پرینکا چوپڑا اور نِک جونس کو مہنگی پڑے گی طلاق!

پرینکا چوپڑا اور نک جونس کی شادی کے ابھی کچھ ہی ماہ ہوئے ہیں، لیکن ان کے مابین طلاق کی خبریں آرہی ہیں اور اگر طلاق ہوتی ہے تو امریکی قوانین کے مطابق دونوں کو طلاق مہنگی پڑے گی۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

کچھ ماہ پہلے پرینکا چوپڑا اور امریکی گلوکار نک جونس کی شادی بڑی دھوم دھام سے ہوئی تھی ، اس کی تشہیر بھی خوب ہوئی تھی، شادی کی دھوم کے چرچے ابھی پوری طرح ختم بھی نہیں ہوئےہیں کہ اب ان دونوں کے تعلق سے طلاق کی خبریں آر ہیں ہیں، ویسے پرینکا کے گھر والوں نے طلاق کی خبروں کی پوری طرح تردید کی ہے ۔ گزشتہ ہفتہ ایک امریکی میگزین نے اس بات کا دعوی کیا تھا کہ تقریباً تین ماہ چلی شادی کے بعد نک اور پرینکا طلاق لینے والے ہیں ۔ میگزین کا دعوی ہے کہ دونوں کے درمیان سب کچھ ٹھیک نہیں چل رہا ہے ،اس لئے دونوں لوگ اپنے راستے الگ کرنا چاہتے ہیں ۔

حقیقت یہ بھی ہے کہ دونوں کے لئے طلاق لینا آسان نہیں ہے کیونکہ دونوں نے اپنی شادی امریکہ میں رجسٹر کرائی ہے ، طلا ق کی صورت میں امریکی قوانین کی پابندی کرنی ہوگی ۔ امریکی قوانین کے مطابق اگر دونوں علیحدگی اختیار کرتے ہیں تو ان دونوں کو اپنی جائیداد آپس میں تقسیم کرنی ہوگی، اس صورت میں دونوں کو ہی مالی نقصان ہو گا۔ نک جونس کے پاس 170 کروڑ کی مالیت کا سامان ہے جبکہ پرینکا کے پاس جو سامان ہے اس کی قیمت تقریبا 200 کروڑ روپے ہے۔

ایک ویب سائٹ کے مطابق اپنی شادی کو تین ماہ قبل رجسٹر کرانے والے اس جوڑے کو طلاق لینے کی صورت میں مالی جھٹکا لگ سکتا ہے۔ امریکی قوانین کے مطابق طلاق لینے کی صورت میں زیادہ کمائی کرنے والے پارٹنر کو کم کمائی کرنے والے یا ڈپینڈنٹ پارٹنر کو امدادی رقم دینی پڑتی ہے اور یہ رقم عدالت طے کرتی ہے۔ فیصلہ کرتے وقت شادی کی مدت اور دونوں کے قرضوں کو بھی ذہن میں رکھا جاتا ہے۔

واضح رہے امریکہ میں مشہور شخصیات یا سیلیبریٹی شادی کرنے سے قبل ’پری نیوپیٹل‘ کانٹریکٹ کرتے ہیں جس میں پہلے سے طے ہو جاتا ہے کہ دونوں کو جائیداد کا کتنا حصہ ملے گا اور خبروں کے مطابق نک اور پرینکا نے بھی ایسا کانٹریکٹ کیا ہوا ہے۔ اچھا تو یہی ہے کہ دونوں کے درمیان طلاق جیسی کوئی چیز نہ ہو اور دونوں اچھی ازدواجی زندگی گزاریں۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


Published: 01 Apr 2019, 2:09 PM