینہ جنسی ہراسانی، نفسیاتی اور جسمانی تشدد کے بارے میں بات کی گئی ہے، جس کی وجہ سے اس نے خود کشی کی ہے۔

معاملہ میں یکم جولائی 2013 کو سورج پنچولی کو ضمانت مل گئی تھی۔ جیا خان کی والدہ رابعہ خان کے معاملہ میں قتل کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ رابعہ کی عرضی پر بمبئی ہائی کورٹ نے سال 2014 میں معاملہ کی جانچ سی بی آئی کو سونپ دی تھی۔ سی بی آئی نے 2015 میں فرد جرم دائر کی، جس میں سورج پنچولی پر خودکشی کے لئے اکسانے کی دفعہ 306 کے تحت الزامات عائد کیے۔


سال 2019 میں شروع ہوئے مقدمہ کی سماعت 20 اپریل 2023 کو مکمل ہوئی اور آج فیصلہ کا دن ہے۔ سی بی آئی کے خصوصی منصف اے ایس سید نے معاملہ میں دونوں فریقین کے آخری دلائل سننے کے بعد گزشتہ ہفتہ اپنا فیصلہ 28 اپریل تک محفوظ رکھا تھا۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


Published: 28 Apr 2023, 12:10 PM
/* */