فلم ریویو: رنویر سنگھ اور سارہ علی خان کی ’سِمبا‘، روہت شیٹی کے گھسے پٹے انداز

اگر آپ ہلکی پھلکی بچکانہ فلم دیکھنے کے موڈ میں ہیں تو ’سمبا‘ ایک بار دیکھنے لائق ہے، حالانکہ رنویر سنگھ کو بطور اداکار کافی کچھ حاصل کرنا ہے لہذا انہیں کرداروں کے دوہراؤ بچنا چاہئے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

پرگتی سکسینہ

اگر فلم میں رنویر سنگھ جیسا ’پرفارمر‘ ہو اور روہت شیٹی جیسا ہدایت کار تو آپ ایک لاؤڈ ’کیسریا‘ رنگ میں رنگی ایکشن فلم کے علاوہ اور کیا امید کر سکتے ہیں۔ ویسے روہت شیٹی کے کیسریا اور لال رنگ سے دلچسپی کے پیچھے کیا راز ہے... یہ آج تک کسی کو سمجھ نہیں آیا۔ ’سمبا‘ کی شروعات میں کیسریا رنگ اتنا زیادہ دکھائی دیتا ہے کہ چڑچڑاہٹ ہونے لگتی ہے۔ اور پھر ایک بدعنوان لیکن کیوٹ مراٹھی پولس افسر کے پس منظر میں شیواجی کی مورتی دکھانا تو کچھ زیادہ ہی ہو گیا۔

بہر حال، رنویر سنگھ کیمرے کے سامنے اب اتنے بہترین ہو گئے ہیں کہ آپ کو بھی تقریباً احساس ہونے لگتا ہے کہ رنویر سنگھ مزے میں کردار نبھا رہے ہیں۔ جیسا کہ ہم سب روہت شیٹی کی فلموں کی کہانی سے واقف ہیں، ٹھیک اسی طرح سمبا کی بھی کہانی بہت سہل ہے۔ وہ ایک بدعنوان حالانکہ اچھے دل والا پولس افسر ہے۔ لیکن اس کی زندگی اس وقت بدل جاتی ہے جب اس بدعنوانی کا شکار اس کے اپنے لوگ ہونے لگتے ہیں۔ اس کے بعد وہ اچھا اور ایماندار پولس افسر بن جاتا ہے۔

بے شک فلم میں روہت شیٹی کے مشہور فلمی کردار ایماندار پولس افسر سنگھم یعنی اجے دیوگن کو بھی اپنے چھوٹے سے کردار میں خوب تالیاں ملتی ہیں، لیکن دماغ میں یہ سوال کوندھتا رہتا ہے کہ اصل میں ایسے سپر ہیرو پولس والے آخر ہیں کہاں؟ ہم عام لوگ کب خوشی سے وہ کہہ سکیں گے جو سمبا میں لگاتار پیچھے سے بجتا رہتا ہے... آیا پولس!

آخر میں فلم میں ایک سرپرائز ایلیمنٹ کے طور پر اکشے کمار بھی موجود ہیں۔ اب آپ امید کر سکتے ہیں کہ 2019 میں سنگھم کی اگلی کڑی میں اکشے کمار پولس افسر سوریہ ونشی کے کردار میں دکھائی دیں گے۔ ایسے وقت میں جب کہ اتر پردیش پولس کے ’انکاؤنٹر‘ تنازعات کے گھیرے میں ہیں اور پولس والوں کے ذریعہ تصادم کے دوران منھ سے ’ٹھائیں ٹھائیں‘ کی آواز نکالنے والا ایک مضحکہ خیز ویڈیو سوشل میڈیا پر خوب وائرل ہوا، یہ فلم پولس انکاؤنٹر کو طویل قانونی عمل کے بہ نسبت بہتر ثابت کرتی دکھائی دیتی ہے جو اپنے آپ میں افسوسناک ہے۔ کاش انصاف پانا اور انصاف کرنا اتنا آسان ہوتا۔

بہر حال، کچھ طنزیہ ڈائیلاگ، کچھ مزاحیہ ماحول اور اثردار ایکشن سیکوئنس روہت شیٹی کی فلموں کی خاصیت رہے ہیں اور سمبا بھی ان سے الگ نہیں۔ لیکن بار بار ایک ہی چیز دیکھتے ہوئے اب بوریت ہونے لگی ہے۔

مجموعی طور پر ’سمبا‘ روہت شیٹی کی نوٹنکی نما پچھلی فلموں کی طرح ایک اوسط انٹرٹینر ہے۔ ’سمبا‘ بے شک باکس آفس پر کمائی کر جائے گی، لیکن بدقسمتی سے روہت شیٹی بطور ہدایت کار کوئی نیا کھیل، نیا انداز نہیں دکھا پائے ہیں۔ ایک ہدایت کار کی شکل میں وہ آج بھی وہیں ہیں جہاں سے انھوں نے اپنا سفر شروع کیا تھا۔ وہ ہدایت کار کم ایک پروڈکٹ ساز زیادہ ثابت ہوتے ہیں۔

ہاں، لیکن ایک اداکار جس کا ذکر ضرور کرنا چاہیے، وہ ہیں سونو سود۔ اسکرین پر جب بھی رنویر کے ساتھ دکھائی پڑتے ہیں، رنویر پھیکے پڑ جاتے ہیں۔ فلم میں سارہ علی خان کے لیے کچھ خاص کرنے کو ہے نہیں، لیکن وہ خوبصورت اور پراعتماد ہیں۔ ایک نئی اداکارہ کے لیے یہ ایک بہت اہم خوبی اور کامیابی ہے۔

گویا کہ ’سمبا‘ بس ایک بار دیکھنے لائق فلم ہے۔ وہ بھی اگر آپ ہلکی پھلکی بچکانا فلم دیکھنے کے موڈ میں ہوں تو۔ رنویر سنگھ کو اس طرح کی اسٹیریو ٹائپ فلموں اور کرداروں سے بچنا چاہیے اور دوسرے زیادہ چیلنجز کردار منتخب کرنے چاہیے۔ ابھی ایک اداکار کے طور پر انھیں بہت کچھ حاصل کرنا ہے۔

Published: 29 Dec 2018, 10:09 AM