’اکیس‘: نوجوان ہندوستانی افسر کی کہانی، جو شور کے بغیر حب الوطنی کا احساس جگا دیتی ہے

’اکیس‘ ایک ایسی جنگی فلم ہے جو نعروں کے بجائے انسان، اس کے فیصلوں اور یادوں پر مرکوز ہے۔ ارون کھیتر پال کی زندگی کے ذریعے یہ فلم جنگ کی قیمت اور خاموش حب الوطنی کو مؤثر انداز میں پیش کرتی ہے

<div class="paragraphs"><p>آئی اے این ایس</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

ہندوستانی سنیما میں جنگ پر بنی فلمیں عموماً جوش، نعرے بازی اور بلند آہنگ حب الوطنی تک محدود رہتی ہیں، مگر ہدایت کار شری رام راگھون کی فلم ’اکیس‘ اس روایت سے ہٹ کر ایک سنجیدہ اور باوقار راستہ اختیار کرتی ہے۔ یہ فلم جنگ کو فتح و شکست کے پیمانے سے نہیں، بلکہ انسان، اس کے احساسات اور اس زندگی کے تناظر میں دیکھتی ہے جو میدانِ جنگ کے پیچھے چھوٹ جاتی ہے۔ فلم کی بنیاد 1971 کی جنگ میں بسنتر کے محاذ پر شہید ہونے والے سیکنڈ لیفٹیننٹ ارون کھیتر پال کی زندگی ہے، مگر انداز ایسا ہے کہ یہ صرف ایک بایوپک نہیں رہتی، بلکہ ایک انسانی تجربہ بن جاتی ہے۔

فلم کی سب سے نمایاں خوبی اس کی دوہری زمانی ساخت ہے۔ ایک طرف دسمبر 1971 کا محاذ ہے، جہاں محض اکیس برس کا ایک نوجوان افسر ٹینک رجمنٹ کی بھاری ذمہ داری سنبھالتا ہے۔ دوسری طرف سال 2001 کا زمانہ ہے، جہاں جنگ کے برسوں بعد اس کے اثرات زندہ ہیں، یادوں میں، خاموشیوں میں اور ان سوالوں میں جو وقت کے ساتھ اور گہرے ہو جاتے ہیں۔ یہی دو زمانی دھارے فلم کو ایک عام جنگی داستان سے کہیں زیادہ معنی خیز بنا دیتے ہیں۔

1971 کی ٹائم لائن میں فلم بڑے، چمکدار جنگی مناظر کے بجائے ایک نوجوان افسر کے خوف، دباؤ اور فوری فیصلوں پر توجہ مرکوز رکھتی ہے۔ بارودی سرنگوں سے گھرا علاقہ، بدلتی ہوئی صورتِ حال اور ہر لمحہ موجود خطرہ، یہ سب کچھ اس طرح پیش کیا گیا ہے کہ جنگ ایک حقیقی، بھاری اور سانس روک دینے والا تجربہ محسوس ہوتی ہے۔ کیمرہ اکثر ٹینک کے اندر جاتا ہے، جہاں گھٹن، شور اور بے یقینی ناظر کو براہِ راست اپنی گرفت میں لے لیتی ہے۔


ارون کھیتر پال کے کردار میں اگستیہ نندا کی اداکاری نہایت متوازن اور سچی لگتی ہے۔ وہ ارون کو کسی غیر معمولی ہیرو کے طور پر نہیں، بلکہ ایک عام مگر فرض شناس افسر کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ ان کے چہرے پر اعتماد، کم عمری کی معصومیت اور ذمہ داری کا بوجھ ایک ساتھ نظر آتا ہے۔ جلتے ہوئے ٹینک میں بیٹھے رہنے اور پیچھے نہ ہٹنے کا فیصلہ کسی فلمی ڈرامے کی طرح نہیں، بلکہ اس سوچ کا نتیجہ لگتا ہے جس میں فرض ذاتی زندگی پر فوقیت رکھتا ہے۔

فلم کی دوسری ٹائم لائن، سال 2001، اس کہانی کو ایک نیا جذباتی پہلو دیتی ہے۔ یہاں دھرمندر، ارون کے والد بریگیڈیئر ایم ایل کھیتر پال کے کردار میں نظر آتے ہیں۔ وقت گزر چکا ہے، مگر بیٹے کی شہادت اور جنگ کی یادیں اب بھی ان کے اندر زندہ ہیں۔ اسی دوران ان کی ملاقات پاکستانی بریگیڈیئر خواجہ محمد نصیر سے ہوتی ہے، جسے جے دیپ اہلاوت نے نہایت گہرائی کے ساتھ نبھایا ہے۔ یہ ملاقات کسی سیاسی بحث یا تاریخی موازنہ میں نہیں ڈھلتی، بلکہ دو سپاہیوں کے درمیان ایک سادہ، خاموش اور بامعنی مکالمہ بن جاتی ہے۔

جے دیپ اہلاوت کی اداکاری فلم کے مضبوط ترین پہلوؤں میں شمار ہوتی ہے۔ ان کا کردار پُرسکون، سنجیدہ اور جنگ کی قیمت کو سمجھنے والا انسان ہے۔ جب وہ اور دھرمندر ماضی کی جگہوں پر چلتے ہیں، یادیں تازہ کرتے ہیں اور آخرکار بسنتر کے میدان میں آمنے سامنے کھڑے ہوتے ہیں، تو فلم بغیر کسی نعرے کے بہت کچھ کہہ جاتی ہے۔ یہ مناظر اس حقیقت کی یاد دہانی ہیں کہ جنگ کے بعد دونوں طرف صرف یادیں، نقصان اور سوال باقی رہ جاتے ہیں۔

دھرمندر کی موجودگی فلم کو ایک خاص وزن عطا کرتی ہے۔ ان کی خاموشی، آنکھوں کی نمی اور ٹھہراؤ میں درد، فخر اور ادھورا پن سب کچھ سمٹ آتا ہے۔ چونکہ ’اکیس‘ ان کی آخری فلم بھی ہے، اس لیے ان کے مناظر مزید اثر چھوڑتے ہیں۔ دھرمندر اور جے دیپ اہلاوت کے مشترکہ مناظر ہندوستانی سنیما میں جنگ کے بعد مفاہمت اور سمجھ بوجھ کی نہایت حساس مثال بن جاتے ہیں۔


تکنیکی اعتبار سے بھی ’اکیس‘ ایک مضبوط فلم ہے۔ وی ایف ایکس محدود مگر مؤثر ہیں۔ ٹینکوں کی لڑائی حقیقی محسوس ہوتی ہے، جہاں شور سے زیادہ وزن اور خوف غالب رہتا ہے۔ بیک گراؤنڈ میوزک سادہ ہے اور مناظر پر حاوی نہیں ہوتا۔ 1971 کے حصے میں گولیوں اور کمانڈز کی آوازیں اثر چھوڑتی ہیں، جبکہ 2001 کی ٹائم لائن میں موسیقی خاموش اور جذباتی ہے۔ مکالمے کم ہیں، مگر سیدھے دل تک پہنچتے ہیں۔

ہدایت کار شری رام راگھون نے خاموشیوں، وقفوں اور خالی جگہوں کو کہانی کا حصہ بنایا ہے۔ تحریر مضبوط ہے اور دونوں زمانی دھارے قدرتی انداز میں ایک دوسرے سے جڑتے ہیں۔ ارون کی محبوبہ کرن کے کردار میں سمر بھاٹیہ مختصر مگر اہم جھلک دیتی ہیں، جو ارون کی ذاتی زندگی کا ایک نرم پہلو سامنے لاتی ہے۔

میڈاک فلمز کے بینر تلے بنی ’اکیس‘ جنگ کو فتح کی داستان کے بجائے انسانیت کی کہانی کے طور پر پیش کرتی ہے۔ یہ فلم شور نہیں مچاتی، بلکہ خاموشی سے دل میں اتر کر سپاہیوں کی قربانی کو احترام اور وقار کے ساتھ خراج پیش کرتی ہے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔