پاکستان میں ہندوستانی فلموں پر پابندی عائد

جموں وکشمیر کا خصوصی درجہ چھینے جانے کے نتیجے میں پاکستان نے ہندوستان کے ساتھ سفارتی تعلقات محدود کرنے اور تجارت روکنے کے فیصلے کے بعد اب اپنے ملک میں ہندوستانی فلموں پر پابندی عائد کر دی ہے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

یو این آئی

اسلام آباد: جموں وکشمیر کا خصوصی درجہ چھینے جانے کے نتیجے میں پاکستان نے ہندوستان کے ساتھ سفارتی تعلقات محدود کرنے اور تجارت روکنے کے فیصلے کے بعد اب اپنے ملک میں ہندوستانی فلموں پر پابندی عائد کر دی ہے۔

جیونیوز نےاطلاعات و نشریات کی وزارت کے معاملے میں پاکستانی وزیر اعظم عمران خان کے خصوصی معاون فردوس عاشق اعوان کے حوالے سے جمعرات کو یہ اطلاع دی۔ ڈاکٹر اعوان نے کہا،’پاکستان کے سنیما گھروں میں ہندوستانی فلموں کو نہیں دکھایا جائے گا‘۔
ڈاکٹر اعوان نے پارلیمنٹ کے باہر صحافیوں سے کہا کہ حکومت ملک میں ہندوستانی ثقافت سے متعلق تمام چیزوں پر پابندی عائدکرنے کے لیےایک پالیسی بنا رہی ہے۔

انہوں نے کہا،’ہندوستان کی جانب سے دفعہ 370 ہٹائے جانے کے بعد پیدا شدہ صورتحال میں کشمیر کے افراد کو مدد پہنچانے کے لیے تمام اختیارات کا استعمال کیا جائے گا‘۔

پاکستان میں ہندوستانی فلمیں بہت پسند کی جاتی ہیں اور سنیما گھروں کے مجموعی محصولات تقریباً 70 فیصد بالی وڈ سے حاصل ہوتے ہیں۔
جموں وکشمیر کے تناظر میں حکومت ہند کی جانب سے کیے گئے اقدامات کے نتیجے میں پاکستان نے دو طرفہ سفارتی تعلقات کو محدود کرنے اور تجارت کو روکنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس نے بدھ کے روز ہندوستان کے ہائی کمشنر اجے بساریہ کو واپس بھیجنے کا فیصلہ کیا۔

پاکستانی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق پاکستان ہندوستان میں اپنا ہائی کمشنر نہیں بھیجے گا۔ اس سے قبل عمران خان نے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کی اور دو طرفہ سفارتی تعلقات کو محدود کرنے کا فیصلہ کیا۔