حسرت جے پوری: محبت، رومان اور زندگی کے لازوال نغموں کی آواز

حسرت جے پوری نے اردو شاعری کی نزاکت اور ہندوستانی فلمی موسیقی کی ضرورتوں کو جوڑ کر تقریباً 5 دہائیوں تک یادگار نغمے تخلیق کیے۔ ان کی شاعری میں محبت، رومان اور زندگی کے جذبات آج بھی زندہ ہیں

<div class="paragraphs"><p>حسرت جے پوری</p></div>
i

اردو شاعری کی نزاکت، ہندی زبان کی شیرینی اور فلمی موسیقی کی ضرورتوں کو ایک ساتھ برتنے والے حسرت جے پوری نے اپنی زندگی کا بڑا حصہ شاعری اور فلمی نغمہ نگاری کے لیے وقف کیا۔ ان کے لکھے نغموں میں محبت، انتظار، خوشی، اداسی اور زندگی کے مختلف رنگ اس سادگی سے جلوہ گر ہوتے ہیں کہ وہ کئی نسلوں کے سامعین کے دلوں تک پہنچ گئے۔

ہندوستان کی فلمی موسیقی کے سنہری دور میں جب بھی ٹائٹل گیتوں کا ذکر ہوتا ہے، حسرت جے پوری کا نام نمایاں طور پر سامنے آتا ہے۔ اگرچہ انہوں نے ہر طرح کے گیت لکھے، لیکن فلموں کے عنوان سے جڑے گیت (ٹائٹل سانگ) لکھنے میں انہیں خاص مہارت حاصل تھی۔ تقریباً 5 دہائیوں پر محیط فلمی سفر کے دوران انہوں نے ایسے بے شمار نغمے تخلیق کیے جو آج بھی ہندوستانی فلمی موسیقی کے سنہری دور کی شناخت سمجھے جاتے ہیں۔

ان کی سب سے بڑی خوبی یہ تھی کہ وہ مشکل اور گہرے جذبات کو بھی آسان، دلکش اور گیت کے قابل الفاظ میں ڈھال دیتے تھے۔ ان کی نغمہ نگاری میں سادگی بنیادی وصف تھی۔ ان کے گیت سننے والے کو یہ احساس دلاتے ہیں کہ پیچیدہ احساسات کو بھی عام فہم زبان میں نہایت خوبصورتی سے بیان کیا جا سکتا ہے۔ ان کے رومانی گیتوں میں محبت کا اظہار عموماً نرم، شائستہ اور دل کو چھو لینے والے انداز میں ہوتا ہے، یہی وجہ ہے کہ ان کے نغمے وقت گزرنے کے باوجود مقبول رہے۔

حسرت جے پوری کے قلم سے نکلے کئی یادگار ٹائٹل گیت فلمی موسیقی کی تاریخ کا حصہ بن چکے ہیں۔ ان میں ’دیوانہ مجھ کو لوگ کہیں‘ (دیوانہ)، ’دل ایک مندر ہے‘ (دل ایک مندر)، ’رات اور دن دیا جلے‘ (رات اور دن)، ’تیرے گھر کے سامنے ایک گھر بناؤں گا‘ (تیرے گھر کے سامنے)، ’این ایوننگ ان پیرس‘ (این ایوننگ ان پیرس)، ’گمنام ہے کوئی‘ (گمنام) اور ’دو جاسوس کریں محسوس‘ (دو جاسوس) قابل ذکر ہیں۔


حسرت جے پوری کا اصل نام اقبال حسین تھا۔ وہ 15 اپریل 1922 کو پیدا ہوئے۔ جے پور میں ابتدائی تعلیم حاصل کرنے کے بعد انہوں نے اپنے دادا فدا حسین سے اردو اور فارسی کی تعلیم حاصل کی۔ تقریباً 20 برس کی عمر تک پہنچتے پہنچتے ان کا رجحان شاعری کی جانب بڑھ گیا اور وہ چھوٹی چھوٹی غزلیں لکھنے لگے۔

1940 میں روزگار کی تلاش میں حسرت جے پوری نے ممبئی کا رخ کیا اور وہاں بس کنڈکٹر کی ملازمت اختیار کر لی۔ اس وقت انہیں 11 روپے ماہانہ تنخواہ ملتی تھی۔ ملازمت کے ساتھ انہوں نے مشاعروں میں شرکت شروع کی۔ ایک مشاعرے میں پرتھوی راج کپور ان کی شاعری سے متاثر ہوئے اور انہوں نے اپنے بیٹے راج کپور کو حسرت جے پوری سے ملنے کا مشورہ دیا۔

راج کپور ان دنوں اپنی فلم ’برسات‘ کے لیے نغمہ نگار کی تلاش میں تھے۔ انہوں نے حسرت جے پوری کو ملاقات کے لیے بلایا۔ دونوں کی پہلی ملاقات رائل اوپیرا ہاؤس میں ہوئی، جہاں راج کپور نے اپنی فلم کے لیے گیت لکھنے کی فرمائش کی۔ اتفاق کی بات ہے کہ ’برسات‘ ہی وہ فلم تھی جس سے موسیقار جوڑی شنکر جے کشن کے فلمی سفر کا بھی آغاز ہوا۔

راج کپور کے کہنے پر شنکر جے کشن نے حسرت جے پوری کو ایک دھن سنائی اور اس پر گیت لکھنے کو کہا۔ دھن کے مطابق حسرت جے پوری نے ’جیا بے قرار ہے، چھائی بہار ہے، آجا مورے بالما تیرا انتظار ہے‘ لکھا۔ 1949 میں ریلیز ہونے والی ’برسات‘ میں یہ گیت مقبول ہوا اور حسرت جے پوری کو فلمی دنیا میں اپنی شناخت بنانے کا موقع ملا۔


اس کے بعد راج کپور، حسرت جے پوری اور شنکر جے کشن کی معروف تخلیقی مثلث نے کئی کامیاب فلموں کو یادگار نغمے دیے۔ راج کپور کے ساتھ حسرت جے پوری کی وابستگی 1971 تک قائم رہی۔ جے کشن کے انتقال کے بعد راج کپور نے اپنی فلموں کے لیے دیگر نغمہ نگاروں کے ساتھ بھی کام کیا۔ بعد میں ’رام تیری گنگا میلی‘ میں حسرت جے پوری کا لکھا ’سن صاحبہ سن‘ بھی خاصا مقبول ہوا۔

ان کے گیتوں میں محبت محض ایک موضوع نہیں بلکہ ایک مکمل احساس بن کر سامنے آتی ہے۔ ’بہاروں پھول برساؤ‘، ’یہ میرا پریم پتر پڑھ کر‘، ’احسان تیرا ہوگا مجھ پر‘ اور ’زندگی ایک سفر ہے سہانا‘ جیسے نغمے آج بھی ان کے نام کے ساتھ فوراً یاد آتے ہیں۔

حسرت جے پوری کو دو مرتبہ فلم فیئر ایوارڈ سے نوازا گیا۔ انہیں دیگر اعزازات بھی ملے، جن میں مختلف ادبی اور فلمی اداروں کی جانب سے دیے گئے اعزازات شامل ہیں۔ فلم ’میرے حضور‘ کے گیت ’جھنجھک جھنجھک تیری باجے پائل‘ کے لیے بھی انہیں اعزاز سے نوازا گیا۔

حسرت جے پوری نے 300 سے زائد فلموں کے لیے تقریباً 2000 نغمے لکھے۔ 17 ستمبر 1999 کو یہ عظیم نغمہ نگار دنیا سے رخصت ہوگیا، لیکن جاتے جاتے اپنے مداحوں کے لیے اپنے ہی ایک نغمے کے یہ بول چھوڑ گیا: ’تم مجھے یوں بھلا نہ پاؤ گے، جب کبھی بھی سنو گے گیت میرے، سنگ سنگ تم بھی گنگناؤ گے۔‘

(ان پٹ: یو این آئی)

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔