حمیدہ بانو: برصغیر کی فلمی موسیقی کی بھولی بسری آواز

حمیدہ بانو تقسیم سے پہلے کی فلمی گائیکی کی باصلاحیت فراموش شدہ آواز تھیں۔ لاہور میں پیدا ہوئیں، پرتھوی راج تھیٹر سے سفر شروع کیا، مکیش کے ساتھ گیت گائے اور پاکستان میں ریڈیو و ٹیلی وژن سے وابستہ رہیں

<div class="paragraphs"><p>تصویر اے آئی</p></div>
i

انیس اکتوبر حمیدہ بانو کی سالگرہ ہے۔ تقسیم سے پہلے کے ہندوستانی سنیما میں کئی ایسی آوازیں ابھریں جن کے نام وقت کے ساتھ دھندلا گئے۔ حمیدہ بانو بھی انہی فنکاروں میں شامل ہیں۔ انہوں نے فلمی گیت، غزلیں اور تھیٹر کے لیے گائیکی کی، مگر آج ان کا ذکر کم سنائی دیتا ہے۔ ان کی زندگی لاہور، بمبئی، کلکتہ اور پاکستان سے جڑی ہوئی تھی؛ اس سفر میں کامیابی کے ساتھ محرومی، ہجرت اور بدلتے زمانے کی آزمائشیں بھی شامل رہیں۔

حمیدہ بانو 19 اکتوبر 1928 کو لاہور میں پیدا ہوئیں۔ انہیں اور ان کی بہن کو بچپن ہی سے گانے کا شوق تھا۔ ایک جاننے والے کے مشورے پر خاندان فلموں میں قسمت آزمانے بمبئی چلا آیا، لیکن وہاں کام نہ ملا۔ پھر کلکتہ جانے کا مشورہ ملا، جہاں تھیٹر میں مواقع کی امید تھی۔ خاندان کے پاس سفر کے اخراجات بھی پورے نہیں تھے؛ کلکتہ پہنچنے کے بعد انہیں دو دن تک بھوکا رہنا پڑا۔

کلکتہ میں کچھ عرصے بعد دونوں بہنوں کو پرتھوی راج تھیٹر میں کام مل گیا۔ ابتدا میں وہ کورس میں گاتی تھیں۔ پرتھوی راج کپور کو حمیدہ کی آواز پسند آئی تو انہوں نے انہیں سولو گانے کا موقع دیا۔ یوں حمیدہ اسٹیج پر نمایاں ہوئیں اور گائیکی کے ساتھ اداکاری بھی کرنے لگیں۔ روایت کے مطابق راج کپور نے انہیں اداکاری جاری رکھنے کا مشورہ دیا تھا۔ حمیدہ نے پرتھوی راج کپور کے ساتھ متعدد ڈراموں میں کام کیا، جن میں کچھ آغا حشر کاشمیری کے ڈراموں پر مبنی تھے۔ اس دور میں پرتھوی راج ہیرو اور حمیدہ بانو ہیروئن کے کردار ادا کرتی تھیں۔ ایک ڈرامے میں راج کپور اور ششی کپور نے حمیدہ کے چھوٹے بھائیوں کے کردار نبھائے۔

بعد ازاں حمیدہ بمبئی واپس آئیں اور فلموں میں کام تلاش کیا۔ اداکار بھگوان دادا نے ہدایت کار سی۔ رام چندر سے ان کی سفارش کی، جس کے بعد انہیں فلمی گائیکی کے مواقع ملے۔ فلم ’سنجوگ‘ میں نوشاد کی موسیقی پر ان کا گایا ہوا ’کون گلی کا چھورا پکارے‘ ان کے نمایاں ابتدائی گیتوں میں شمار ہوتا ہے۔ اس کے بعد انہوں نے ’رونق‘، ’نغمۂ صحرا‘، ’امر راج‘، ’دنیا ایک سرائے‘، ’زیورات‘، ’چور‘ اور ’راجپوت‘ سمیت متعدد فلموں کے لیے گایا۔


ان کے یادگار گیتوں میں فلم ’نیک پروین‘ کا ’تیری ذات پاک ہے اے خدا‘ اور ’چین لے آزادی‘ کا ’چمپا کلی ہے اداس‘ شامل ہیں۔ مکیش کے ساتھ ان کے دو گیت، ’جا پروانے جا، کہاں شمع جل رہی ہے‘ اور ’بدریا برس گئی ہم پر‘، پرانے فلمی گیتوں کے شائقین میں آج بھی یاد کیے جاتے ہیں۔ دوسرا گیت فلم ’مورتی‘ میں مکیش اور خورشید بیگم کے ساتھ ریکارڈ ہوا تھا۔ 1945 میں فلم ’میں کیا کروں‘ کے لیے ثریا کے ساتھ ان کا گیت بھی قابل ذکر ہے۔ بعد میں انہوں نے ’پرائی آگ‘ میں ’کچھ بھی نہ کہا‘ گایا اور ’راجپوت‘ میں گیتا دت کے ساتھ آواز ملائی۔ فلم ’بکھرے موتی‘ میں غلام محمد کی موسیقی پر ان کا گایا ’دونوں ہیں مجبور پیارے‘ بھی ان کے فلمی کام میں شامل ہے۔

حمیدہ بانو پاکستان منتقل ہو گئیں۔ انہوں نے ریڈیو لاہور سے وابستگی اختیار کی اور بعد میں پاکستان ٹیلی وژن کے موسیقی کے پروگراموں میں بھی گایا۔ ان کا آخری فلمی پلے بیک کام 1954 کی فلم ’مجبوری‘ بتایا جاتا ہے، جس کی موسیقی رابن چٹرجی نے ترتیب دی تھی۔ 1967 میں انہوں نے فلم ’پیار کی بازی‘ اور 1971 میں ’گہرا راز‘ کی تیاری میں بطور پروڈیوسر حصہ لیا۔ بعد کے برسوں میں کام سے کنارہ کش ہو کر وہ اپنے بیٹے کے ساتھ لاہور میں رہنے لگیں۔ 9 نومبر 2006 کو لاہور میں ان کا انتقال ہوا۔

حمیدہ بانو کی کہانی چند مشہور گیتوں کی فہرست سے بڑھ کر ایک ایسی فنکارہ کا احوال ہے جس نے نامساعد حالات میں اپنا راستہ بنایا۔ تھیٹر سے فلموں تک اور ہندوستان سے پاکستان تک، ان کی زندگی برصغیر کی بدلتی ثقافتی تاریخ سے جڑی رہی۔ ان کے گیت محفوظ ہیں، مگر ان کا تعارف نئی نسل تک پہنچانے کی ضرورت ہے۔ انیس اکتوبر ہمیں یاد دلاتی ہے کہ فلمی موسیقی کی تاریخ صرف مقبول ترین آوازوں سے نہیں بنتی؛ ان گلوکاراؤں کی آوازیں بھی اس کا حصہ ہیں جنہیں وقت نے پس منظر میں دھکیل دیا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔