عرفان خان کی بیوی کا جذباتی پیغام ’میں نے تو کچھ بھی نہیں کھویا‘

عرفان خان کی بیوی نے لکھا ’’میری لئے یہ ناقابل یقین ہے لیکن میں اسے عرفان کے الفاظ میں کہوں تو یہ میجیکل ہے۔ مجھے ان سے محض ایک شکایت ہے کہ انہوں نے مجھے ہمیشہ کے لئے بکھیر کر رکھ دیا‘‘

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

عرفان خان نے 29 اپریل کو ممبئی کے کوکلا بین دھیربھائی امبانی اسپتال میں آخری سانس لی۔ ان کے اس طرح رخصت ہو جانے سے ان کے مداح اور پوری فلم انڈسٹری غم گین ہیں۔ عرفان کافی عرصے سے علیل تھے اور ان کے اہل خانہ ان کے ہر وقت ساتھ تھے۔ عرفان کی اہلیہ، سوتپا سکدر جنہیں و اپنی مضبوطی قرار دیتے تھے، نے اپنے شوہر کو یاد کرتے ہوئے ان کے مداحوں اور چاہنے والوں کے لئے ایک پیغام لکھا ہے۔ اپنے شوہر کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے سوتپا نے لکھا، ’’میں نے کچھ کھویا نہیں ہے ... میں نے ہر طرح سے پایا ہے۔‘‘

عرفان خان کے کنبہ کا پیغام:

میں اسے کنبہ کی طرف سے بیان کے طور پر کس طرح لکھوں جب پوری دنیا کو ایسا لگ رہا ہے کہ انہوں نے کسی اپنے کو کھو دیا ہے؟ میں تنہا کیسے محسوس کروں جب اس وقت لاکھوں افراد ہمارے ساتھ غمزدہ ہیں؟ میں سب کو بتانا چاہتی ہوں کہ ہم نے کچھ کھویا نہیں ہے، ہم نے حاصل کیا ہے۔ ہم نے وہ چیزیں حاصل کی ہیں جو انہوں نے ہمیں سکھائیں اور اب ہمیں ان پر عمل کرنا چاہئے۔ پھر بھی میں ان چیزوں کے بارے میں بتانا چاہوں گی جن کے بارے میں لوگ نہیں جانتے ہیں۔

یہ ہمارے لئے ناقابل یقین ہے لیکن اگر میں اسے عرفان کے الفاظ میں کہوں تو میجیکل ہے۔ خواہ وہ یہاں ہیں یا نہیں، اور یہی انہیں سب سے زیادہ پسند تھا۔ انہوں نے کبھی کسی حقیقت سے پیار نہیں کیا۔ مجھے اس سے صرف ایک شکایت ہے، انہوں نے مجھے زندگی بھر کے لئے بکھیر کر رکھ دیا۔

پرفیکشن کے لئے ان کی کاوشوں کی وجہ سے میں بھی غیہر معمولی کی عادی ہو چکی ہوں۔ وہ ہر چیز کو تال میں دیکھا کرتے تھے، حتی کہ شور و غل اور افراتفری میں بھی۔ لہذا میں نے بھی اسی تال پر چلنا سیکھ لیا۔ مزے کی بات یہ ہے کہ ہماری زندگی اداکاری میں ماسٹرکلاس تھی۔ یہی وجہ ہے کہ جب ہماری زندگی میں اس ’بن بلائے مہمان‘ کی ڈرامائی انٹری ہوئی، تب تک میں نے شور شرابہ میں بھی سکون دیکھنا سیکھ لیا تھا۔ ڈاکٹروں کی رپورٹ ایک اسکرپٹ کی طرح تھی، جسے میں چاہتی تھی کہ وہ پرفیکٹ ہو، لہذا میں نے کسی تفصیل کو نظر انداز نہیں کیا، جو انہیں اپنی پرفارمنس کے لئے چاہیے تھی۔

ہم نے اس سفر میں بہت سارے حیرت انگیز لوگوں سے ملاقات کی اور یہ فہرست لمبی ہے لیکن میں کچھ لوگوں کے بارے میں بتانا چاہوں گی، ہمارے آنکولوجسٹ ڈاکٹر نتیش روہتگی (میکس اسپتال، ساکیٹ دیلی)، جنہوں نے ابتدا میں ہمارا ہاتھ تھاما۔ ڈاکٹر ڈرین کریل (برطایہ)، ڈاکٹر شیدراوی (برطانیہ)، اس تاریک وقت میں میری روشنی ڈاکٹر سیونتی لمائے (کوکیلا بین ہسپتال)۔

یہ سمجھانا مشکل ہے کہ یہ سفر کتنا شاندار، خوبصورت، تکلیف دہ اور پُرجوش رہا ہے۔ مجھے یہ ڈھائی سال کی مدت نظر آتی ہے، جو ہمارے سالوں کے ساتھ سے مختلف ہے۔ اس مدت کی اپنی ابتدا، وسط اور اختتام رہا اور عرفان اس میں آرکیسٹرا کے کنڈکٹر کے کردار میں رہے۔ ہم شادی نہیں تھی بلکہ یہ ایک یونین تھی۔

میں اپنے کنبے کو ایک کشتی میں دیکھ رہی ہوں، اپنے دونوں بیٹوں، بابیل اور ایان کے ساتھ آگے بڑھتے ہوئے... عرفان ان کی رہنمائی کر رہے ہیں، دکھا رہا ’وہاں نہیں، یہاں سے مڑو‘، لیکن چونکہ زندگی سنیما نہیں ہے اور اس میں ری ٹیک نہیں ہوتا، میری خواہش ہے کہ میرے بچے اپنے والد کی رہنمائی میں طوفان کو سر کرتے ہوئے کشتی کو بحفاظت ساحل تک پہنچائیں۔ میں نے اپنے بچوں سے کہا کہ کیا وہ اپنے والد سے ان اسباق کا تذکرہ کر سکتے ہیں جو ان کے لئے اہم ہوں۔

بابیل: ’’غیر یقینی صورتحال کے کے سامنے سرینڈر کرنا اور کائنات پر اپنے اعتماد پر بھروسہ رکھنا سیکھیں۔‘‘

ایان: ’’اپنے ذہن پر قابو رکھنا سیکھیں اور اسے کسی کے کنٹرول میں کبھی نہ جانے دیں۔‘‘

اب جب ہم وہاں ان کے پسندیدہ رات کی رانی کے پودوں کو لگا رہے جہاں اس شاندار سفر کے بعد انہیں رکھا گیا ہے تو ہماری آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے ہیں۔ کچھ وقت لگے گا لیکن پھول کھلیں گے اور خوشبو پھیلے گی اور آنے والے برسوں میں یہ ان سب لوگوں کے پاس پہنچ جائے گی جنہیں میں فینز (مداح) نہیں کہوں گی، بلکہ کنبہ کہوں گا۔

Published: 1 May 2020, 7:40 PM