کیفی اعظمی کی 101ویں یوم پیدائش پر ’گوگل‘ نے بنایا ’ڈوڈل‘

عشقیہ نظموں سے لے کر بالی ووڈ نغمے اور اسکرپٹ رائٹنگ میں بھی مہارت رکھنے والے کیفی اعظمی 20 ویں صدی کے سب سے زیادہ مقبول شاعروں میں سے ایک تھے

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

قومی آوازبیورو

آج مشہور ہندوستانی شاعر، نغمہ نگار اور کارکن کیفی اعظمی کی 101 ویں یوم پیدائش ہے، گوگل نے ڈوڈل کے ذریعے ملک کے معروف شاعر اور نغمہ نگار کیفی اعظمی کی 101 ویں یوم پیدائش منا رہا ہے، گوگل نے آج اپنا ڈوڈل کیفی اعظمی کے نام کیا ہے اور انہیں ڈوڈل کے ذریعے یاد کیا ہے، دراصل، گوگل اکثر معاشرے میں اپنا تعاون دینے والے لوگوں کو اپنے ڈڈول کے ذریعے یاد کرتا ہے اور ان کی جینتی اور برسی پر ڈوڈل بناتا ہے۔

ہندی فلمی دنیا کے مشہور شاعر اور نغمہ نگار کیفی اعظمی کی شاعرانہ صلاحیت بچپن کے دنوں سے ہی دکھائی دینے لگی تھی، محبت پر نظموں سے لے کر بالی ووڈ گانے، نغمے اور اسکرپٹ لکھنے میں مہارت رکھنے والے کیفی اعظمی 20 ویں صدی کے سب سے زیادہ مشہور شاعروں میں سے ایک تھے، اتر پردیش میں اعظم گڑھ ضلع کے مجواں گاؤں میں 14 جنوری 1919 کو پیدا ہوئے سید اطہر حسین رضوی عرف کیفی اعظمی نے اپنی پہلی غزل محض 11 سال کی عمر میں لکھ دی تھی، کیفی اعظمی اس وقت 1942 میں ہوئے مہاتما گاندھی کے بھارت چھوڑا تحریک سے کافی زیادہ متاثر تھے اور بعد میں اردو اخبار میں لکھنے کے لئے وہ ممبئی چلے گئے۔

کیفی اعظمی کو فلم انڈسٹری میں اردو ادب کو فروغ دینے کے لئے بھی جانا جاتا ہے، پاکیزہ کے ساؤنڈ ٹریکس چلتے چلتے، فلم ارتھ سے کوئی یہ کیسی بتائے، یہ دنیا یہ محفل اور ان کی تحریر کردہ نظمیں اردو زبان اور انگریزی زبان میں قابل ذکر شراکت کے طور پر یاد کی جاتی ہیں۔

اتر پردیش میں اعظم گڑھ ضلع کے مجواں گاؤں میں 14 جنوری 1919 کو پیدا ہوئے سید اطہر حسین رضوی عرف کیفی اعظمی کے والد زمیندار تھے، ان کے والد حسین انہیں بلند سے بلند تعلیم دینا چاہتے تھے اور اسی مقصد سے انہوں نے ان کا داخلہ لکھنؤ کے مشہور مدرسہ سلطان المدارس میں کرایا تھا، کیفی اعظمی کے اندر کا شاعر بچپن سے ہی زندہ تھا، محض 11 سال کی عمر سے ہی کیفی اعظمی نے مشاعروں میں حصہ لینا شروع کر دیا تھا جہاں انہیں کافی داد و تحسین ملا کرتی تھی۔

سال 1942 میں کیفی اعظمی اردو اور فارسی کی اعلی تعلیم کے لیے لکھنؤ اور الہ آباد بھیجے گئے لیکن کیفی نے کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا کی رکنیت حاصل کرکے پارٹی کارکن کے طور پر کام کرنا شروع کر دیا اور پھر ہندوستان چھوڑو تحریک میں شامل ہو گئے۔ بتا دیں کہ کیفی اعظمی کو بعد میں کئی ایوارڈز سے نوازا گیا، انہیں 3 فلم فیئر ایوارڈ، ادب اور تعلیم کے لئے ممتاز پدم شری ایوارڈ بھی مل چکا ہے۔