شکیل بدایونی: محبت، درد اور روحانیت کو لازوال نغموں میں ڈھالنے والا شاعر

شکیل بدایونی نے اردو شاعری کی لطافت کو فلمی نغموں میں ایسی دلکشی عطا کی کہ ان کے گیت آج بھی زندہ ہیں۔ یومِ پیدائش پر ان کی ادبی، فلمی اور تخلیقی خدمات کا ایک مختصر جائزہ

<div class="paragraphs"><p>شکیل بدایونی / سوشل میڈیا</p></div>
i

اردو شاعری اور ہندوستانی فلمی موسیقی کی تاریخ میں شکیل بدایونی کا نام ایک ایسی درخشاں شخصیت کے طور پر لیا جاتا ہے جس نے محبت، درد، حسن، وفا اور روحانیت جیسے جذبات کو ایسے دل نشیں الفاظ عطا کیے جو نسل در نسل لوگوں کے دلوں میں زندہ ہیں۔ ان کے قلم سے نکلے ہوئے نغمے صرف فلمی گیت نہیں بلکہ انسانی احساسات کی ترجمانی ہیں۔ ’چودھویں کا چاند ہو یا آفتاب ہو‘، ’سہانی رات ڈھل چکی‘، ’افسانہ لکھ رہی ہوں دلِ بے قرار کا‘ اور ’من تڑپت ہری درشن کو آج‘ جیسے شاہکار نغمے آج بھی موسیقی کے سنہری دور کی شناخت سمجھے جاتے ہیں۔

شکیل بدایونی، جن کا اصل نام شکیل احمد تھا، 3 اگست 1916 کو اتر پردیش کے تاریخی شہر بدایوں میں ایک مذہبی اور علمی گھرانے میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد جمیل احمد سوختہ قادری دینی علوم سے وابستہ تھے، اسی لیے شکیل کی ابتدائی تعلیم بھی اسلامی ماحول میں ہوئی۔ بعد ازاں انہوں نے اردو، فارسی اور عربی کی باقاعدہ تعلیم حاصل کی اور مسٹن اسلامیہ ہائی اسکول سے تعلیم مکمل کرنے کے بعد 1932 میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں داخلہ لیا۔

علی گڑھ میں ان کی شاعرانہ صلاحیتوں کو نئی جِلا ملی۔ وہ مسلسل بین الجامعاتی مشاعروں میں شریک ہوئے اور اپنی منفرد شاعری کے باعث نمایاں مقام حاصل کیا۔ اسی دور میں ان کی ملاقات جگر مرادآبادی سے ہوئی، جنہوں نے ان کی ادبی شخصیت کی آبیاری میں اہم کردار ادا کیا۔


تعلیم مکمل کرنے کے بعد شکیل نے 1942 میں دہلی میں مرکزی حکومت کے محکمۂ سپلائی میں ملازمت اختیار کی، لیکن شاعری ان کی اصل شناخت تھی۔ 1946 میں ایک مشاعرے کے سلسلے میں بمبئی (موجودہ ممبئی) پہنچے، جہاں معروف فلم ساز اے آر کاردار نے ان کا کلام سنا اور فلمی دنیا میں آنے کی دعوت دی۔ موسیقار نوشاد نے ان کی صلاحیت کو فوراً پہچان لیا اور ان سے ’ہم درد کا افسانہ دنیا کو سنا دیں گے‘ جیسا گیت لکھوایا، جس کے بعد انہیں فلم درد کے لیے نغمہ نگار کے طور پر منتخب کر لیا گیا۔

1947 میں ریلیز ہونے والی فلم درد کا نغمہ ’افسانہ لکھ رہی ہوں دلِ بے قرار کا‘ غیر معمولی مقبول ہوا اور شکیل بدایونی راتوں رات فلمی دنیا کے صفِ اول کے نغمہ نگاروں میں شمار ہونے لگے۔ اس کامیابی کے بعد انہوں نے کبھی پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔

شکیل بدایونی نے سو سے زائد فلموں کے لیے اردو، ہندی اور پوربی زبانوں میں دو سو سے زیادہ نغمے تخلیق کیے۔ نوشاد کے ساتھ ان کی تخلیقی رفاقت ہندوستانی فلمی موسیقی کی تاریخ کی کامیاب ترین شراکت داریوں میں شمار کی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ انہوں نے روی، ہیمنت کمار، ایس ڈی برمن اور سی رام چندر جیسے ممتاز موسیقاروں کے ساتھ بھی یادگار کام کیا۔

ان کے گیتوں کو محمد رفیع، لتا منگیشکر، آشا بھوسلے، مکیش، طلعت محمود، شمشاد بیگم، ثریا، مہندر کپور اور گیتا دت جیسے عظیم گلوکاروں نے اپنی آواز دی۔ دلاری، دیدار، مدر انڈیا، مغلِ اعظم، چودھویں کا چاند، گنگا جمنا، صاحب بی بی اور غلام، میرے محبوب اور دو بدن جیسی فلموں کے نغمے آج بھی موسیقی کے شائقین کے لیے سرمایۂ افتخار ہیں۔


شکیل بدایونی کی شاعری کی سب سے بڑی خصوصیت اس کی سادگی، روانی اور خلوص ہے۔ ان کے یہاں محبت صرف رومان تک محدود نہیں بلکہ انسانی رشتوں، روحانی وابستگی اور تہذیبی اقدار کی بھی نمائندگی کرتی ہے۔ وہ خود اپنی شاعری کے بارے میں کہتے ہیں:

میں شکیل دل کا ہوں ترجماں کہ محبتوں کا ہوں رازداں

مجھے فخر ہے مری شاعری مری زندگی سے جدا نہیں

ان کی ادبی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے انہیں تین مرتبہ فلم فیئر ایوارڈ سے نوازا گیا۔ 1961 میں فلم چودھویں کا چاند کے عنوانی نغمے، 1962 میں گھرانہ کے گیت ’حسن والے تیرا جواب نہیں‘ اور 1963 میں فلم بیس سال بعد کے لازوال نغمے ’کہیں دیپ جلے کہیں دل‘ پر انہیں بہترین نغمہ نگار کا اعزاز ملا۔

شاعری کے ساتھ ساتھ شکیل بدایونی کو بیڈمنٹن اور پتنگ بازی کا بھی بے حد شوق تھا۔ دوستوں کے ساتھ پکنک اور کھیل کود ان کی پسندیدہ مصروفیات میں شامل تھیں، جبکہ نوشاد، محمد رفیع اور جانی واکر بھی اکثر ان کے ہمراہ پتنگ بازی میں شریک ہوتے تھے۔

فلمی نغموں کے علاوہ ان کے شعری مجموعے غمِ فردوس، صنم و حرم، رعنائیاں، رنگینیاں اور شبستاں شائع ہوئے۔ ان کی کلیات بھی ان کی زندگی ہی میں منظرِ عام پر آ گئی تھی، جبکہ ان کی خودنوشت 1969 میں مکمل ہونے کے باوجود 2014 میں شائع ہوئی۔ شکیل بدایونی کا محض 53 برس کی عمر میں 20 اپریل 1971 کو ممبئی میں انتقال ہوا۔ اور وہیں دفن ہوئے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔