’آواز دے کہاں ہے، دنیا میری جواں ہے‘، نورجہاں کی آواز آج بھی دلوں میں زندہ
21 ستمبر کو نورجہاں کی یومِ پیدائش پر ان کے شاندار فنی سفر کی یاد تازہ، بچپن کی اداکاری سے ملکہ ترنم بننے تک کا سفر اور ایسی آواز کا ذکر جو آج بھی برصغیر کے دلوں میں گونجتی ہے

برصغیر کی موسیقی اور فلمی دنیا میں اگر کسی آواز کو لازوال کہا جائے تو ملکہ ترنم نورجہاں کا نام سب سے نمایاں ہے۔ ان کی آواز میں ایک ایسی کشش، درد، مٹھاس اور تاثیر تھی جس نے کئی نسلوں کے دلوں پر حکمرانی کی۔ 21 ستمبر کو ان کی یوم پیدائش کے موقع پر ان کا شاندار فنی سفر ایک بار پھر یاد آتا ہے۔
نورجہاں، جن کا اصل نام اللہ وسائی تھا، 21 ستمبر 1926 کو پنجاب کے قصبے قصور کے ایک متوسط گھرانے میں پیدا ہوئیں۔ کہا جاتا ہے کہ پیدائش کے وقت ان کی خالہ نے نومولود کے رونے کی آواز سن کر کہا تھا کہ اس بچے کے رونے میں بھی موسیقی ہے۔ ان کے والدین تھیٹر سے وابستہ تھے، اس لیے گھر کا ماحول بھی موسیقی اور فنونِ لطیفہ سے قریب تھا۔
نورجہاں نے کم عمری ہی میں موسیقی کی جانب اپنی غیر معمولی صلاحیت کا مظاہرہ کیا۔ ان کی والدہ نے اس رجحان کو محسوس کرتے ہوئے گھر پر موسیقی کی تعلیم کا انتظام کیا۔ انہوں نے موسیقی کی ابتدائی تربیت کجن بائی سے حاصل کی، جبکہ کلاسیکی موسیقی کی تعلیم استاد غلام محمد اور استاد بڑے غلام علی خان سے حاصل کی۔
1930 میں نورجہاں نے ’ہند کے تارے‘ نامی خاموش فلم سے بطور چائلڈ آرٹسٹ فلمی دنیا میں قدم رکھا۔ بعد ازاں ان کا خاندان کلکتہ منتقل ہو گیا، جہاں انہوں نے متعدد خاموش فلموں میں اداکاری کی۔ 1932 میں ریلیز ہونے والی فلم ’ششی پنوں‘ ان کے ابتدائی ٹاکی فلمی سفر کی اہم کڑی ثابت ہوئی۔
کلکتہ میں فلم پروڈیوسر پنچولی سے ملاقات نے ان کے کیریئر کو نیا رخ دیا۔ پنچولی نے انہیں فلم ’گل بکاولی‘ میں کام کرنے کا موقع دیا۔ اسی فلم کے لیے نورجہاں نے اپنے ابتدائی گیت ریکارڈ کرائے۔ 1939 میں ’گل بکاولی‘ کی کامیابی نے انہیں فلمی دنیا میں نمایاں مقام دلایا۔
لاہور واپسی پر ان کی ملاقات موسیقار جی اے چشتی سے ہوئی، جنہوں نے انہیں اسٹیج پر گانے کا موقع دیا۔ اس وقت نورجہاں کو فی گانا ساڑھے سات آنے معاوضہ ملتا تھا، جو اس زمانے میں خاصی رقم سمجھی جاتی تھی۔ 1942 میں فلم ’خاندان‘ نے نورجہاں کو اداکارہ اور گلوکارہ، دونوں حیثیتوں سے شہرت کی بلندیوں تک پہنچایا۔ اس فلم کی کامیابی کے بعد انہوں نے اس کے ہدایت کار شوکت حسین سے شادی کی اور ممبئی منتقل ہو گئیں۔ یہاں انہوں نے ’نوکر‘ اور ’جگنو‘ سمیت متعدد فلموں میں کام کیا۔
1940 کی دہائی میں نورجہاں کی آواز نے ہندوستانی فلمی موسیقی میں اپنی الگ شناخت بنالی۔ ’دہائی‘، ’دوست‘، ’بڑی ماں‘، ’ولیج گرل‘ اور ’زینت‘ جیسی فلموں نے ان کی شہرت میں اضافہ کیا۔ فلم ’زینت‘ کی قوالی ’آہیں نہ بھریں، شکوے نہ کیے‘ بھی بے حد مقبول ہوئی۔
1946 میں محبوب خان کی فلم ’انمول گھڑی‘ نورجہاں کے فلمی سفر کا ایک اور یادگار سنگ میل ثابت ہوئی۔ نوشاد کی موسیقی میں ان کے گائے ہوئے ’آواز دے کہاں ہے‘، ’آجا میری برباد محبت کے سہارے‘ اور ’جواں ہے محبت‘ جیسے گیت آج بھی کلاسیکی فلمی موسیقی کا حصہ سمجھے جاتے ہیں۔
1947 میں تقسیم ہند کے بعد نورجہاں نے پاکستان منتقل ہونے کا فیصلہ کیا۔ وہاں بھی انہوں نے اداکاری اور گلوکاری کا سلسلہ جاری رکھا۔ ’چن وے‘ کی پروڈیوسر اور ہدایت کار کی حیثیت سے کامیابی کے بعد 1952 میں ’دوپٹہ‘ ریلیز ہوئی، جس نے ان کی مقبولیت کو نئی بلندی دی۔ ان فلموں کے گیت ہندوستان سمیت برصغیر کے مختلف حصوں میں بے حد مقبول ہوئے اور آل انڈیا ریڈیو سے ریڈیو سیلون تک ان کی آواز سنائی دیتی رہی۔
نورجہاں نے ’گلنار‘، ’فتح خان‘، ’لخت جگر‘، ’انتظار‘، ’انارکلی‘، ’پردیسیاں‘، ’کوئل‘ اور ’مرزا غالب‘ سمیت کئی فلموں میں اپنی آواز اور اداکاری کا جادو جگایا۔ 1963 میں انہوں نے اداکاری سے کنارہ کشی اختیار کر لی، لیکن گائیکی کا سفر جاری رکھا۔ 1966 میں حکومت پاکستان نے انہیں تمغۂ امتیاز سے نوازا۔
1982 میں ہندوستانی فلمی دنیا کی گولڈن جوبلی تقریب میں نورجہاں کو خصوصی طور پر ہندوستان مدعو کیا گیا۔ حاضرین کے اصرار پر انہوں نے ’آواز دے کہاں ہے، دنیا میری جواں ہے‘ پیش کیا۔ یہ لمحہ دونوں ملکوں کے موسیقی سے وابستہ لوگوں کے لیے یادگار بن گیا۔ نورجہاں نے ہندی، اردو کے علاوہ پنجابی اور سندھی زبانوں میں بھی بے شمار گیت گائے۔ 1996 میں پنجابی فلم ’سکھی بادشاہ‘ کے لیے گایا گیا ’کی دم دا بھروسہ‘ ان کا آخری فلمی گیت قرار دیا جاتا ہے۔
23 دسمبر 2000 کو نورجہاں اس دنیا سے رخصت ہوگئیں، لیکن ان کی آواز آج بھی زندہ ہے۔ ان کے گائے ہوئے گیت صرف فلمی موسیقی کا سرمایہ نہیں بلکہ برصغیر کی مشترکہ تہذیبی اور موسیقی کی میراث کا حصہ ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ نورجہاں کو آج بھی ملکہ ترنم کہا جاتا ہے اور ان کی آواز سننے والوں کے دلوں میں پہلے کی طرح گونجتی ہے۔
(ان پٹ: یو این آئی)
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
