ایس آئی آر پر الیکشن کمیشن کا نیا حکم، جے رام رمیش نے ووٹ چوری کا اعتراف قرار دیا
جے رام رمیش نے ایس آئی آر سے چھوٹے ووٹروں کو شامل کرنے کی الیکشن کمیشن کی ہدایت پر سوال اٹھاتے ہوئے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار سے استعفے اور ایس آئی آر معطل کرنے کا مطالبہ کیا

نئی دہلی: کانگریس نے انتخابی فہرستوں کی خصوصی گہری نظرثانی (ایس آئی آر) کے دوران ووٹروں کے اخراج کے معاملے پر ایک بار پھر الیکشن کمیشن کو نشانہ بنایا ہے۔ کانگریس کے جنرل سکریٹری جے رام رمیش نے سات ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں ایس آئی آر کے عمل سے چھوٹ جانے والے ووٹروں کو شامل کرنے کے لیے الیکشن کمیشن کی جانب سے نئی ہدایات جاری کیے جانے پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اسے اپنی غلطیوں کا اعتراف قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ہدایات اس بات کا دیر سے کیا گیا اعتراف ہیں کہ غیر حاضر، منتقل شدہ، فوت شدہ اور دہری اندراج (اے ایس ڈی ڈی) کے زمرے میں ووٹروں کے نام غلط طریقے سے حذف کیے گئے اور انہیں انتخابی فہرستوں سے باہر کیا گیا۔
جے رام رمیش نے جمعہ کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنی پوسٹ میں کہا، ’’ایک اور دن، ایک اور یو ٹرن۔‘‘ انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے ابھی سات ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں جاری ایس آئی آر کے دوران ان ووٹروں کو شامل کرنے کی ہدایات جاری کی ہیں جن کے نام پہلے چھوٹ گئے تھے۔ ان کے مطابق، یہ قدم اس بات کا اعتراف ہے کہ اے ایس ڈی ڈی زمرے کے تحت ووٹروں کے ناموں کو غلط طور پر حذف کرنے اور انہیں باہر رکھنے کا عمل ہوا ہے۔
کانگریس لیڈر نے الزام لگایا کہ ملک بھر میں ایس آئی آر کے خلاف غم و غصے اور شدید مخالفت کے بعد الیکشن کمیشن مسلسل اصلاحی اقدامات اور نئی ہدایات جاری کر رہا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس عمل کے نتیجے میں 13 کروڑ سے زیادہ ہندوستانیوں کو ان کے آئینی حق رائے دہی سے محروم کیا گیا ہے۔
جے رام رمیش نے سوال اٹھایا کہ آخر اس بیوروکریٹک مشق کا مقصد کیا تھا، جس سے ملک کے ہر شہری کو گزرنا پڑا؟ ان کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن کی جانب سے بار بار وضاحتیں اور ہدایات میں تبدیلیاں اس پورے عمل کے اصل مقصد کو بے نقاب کر رہی ہیں۔ انہوں نے وزیر اعظم اور وزیر داخلہ کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے الزام لگایا کہ اس معاملے میں ان کی حکمت عملی سامنے آ چکی ہے اور اب وہ اپنی غلطیوں پر پردہ ڈالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
انہوں نے اپنی پوسٹ میں ایس آئی آر کو ووٹ چوری کی تازہ ترین شکل قرار دیتے ہوئے کہا کہ جب یہ چوری پکڑی گئی تو الیکشن کمیشن اور وزیر اعظم و وزیر داخلہ کی جوڑی اپنے نشانات مٹانے اور معاملے کو چھپانے کی کوشش کر رہی ہے۔
کانگریس لیڈر نے اپنے بیان کے آخر میں دو مطالبات پیش کیے۔ پہلا یہ کہ چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کو عہدے سے ہٹنا چاہیے اور دوسرا یہ کہ ایس آئی آر کے عمل کو فوری طور پر معطل کیا جانا چاہیے۔
واضح رہے کہ جے رام رمیش نے یہ تنقید الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری ان نئی ہدایات کے تناظر میں کی ہے، جن کے تحت سات ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں جاری ایس آئی آر کے دوران انتخابی فہرستوں سے چھوٹ جانے والے ووٹروں کو شامل کرنے کی بات کہی گئی ہے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
